سنگت وحید الرحمان عرف محترم بلوچ سے وابستہ کچھ انمول یادیں,تحریر: کامریڈ سنگت بولانی

ہفتہ 1 جولائی, 2017

دنیا میں شعور ہی وہ خوبی ہے جس سے انسان سچ و جھوٹ،برے و بھلے، ظالم و مظلوم کے درمیان تفریق کرتے ہوئے اپنے زندگی کے اہم فیصلے لیکر ایک عظیم کام کا حصہ بن جاتا ہے
زندگی کا ہر وہ لمحہ جو گزر جاتا ہے وہ کبھی پھر سے واپس لوٹ کر نہیں آتا، وہ انمول لمحے جن میں آپ اپنی ذات، خاندان، قبیلہ، علاقے کی نفی کرتے ہوئے ایک مظلوم قوم کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہوتے ہو۔
تو میرے ناقص خیال کے مطابق ہمارا فرض بنتا ہے کہ ایمانداری و حقائق کے بنیاد پر ان نہ مٹنے والے یادگار لمحوں کو قلمبند کرکے تاریخ کا حصہ بنائیں۔
سنگت محترم سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم قلات سے ہوتے ہوئے بولان کیمپ پہنچے، بولان کیمپ کے ساتھیوں نے ہمارا استقبال کیا چائے اور حال احوال کے بعد سفر کی تھکن کی وجہ سے ہم آرام کرنے چلے گئے، آرام کرنے کے بعد ہم واپس مرکز پہنچ گئے، وہاں سنگت محترم میرے قریب آکر بیٹھ گیا اس تھوڑی سی نشست میں ہمیں ایسا لگا جیسے ہم پہلے کہیں بار مل چکے ہیں ۔
دوسروں سے کافی مختلف مزاج رکھنے والا محترم واقعی حقیقت میں ایک محترم انسان تھا وہ ایک بہترین سوچ و فکر کا مالک ، درویش صفت انسان مہر و محبت کا پیکر تھا ، علمی و سیاسی بحث و مباحثہ میں اپنے سامنے والے کو غور سے سننے کے بعد اپنی رائے دیتا تھا ۔
کچھ دن گزرنے کے بعد ہم مامور کے مطابق ایک گوریلہ چھاپہ مار کاروائی کے لیے نکل پڑیں۔
کارروائی کے دوسرے دن ڈیوٹی پہ مامور ساتھی نے آواز لگای کہ ہوشیار قابض ریاست کے دو ہیلی کاپٹرز ہمارے کیمپ کے اوپر آ رہے ہیں ، وہ ہمیں ڈھونڈ رہے تھے ساتھیوں کے صلاح و مشورے کے بعد یہ طے ہوا کہ جونہی ہیلی کاپٹرز کیمپ کے اوپر سے گزرے ان پر حملہ کرنا ہے،
ہم تیاری کرکے پتھروں کے اوٹھ میں مورچہ زن ہوگئے سنگت محترم ہم سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا راکٹ لانچر کندھے پہ رکھے دشمن کے ہیلی کاپٹرز کو غور سے دیکھ رہا تھا، جونہی ہیلی کاپٹرز کیمپ کے اوپر پہنچے ہم نے حملہ کردیا سنگت محترم نے راکٹ کے تین گولے داغے دو گولے ہیلی کے قریب سے گزرے اور ایک گولہ ہیلی کاپٹر کے دم کے قریب پہنچ کر بلاسٹ ہوگیا، دونوں ہیلی کاپٹرز واپس چلے گئے۔
گوریلا حکمتِ عملی کے تحت ہم گروہوں میں تقسیم ہوگئے ،اور ہر گروہ اپنے رستے کی سمت روانہ ہوگیا، سنگت محترم ہمارے گروپ میں تھا ایک گھنٹے کا فاصلہ طے کرکے ہم ایک دشوارگزار گھاٹی میں پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر ہم حالات کے بارے اپنی رائے دینے لگے سنگت محترم نے ہمیں بہت ہنسایا اور کہنے لگا کہ تم لوگ تھوڑا آرام کر لو میں ڈیوٹی کرکے حالات کا جائزہ لیتا رہونگا ابھی ہماری آنکھ ہی لگی تھی کہ سنگت نے ہمیں بیدار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے سات ہیلی کاپٹرز گھوم رہے ہیں اور ہمارے کیمپ کے ہی اوپر ہے،
