سرداری و نوابی نظام بلوچ قومی جہد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ میر قادر بلوچ

بدھ 17 ستمبر, 2014

کوئٹہ :ہمگام نیوز۔

بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ قوم غلامی سے نجات پانے کے لئے آج جن مشکلات سے دوچار ہے ان میں سب سے بڑی رکاوٹ سرداری اور نوابی نظام ہے سرداری اور نوابیت کو مستحکم کرنے میں برٹش سامراج کا بہت بڑا کردار ہے انہوں نے محراب خان کی حکومت کو گرانے اور بلوچستان کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر علاقہ میں چھوٹے بڑے سرداریان قائم کیں اور سرداری اور نوابی کی کرسی پر اپنے ماتحت اور جی حضور لوگوں کو بھٹاکر انہیں مختلف قسم کے مراعات اور وظیفوں سے نوازاانہوں نے کہاکہ محراب خان کی حکومت توڑنے میں انہی نواب و سرداروں کا ہاتھ ہے اور آج بلوچستان جن تین ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور بلوچ غلامی کی لعنت سے دوچار ہے یہ انہی سرداروں کی مہربانیاں ہے بلوچ قوم کو غلامی کی پاتال میں دھکیلنے کی سب سے بڑی شکل یہی نظام ہے جو بلوچستان کی ایک جمہوری اور برابری کے نظام سے بلکل متصادم ہے انگریز نے نوری نصیر خان کے ون مین اور ون ووٹ کے جمہوری نظام کو توڑ کراس کے بدلے میں سرداروں اور نوابوں کی شکل میں ایک غیر جمہوری اور حکمرانی کے نظام کو متعارف کرکے مطلق العنان قسم کی بادشاہتیں پیدا کرکے انہیں حکمرانیاں دیں جس کے زخم آج بھی تازہ ہے سنڈیمن کے بنائے ہوئے سرداری و نوابی نظام نے بلوچ قوم کوسیاسی سماجی اور انتظامی طور پر کمزور کردیاانہوں نے کہاکہ نوری نصیر خان جس نظام کی تشکیل کی اس میں سب برابر تھے لیکن سنڈیمن نے حکمرانی کے نظام کو متعارف کرکے بلوچ سماج میں ایک تفریق اور برادر کشی کو جنم دیا قدیم قبائلی نظام جو جمہوری خطوط پر استوار تھے اسے سرداری اور نوابی کی شکل دیکر فرسودہ اور وحشت کا علامت بنا دیا گیاآج بلوچ قومی سیاسی معاشی اعتبار سے دوسرے اقوام سے جتنے پیچھے ہے اس کی بڑی وجہ یہی سنڈیمن کی نظام ہے میر قادر بلوچ نے مذید کہا ہے آج بھی یہی سردار و نواب موجود ریاست میں سیاہ و سفید کے مالک اور بلوچ وسائل کی لوٹ مارمیں برابر کے شریک ہے زیر زمین قومی و معدنی وسائل کے رائلٹی منافع اور مراعات میں ریاست کے ساتھ حصہ دار ہے جو انہیں دلالی اور جی حٖضوری کے عوض میں ملتی ہے آج اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کے سرداروں اور نوابوں کے پاس کس چیز کی کمی ہے دنیا کے امیر ترین لوگوں کو جو چیزیں میسر ہے انہیں بھی وہی سہولیات حاصل ہے لیکن بلوچ عوام کی حالت انتہائی ابتر ہے انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم اپنی مستقبل کو روشن آزاد اور خوشحال کرنے کے لئے سب سے پہلے اس سرداری اور نوابی نظام کو مستر د کرنا ہوگا اور اور ان سے جان خلاصی کرنا ہوگاقوم دوستی اور وطن دوستی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اپنے فیصلوں میں آزاد ہو کسی سردار و نواب زادے کو اپنی قسمت اور مقدر کا فیصلہ کرنے نہ دے کیونکہ انہیں لوگوں کا بلوچ قوم کو غلام اور پسماندہ کرنے میں مرکزی کردار ہے یہ ہر بیرونی طاقت کا آلہ کار بن کر ہمیشہ نسل در نسل بلوچ قوم کا استحصال کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ آج دنیا کے اقوام آزادی کے ثمرات سے بہر ور ہورہے ہیں انگریز بھی جانتا تھا کہ عام اور غیرت مند بلوچ کھبی بھی ان کی زور آوری کو تسلیم نہیں کریگا اس لئے انہوں نے سرداری اور نوابی نظام کی تشکیل کرکے انہیں بڑے پیمانے پر جاگیریں عطاء کیں انہوں کہاکہ محراب خان کے حکومت توڑنے اور انہیں شہید کرنے کے بعد بلوچ قوم ابھی تک صدیوں سے غلامی کی زندگی گزار رہے ہین بلوچ قوم جدوجہد بھی کررہے ہیں اور اس جدوجہد کی بنیاد محراب خان نے رکھی اس کی ایک تسلسل جاری ہے لیکن ابھی تک ہم آزادی کے حصول میں ناکام ہے اس کی سبب بھی یہی سرداری نظام ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان جو ہماری آزادی زندگی اور وجود کی علامت ہے ہمیں اس کی حفاظت اور آزادی کے لئے اپنی تمام صلاحیتیوں کواستعمال کرنا چاہیے ہمیں سردارون کومضبوط آزادی کی جدوجہد کے لئے قوت بننی چاہیے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0