سال کے آخر میں لاپتہ افراد اورمسخ لاشوں کی مکمل فہرست جاری کرینگے۔ نصراللہ بلوچ

ہفتہ 18 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اورسابقہ حکومت میں بالکل واضح فرق موجود ہے سابقہ حکومت کے دور میں لوگوں کو جب اٹھایا جاتا تھا اور بعد میں جب ان کی لاشیں ملتی تھی تو وہ شناخت کے قابل ہوتی تھی اور ان کے جیب سے پرچی ملتی تھی کہ فلان شخص کی لاش ہے مگر موجودہ حکومت کے دور میں جن لوگوں کو اٹھایا تھا بعد میں ان کی لاشیں شناخت کے قابل نہیں ہوتی انہوںنے دعویٰ کیا اس حکومت کے دور میں ابھی تک 400افراد لاپتہ ہے اور 150افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہے سابقہ دور حکومت اور اس دور حکومت میں بھی خفیہ ایجنسیوں کی حکومت تھی اور اب بھی ہے انہوں نے یہ بات ہفتے کو کوئٹہ پریس کلب میں اہلخانہ علی اصغر بنگلزئی کے بیٹے غلام فاروق بنگلزئی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی نصر اللہ بلوچ نے کہاکہ ہم اس سال کے آخر میں اب تک جو افراد لاپتہ ہوئے یا جن کی لاشیں ملی ہے مکمل فہرست جاری کرینگے انہوںنے کہاکہ اس حکومت کے دور میں جو افراد لاپتہ یا مسخ شدہ لاشیں ملی ہے ان کا خضدار کے علاقے توتک سے ملنے والی لاشوں سے کوئی تعلق نہیں وہ لاشیں جو ملی تھی وہ الگ ہے جن کے بارے میں حکومت خود صحیح طور پر کچھ بتانے سے گریز کررہی ہے ۔اس موقع پر اہلخانہ علی اصغر بنگلزئی کے صاحبزادے غلام فاروق بنگلزئی نے کہا ہے کہ میرے والد کو 18اکتوبر 2001کو خفیہ اداروں نے محمد اقبال کے ہمراہ اغواءکیا تھا بعد میں محمد اقبال کو چھوڑ دیا تھا اور 13سال ہوچکے ہیں ابھی بھی میرے والد علی اصغر بنگلزئی خفیہ اداروں کے غیر آئینی حراست میں ہے ہم 13سالوں سے اپنے والد کے شفقت کے بغیر اذیت کے دن گزار رہے ہیں ہمارے والد اپنے گھر کے واحد خود کفیل تھے جس کی گرفتاری کے بعد ہماارے مشکلات ذہنی اذیت سمیت دیگر مشکلات سے دوچار ہے ہم نے اپنے والد کی بازیابی کیلئے پرامن آئینی طریقے سے جدوجہد کی پرامن احتجاج کیساتھ ساتھ 2002سے 2006کے آخر تک ہمارے والد کا کیس بلوچستان ہائیکورٹ سمیت دیگر انصاف کیلئے بنائے گئے اداروں میں چلتے رہے 2007سے سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے 13سالوں میں ہم نے آج تک پرتشدد راستہ نہیں اپنایا لیکن اس کے باوجود بھی ہمیں انصاف نہیں مل رہا جمہوری نام نہاد حکومتوں کے منہ پر یہ طمانچہ ہے اور انصاف کیلئے بنائے گئے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے ہم ملکی اور بین الاقوامی قوانین مذہب معاشروں اور ہمارے مذہب اسلام بھی یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی ملزم ہے تو اسے اس کے جرم کے مطابق سزا دی جائے لیکن یہ اجازت نہیں دیتے کہ کسی کو سالہ سال بغیر بتائے اپنے غیر آئینی حقوق خانوں میں انسانیت سوز مظالم سے دوچار کریں ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ہم اقوام متحدہ بین الاقوامی برادری صحافی برادری ،سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف کیلئے بنائے گئے اداروں سے ایک مرتبہ پھر پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے خلاف عملاً آواز اٹھا کر ہمارے والد علی اصغر بنگلزئی سمیت تمام لاپتہ بلوچوں کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کرے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0