اتنے میں ایک ساتھی آکر کہنے لگا دشمن کے ہیلی کاپٹرز اپنے سپاہی اتار رہے ہیں اور علاقے کو گھیرا کرنے کی کوشش کریگا چلو یہاں سے آگے کی طرف نکلو، ہمارے گروہ کے باقی ساتھی آگے نکل چکے ہے ہم تینوں سنگت روانہ ہوگئے،
اس بار سنگت محترم میرے کچھ زیادہ ہی قریب ہوگیا تھا ،ہم کھانا کھانے کے بعد دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے دنیاوی سیاست تو کبھی قومی سیاست بارے بحث مباحثہ ہوا کرتا تھا، سنگت سب سے زیادہ تین ہی موضوع زیر بحث لاتا ایک ہماری آپسی اختلافات اور دوسرا موضوع بلوچ لبریشن آرمی کو توڑنے کی کوشش و یونائیٹڈ بلوچ آرمی کا قیام اور اس کے مڈی پہ قابض ہونے کے خلاف وقت سے پہلے محاذ آرائی، تیسرا موضوع حالات و واقعات کی وجہ سے بلوچ سیاسی کارکنان کا گروانڈ سیاست چھوڑ کر بیرون ملک جانے کی خواہش جسکی وجہ سے گراونڈ میں سیاسی جدوجہد کرنے کا فقدان ،
ان موضوعات پہ بحث کے دوران ہمارے درمیان کافی گرما گرمی ہوجاتی تھی۔
آخر میں بحث وہی جا کے ختم ہوجاتی تھی کہ اب ہمارے پاس گراونڈ میں کرنے کو ایک ہی پلیٹ فارم بچا ہے وہ ہے مسلح جہد اور آج وقت ہم سے یہی تقاضہ کر رہی ہے کہ ہم مخلصی و ایمانداری سے اسی کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں .
ان ہی دنوں شام کے وقت ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ ساتھی ایک واقعے میں زخمی ہوئے ہیں ،
اس واقعے نے سنگت محترم پہ بہت برا اثر ڈالا کیونکہ اس واقعے میں جو سنگت شدید زخمی ہوا تھا وہ سنگت محترم کا سیاسی و فوجی استاد تھا، اور ہماری بدقستی کہیں کہ ہماری اس سنگت کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکی ،
اس واقعے کے بعد سنگت محترم ایک نفسیاتی مریض بن چکا تھا اکثر اوقات اپنا وقت اکیلا ہی گزارتا، نہ کسی کے ساتھ زیادہ بات کرتا اور نہ ہی زیادہ دیر بیٹھتا ۔
وہ پر کٹھن دن مجھے اچھی طرح یاد ہے جس دن پھر سے ہم پر ایک آپریشن کیا گیا
ہمیں اطلاع ملی کہ پاکستانی قابض فورسز علاقے میں زمینی و فضائی آپریشن کر رہا ہیں اور عام عوام کے گھروں کو جلا رہا ہے انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر بلوچ سرمچاروں کے بارے پوچھ رہا ہے
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام عوام بچاروں کو کیا پتہ کہ گوریلا جنگجووں کے ٹھکانے کہاں ہے
صبح کے آٹھ بج رہے تھے ہم نے جلدی سے تیاری کرکے اپنا اپنا سامان اٹھایا اور پہاڑی پہ چھڑ گئے یہاں بھی سنگت محترم میرے ساتھ ہی تھا شہید لعل خان عرف چاچا بھی ہمارے قریب تھا اور کچھ ساتھی بھی
