سندھ ، رواں ہفتے 6 قوم پرست کارکنوں کی لاشیں برآمد

جمعرات 4 دسمبر, 2014

فہیم بھٹو کو واجد لانگاہ کے ساتھ پپری کے علاقے سے اٹھایا گیا تھا
سندھ میں گذشتہ ایک ہفتے میں چھ سندھی قوم پرست کارکنوں کی تشدد شدہ لاشیں ملی ہیں، یہ کارکن اور ہمدرد کراچی سے لاپتہ تھے۔
بلوچستان کے علاقے حب کے ایس ایچ او غلام مصطفیٰ نے بی بی سی کو بتایا ’حب ڈیم کے زیریں علاقے سے انھیں دو لاشیں اور ایک شخص الھودھایو زخمی حالت میں ملا تھا جسے پہلے حب ہپستال اور وہاں سے سول ہپستال کراچی منتقل کردیا گیا۔‘
ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ابھی تک صرف ایک نوجوان فہیم بھٹو کی شناخت ہوئی ہے جس کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔
ورثا کے مطابق فہیم بھٹو، واجد لنگاہ کے ساتھ پپری کے علاقے سے اٹھائے گئے تھے۔
واجد لنگاہ کی لاش برآمد ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد فہیم بھٹو کی تشدد شدہ لاش ملی ہے۔
میٹرک کے طالب علم فہیم بھٹو کی والدہ فرزانہ بھٹو نے سندھ ہائی کورٹ میں گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
عدالت کے حکم پر ایس ایچ او سٹیل ٹاؤن ہارون کورائی کے خلاف فہیم بھٹو کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
دوسری جانب سول ہپستال کراچی سے گذشتہ شب زخمی الھو دھایو کو نامعلوم مسلح افراد اٹھاکر لے گئے۔
الھو دھایو کے چچا غلام حسین نے بی بی سی کو بتایا ’انھیں حب پولیس کے ایک اہلکار نے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ آپ کا لڑکا زخمی ہے، لہذا آپ سول ہپستال پہنچ جائیں، اس اطلاع پر وہ تمام رشتے دار ہپستال پہنچ گئے جہاں اس کا علاج جاری تھا۔
غلام حسین کے مطابق حب پولیس نے انھیں مشورہ دیا کہ لڑکا آپ کے حوالے ہے اگر آپ چاہیں تو اس کا کہیں اور سے علاج کروا لیں، صرف افسر آجائیں وہ بیان رکارڈ کر لیں۔
غلام حسین کے مطابق ’دوپہر کے وقت تین موبائلوں میں سوار اہلکار جن میں سے کچھ نے پولیس وردی پہنی ہوئی تھے اور چہرے ڈھکے تھے آئے اور الھو دھایو کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی، ہم نے مزاحمت کی تو انھوں نے ہتھیار لوڈ کرکے ہم پر تان لیے، خواتین موبائلوں کے سامنے لیٹ گئیں لیکن وہ لڑکے کو لیکر گئے۔‘
غلام حسین کا کہنا ہے کہ ان کا بھتیجا تین ماہ سے لاپتہ ہے، اس کو بھٹائی آباد سے دو گاڑیوں میں سوار لوگ اٹھا کر لے گئے تھے جس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر ہے ۔
’الھودھایو کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں نہ وہ جلسے جلوسوں میں جاتا تھا، میٹرک کے بعد وہ بیروزگار تھا جس وجہ سے میں نے اسے ایک نجی سکول میں گارڈ تعینات کرایا تھا۔‘
ایس ایچ او حب غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس وردی جیسے لباس میں ملبوس اہلکاروں نے یہ کہہ کر الھودھایو کو حراست میں لیا کہ وہ انھیں مطلوب ہے، جب ان کے اہلکاروں نے کہا کہ افسران کا انتظار کریں تو بھی وہ نہیں رکے۔ بعد میں انھوں نے مقامی تھانے سے رابطہ کیا تو وہاں سے کارروائی کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔‘
اس سے پہلے گذ شتہ روز ہی کراچی اور حیدرآباد کے درمیان سپر ہائی وے سے دو تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں۔
ایس ایس پی جام شورو نعیم شیخ نے بتایا کہ دونوں کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے جبکہ انھیں سر پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور دونوں کو ایک ایک گولی لگی۔