کچھ دیر بعد ایک جیٹ طیارہ ہمارے کیمپ کے اوپر سے گزرا میں نے جب نیچے کیمپ کی طرف دیکھا تو کیمپ کے کچھ چیزیں بکھرے پڑے تھے میں نے محترم کی طرف دیکھا تو سنگت نے مجھ سے پہلے کہا کہ چلو نیچے اتر کر بکھرے چیزوں کو اکٹھا کرکے واپس آتے ہے تو شہید چاچا نے کہا مت جاو ہیلی کاپٹرز گھوم رہے ہیں تم دونوں کو دیکھ لے گا
چاچا اگر ہم نیچے جاکر چیزوں کو اکٹھا نہیں کیا تو دشمن ہمیں ضرور دیکھ لے گا
سنگت نے شہید چاچا کو مخاطب کرکے کہا،
ہم نے جلدی سے نیچے اتر کر تمام سامان کو اکٹھا کرکے چھپا لیا اور کھانے کے لیے کچھ سوکھی روٹی کے اوپر دال ڈال کر واپس اوپر اپنی جگہ پر پہنچ گئے ، سنگت نے آواز دی کہ جس کو بھوک لگی ہے جلدی سے آجاؤ ورنہ اس براہوی ضرب المثل کی طرح ’’ گون تیان پک اس مفرو ‘‘
اتنے میں شہید چاچا کے ساتھ چار ساتھی اور آئے ہم سوکھی روٹی اور دال کھانے لگے
آج یہ سوکھی روٹی اور دال برگر اور پیزا سے کہیں زیادہ مزے دار لگ رہے ہیں
سنگت نے قہقہہ لگا کر کہا،
ورنا گل شوا ہمت ء کوتے ، شہید چاچا نے مسکرا کر کہا
شام کو تمام ساتھی اکٹھے ہوگئے اور باہمی صلاح و مشورے سے یہ طے ہوا کہ تمام ساتھی گروہ میں تقسیم ہو جائیں اور ہر ساتھی یہ کوشش کرے کہ اپنے گروہ کے ساتھیوں کے ہمراہ رہے اور ہر ساتھی پر فرض ہے کہ ہر سخت حالات میں اپنے دوسرے ساتھی کا خیال رکھے اور ہر گروہ یہ کوشش کرے کہ گھیرا توڑ کر نکل جائے جہاں کہیں موقع ملے دشمن کو نقصان پہنچائے، کیونکہ ایک گوریلا اپنے آپ ایک قائد ہوتا ہے اور حالات و واقعات کو دیکھ کر اچھے فیصلے لیتا ہے نا کہ دشمن کے کرائے کے سپاہیوں کی طرح احکام کے پابند ہونا ہے ۔
صبح سحری کے تین بجے ہم سب جاگ کر اکھٹے ہوئیں، سنگت محترم موجود نہیں تھا ساتھیوں نے آواز دی لیکن وہ نیند سے نہیں اٹھا ہم روانہ ہوگئے دو دن کے پیدل سفر سے ہم دوبارہ ایک محفوظ جگہ پہنچ گئے، سنگت محترم اور کچھ سنگت اس گھیرے میں پھنس گئے
باقی ساتھی خیر سے پہنچ گئے ،سنگت محترم بشمول ایک اور ساتھی جو شوگر کے مرض کی وجہ سے رہ گیا تھا دونوں دشمن کے گھیرے میں پھنس گئے تھے ہمیں خدشہ تھا دونوں دشمن سے نبرد آزما ہوکر لڑینگے ،
دو دن بعد احوال ملا سنگت دشمن کے گھیرے سے نکل کر ہمارے طرف آرہا ہے۔
سنگت ہمارے پاس پہنچا ایک دن ہم بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے
قصہ سناؤ کیا ماجرہ ہوا ہم نے اتنی آواز دی لیکن تم نے جواب نہیں دیا ، میں نے کہا
یار میں گہری نیند میں تھا ایک دو آواز میرے کان میں گونجی لیکن نیند کا غلبہ ایسا تھا کہ میں اٹھ نہ سکا پھر جب نیند سے جاگ کر ادھر ادھر دیکھنا لگا تو کوئی بھی موجود نہیں تھا میں اٹھ کر اپنا راکٹ لانچر سنبھالا اور پہاڑ کی چوٹی پہ چڑھ کر علاقے کو دوربین کرنے لگا ، قابض فوج کے ہیلی کاپٹرز علاقے میں گھوم رہے تھے اور گھروں کے جلنے کے دھوئیں آسمان کو چھورہے تھے
پھر شام کو نیچے اتر کر شربت بنایا کہ تمام ساتھی تھکے ہونگے پھر انتظار کرنے لگا لیکن کوئی نہیں آیا رات کے آٹھ بجے بی بی سی سنا پھر سوچنے لگا کہ تمام ساتھی نکل چکے ہیں مجھے بھی اس ایریے سے نکل جانا چایئے ،اگلی صبح میں آہستہ آہستہ اس علاقے سے نکالا اور ساتھیوں سے رابطہ ہوا اور تم لوگوں کے پاس پہنچ گیا ۔
اس آپریشن کے بعد سنگت محترم چھٹی پہ چلا گیا پھر جب چھٹی سے واپس آیا تو اس انسان میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملا ، سنگت نے شادی کرلی تھی لیکن حالات کی وجہ سے وہاں سے کچھ ماہ کے لیے کسی اور جگہ کو اپنا قیام گاہ بنایا وہاں سے سیدھا ہمارے کیمپ پہنچا
اس مرتبہ سنگت محترم ہمارے ساتھ ایسا گھل مل گیا کہ ہم تین ساتھی ہر وقت ایک ساتھ وقت گزارتے جہاں بھی جاتے وہ ہمارے سونے کے لئے پتھر وغیرہ اٹھا کر جگہ بناتا، ہم رات کو موبائل پہ فلمیں دیکھتے اور اکثر انڈین پروگرام کپل شرما شو کو بڑے شوق سے دیکھتے تھے، ڈاکٹر مشہور گلاٹی ہمارا پسندیدہ کردار تھا ۔
سنگت ایک بات کہتا کہ تم لوگوں نے مجھے مکمل تبدیل کردیا ہے، سونے کے اوقات مزاج وغیرہ،
یہی تو انقلاب ہے تبدیلی ہے، ہم ہنس کر اسے جواب دیتے ،
ایک دن باہر سے کچھ سنگت مہمان آئے تو ان کے آنے سے دو دن پہلے ہم نے اپنی جگہ تبدیل کی تاکہ جگہ کا تعین نہ ہو سکے،
یار میں نے ندی کے اس پار سونے کے لئے جگہ بنالیا ہے تم لوگ دیکھ لو اچھی جگہ ہے کونے پہ ہے ہمارے شور و ہنسنے سے دوسرے ساتھی پریشان نہیں ہونگے،
سنگت نے ہمیں مخاطب کرکے کہا ،اس چھوٹے سے جوہڑ کو تم ندی سے تشبہہ دے رہے ہو،
ہم نے ہنستے ہوئے جواب دیا ،
ایک ہفتے کے قیام کے دوران شام کو وہاں پہ ہم کبڈی کا کھیل کھیلتے تھے،کھیل کے دوران کافی ہنسی مزاق ہوتا تھا ۔
پھر ہم تین ساتھی ایک ضروری کام کے سلسلے میں روانہ ہوئیں، سنگت محترم بھی ہمارے ساتھ تھا ہمیں کیا معلوم تھا کہ سنگت محترم کے ساتھ یہ سفر آخری سفر ثابت ہوگا،
وہاں پہ ہم نے دو دن قیام کیا ایک دن شام کو ہم مجلس کر رہے تھے
میں جب شروع میں یہاں آیا تو تم نے میرے بارے کیا، تجزیہ کیا، کیونکہ تم ہر ایک انسان پر تجزیہ کرکے اس کے مزاج کو پرکھ لیتے ہو
میں نے سنجیدگی سے پوچھا ،نہیں بتاونگا ، سنگت محترم نے ہنستے ہوئے جواب دیا،نہیں آج تو تمہیں بتانا ہوگا ،میں نے تنگ کرتے ہوئے کہا،
جب تم شروع میں ہمارے کیمپ پہنچے تو میں نے تمہیں دیکھ کر یہ تجزیہ کیا کہ کچھ ہی مہینوں بعد تم بیرون ملک جاؤ گے دوسروں کی طرح بیرون
ملک سیاست کرنے کے لئے ، لیکن وقت گزرتا گیا تم نے مخلصی و محنت کرکے اپنے آپ کو اصولوں کا پابند بنایا اور ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا آج بھی ہمارے ساتھ قدم بہ قدم چل رہے ہو ،تو تمہارے اس خوبصورت عمل نے میرے تجزیے کو مکمل طور پر غلط ثابت کر دیا،
سنگت نے سنجیدگی سے جواب دیا ،