20 اور 25 سال عمر کے دونوں جوانوں کی لاشیں حیدرآباد سول ہپستال منتقل کی گئیں، جہاں ان کی شناخت سرویچ پیرزادہ اور واجد لنگاہ کے نام سے کی گئی ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق دونوں جئے سندھ متحدہ محاذ نامی علیحدگی پسند جماعت کے کارکن تھے جسے حکومت نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
کراچی میں گذشتہ ایک ہفتے میں لاپتہ سیاسی کارکنوں کی چھ لاشیں مل چکی ہیں، اس سے پہلے آصف پہنور اور وحید لاشاری نامی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔
سرویچ پیرزادہ کراچی سے لاپتہ ہوگئے تھے، ان کی جبری گمشدگی کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ میں ان کی والدہ مہرالنسا نے درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا ’سرویچ کو سول کپڑوں میں اہلکار ایمپریس مارکیٹ سے اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘
سندھ ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی 27 نومبر کو سماعت ہوئی تھی جس میں صوبائی اور وفاقی حکومت نے سرویچ کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
اس مقدمے کے وکیل بیرسٹر ضمیر گہمرو کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت کو آصف پہنور کی ہلاکت کا حوالہ دیکر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر فوری احکامات نہیں اٹھائے گئے تو سرویچ کو بھی مار کر لاش پھینک دی جائے گی۔
سرویچ پیرزادہ کا تعلق موہنجو دڑو کے قریبی گاؤں بلھڑیجی سے تھا۔ ترقی پسند سوچ و خیال کی وجہ سے اس گاؤں کو لٹل ماسکو بھی کہا جاتا تھا۔
سرویچ پیرزادہ کے والد لطف پیرزادہ ترقی پسند اور ہاری حقوق تحریک کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔
انھوں نے 20 سالہ نوجوان بیٹے کی لاش سندھ کے مزاحمتی اور صوفی شاعر شاہ عنایت کا یہ شعر پڑھ کر وصول کی ۔’ایک سر تھا، وہ بھی یار کے قدموں میں فدا کیا۔ چلو یہ قرض بھی ادا ہوگیا‘۔
25 سالہ واجد لنگاہ کا بھی تعلق لاڑکانہ ضلعے سے تھا لیکن آج کل وہ کراچی کے علاقے پپری میں ایک دکان پر کام کیا کرتے تھے۔
واجد یکم اگست سے دکان سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے ان کی جبری گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر ہے۔
حیدرآباد کے سینیئر صحافی ناز سہتو کا کہنا ہے ’قوم پرست کارکنوں میں ایک نیا رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے، ان کے بازوں پر اب انگریزی میں ’وی لو سندھ‘ کے ٹیٹو بنے ہوئے ہیں جس سے اس سوچ کی عکاسی ہوتی ہے کہ اگر مار کر پھینک بھی دیا جائے تو بطور قوم پرست کارکن شناخت ہو سکے، ایسے ہی ٹیٹو واجد لنگاہ کے جسم پر بھی کندہ ہیں۔‘
آبادی سے دور سپر ہائی وے سے لاشیں برآمد ہونے کے بارے میں ناز سہتو کا کہنا ہے ’سندھی قوم پرست کارکنوں کی لاشوں کی برآمدگی پر بھی پاکستان کے قومی پریس کی خاموشی ویسے ہی رہی جیسی بلوچ کارکنوں کی لاشوں کی برآمدگی کے وقت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ہلاک کرنے والوں نے لاشیں ایسے علاقے میں پھینک دیں تاکہ قومی پریس میں معاملہ نظر نہ آئے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل آصف پہنور اور وحید لاشاری کی لاشیں برآمد ہونے کے خلاف سندھ کے کئی شہروں میں پیر کو کالعدم جئے سندہ متحدہ محاذ کی اپیل پر کاروبار بند رہا تھا۔اس ہڑتال کی دیگر جماعتوں نے بھی حمایت کی تھی۔ حیدرآباد اور کراچی میں ہفتے اور اتوار کو سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج اور بھوک ہڑتال بھی کی گئی ہے۔

بشکریہ ۔۔ بی بی سی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0