وہ آخری ویڈیو جس میں سنگت نے مزاق میں ایک گانا گیا آج بھی جب کبھی اس ویڈیو کو دیکھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتے ہیں اور بہت ہی کرب و خود کو تنہا محسوس کرتا ہوں ۔
تیسرے دن ہم بیٹھ کر تاش کھیل رہے تھے کہ ڈیوٹی پہ بیٹھا شہید سنگت نظر جان عرف بیبرگ آیا اور کہنے لگا ہیلی کاپٹرز کی آوازیں ہیں تو ہم جلدی سے وہاں سے نکل کر نیچے چلے گئے اور وہیں بیٹھ گئے دونوں ہیلی کاپٹرز اب ہمارے اوپر گھوم رہے تھے لیکن ہمیں دیکھ نہیں پا رہے تھے ، دونوں ہیلی کاپٹروں نے بہت شیلنگ کی ،سنگت محترم نے کہا کہ اگر ہیلی کاپٹرز نیچے آنے کی کوشش کی تو ان پر حملہ کر دینگے ،
ٹھیک 45 پینتالیس منٹ بعد دونوں ہیلی کاپٹرز واپس چلے گئے اور ہم اوپر کی طرف چڑھنے لگے
ہمیں معلوم نہیں کہ دشمن کیا منصوبہ بنا رہا ہے ،ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے،دشمن کا بھروسہ نہیں وہ واپس اپنے افرادی قوت کے ساتھ آ سکتا ہے،میں نے دونوں ساتھیوں کو مخاطب کرکے کہا،نہیں ہم اوپر کی طرف جائیں گے، جہاں سے پورا علاقہ صاف دکھائی دیگا ،
دونوں ساتھیوں نے انکار کرتے ہوئے کہا ،
ہم اوپر پہنچ کر بیٹھ گئے سنگت محترم نے ظہر کی نماز پڑھی اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف اترنے لگے دوسرے ساتھی نے کہا کہ تم جا کر اپنا بیگ اٹھاؤ ہم آہستہ سے نیچے اترتے ہیں، میں نے جاکر جونہی اپنا بیگ اٹھایا سنگت محترم کی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی ’’ سنگت بیداری پیچھے دشمن ہے، وہ آخری گوانک (آواز) آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے اور مجھے بہت تکلیف دیتاہے ،
میں نے مڑ کر دیکھا تو قابض فوج کے سپاہی کھڑے ہیں اتنے میں فائرنگ شروع ہوگئی ،میں نے فائرنگ کرکے سامنے والے گھاٹی میں چھلانگ لگائی اسی جگہ پہ میں اپنے دونوں ساتھیوں سے جدا ہوگیا، گھاٹی کافی دشوار تھا،
ہر معرکے میں یہی مضبوط پہاڑ، چٹان و گھاٹیاں ہی ہمارے ڈھال ثابت ہوتے ہیں اور انہیں مضبوط ڈھالوں کی وجہ سے دشمن ہر وقت شکست کھاتا ہے،میں نیچے کی طرف اترتا گیا ایک دو جگہ پیر پھسل جانے سے میں کافی زخمی ہوگیا ،اب زخمی ہونے کی وجہ سے میرے پیر چلنے میں میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے، پیاس کی وجہ سے میرا دل خراب ہو رہا تھا، ایک دو جگہ میں نے الٹی بھی کی،
دشمن فوج نے ہمارا مورال گرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے نیچے کی طرف راکٹ کے تین گولے فائر کیے جو کہ بہت دور جا کر پھٹ گئے ،
اب دو طرفہ فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھی میں سمجھ گیا کہ ہمارے ساتھی فائرنگ کرکے نیچے اتر رہے ہیں دوبدو کے فائرنگ کو دیکھ کر دشمن اپنے ڈر کی وجہ سے ہیلی کاپٹرز منگوائے ، ہیلی کاپٹرز کو دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ دشمن اب ہمیں گھیرا کرنے کی کوشش کریگا
موت کو اتنے قریب سے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا وہ سارے ساتھی ایک جھٹ سے دماغ میں گھومنے لگے جنہوں دیدہ دلیری سے موت کو گلے لگایا میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب موت ہے تو کیوں نہ ہنس کر اس کی تیاری کی جائے، میں بندوق اپنے سینے پہ رکھ کر وہیں بیٹھ گیا ،
کچھ ہی منٹ بعد میں دیکھا کہ ہیلی کاپٹروں کی آوازیں گم ہوگئی تو میں تھوڑا اوپر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا آسمان صاف تھا لیکن اوپر والا حصہ مجھ سے اوجھل تھا اور فائرنگ کی آوازیں بھی اکا دکا آرہی تھیں ،پھر مجھے امید کی اک کرن دکھائی دی کہ میرے ساتھی نکل چکے ہیں مجھے بھی نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے ،میں آہستہ آہستہ نیچے کی طرف اترنے لگا نیچے میں نے ایک کھڈے نما پتھر میں بارش کا پانی دیکھا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ مجھے خدا مل گیا ،میں نے بارش کے پانی سے اپنا منہ دھویا تھوڑا سا پانی اپنے سر پر ڈالا اور پانی پی کر روانہ ہوگیا، ندی میں پہنچ کر پھر سے میں نے نظر دوڑائی، اب میں دشمن کے پہنچ سے کافی دور آ چکا تھا ،
آگے جا کر میں نے دیکھا کہ ایک بندہ ندی میں چلا آ رہا ہے میں جلدی سے کنارے پہ آکر جھاڑیوں میں چھپ گیا
نزدیک آنے پر میں پہچان گیا کہ وہ ہمارا ہی ایک ساتھی تھا میرے قریب آ کر میرا جیکٹ و سامان اٹھایا،
باقی دو ساتھیوں کا احوال دو وہ پہنچ گئے؟ میں نے ساتھی سے پوچھا ،حارس پہنچ چکا ہے تم بھی پہنچ گئے لیکن سنگت محترم اب تک نہیں آیا وہ بھی پہنچ جائے گا یہاں سے چلو کیونکہ پچھلے رستے سے بھی زمینی فوج آ رہی ہیں ،ساتھی نے جواب دیا،پھر ہم آگے کی طرف روانہ ہوگئے وہاں حارس بیٹھا ہوا تھا،میں بھی قریب جا کر بیٹھ گیا
سنگت محترم؟؟؟
میں نے افسردہ ہوکر پوچھا ،جب تم بیگ اٹھانے گئے اتنے میں ہمارے اوپر دشمن نے فائرنگ شروع کردی میں نیچے دوڑ کر پتھر کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور سنگت محترم کو آواز دی کہ نیچے آجاؤ، لیکن محترم وہی پہ بیٹھ کر دشمن پہ فائرنگ کرنے لگا
اتنے میں ہیلی کاپٹرز پہنچ گئے میں نیچے کی طرف اترتے ہوئے ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر سنا،پھر سے فائرنگ شروع کردی اور ہیلی کاپٹرز واپس گئے،میں نیچے کی طرف اترنے لگا میرے پیر بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور پھر آہستہ آہستہ چل کر میں یہاں پہنچ گیا ،
سنگت حارس نے جواب دیا،پھر ہم وہاں سے نکل کر اپنے دوسرے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے ،دوسرے دن بھی ہم یہی امید لگائے بیٹھے تھے کہ سنگت خیر سے پہنچ جائے گا،پھر ہمیں اطلاع موصول ہوئی کہ سنگت زخمی ہونے کے سبب وہی بیٹھ کر دشمن کا دیدہ دلیری سے مقابلہ کیا اور اس کے کئی اہلکار ہلاک کر دئیے،اور خود جام ء شہادت نوش کر گئے ،سنگت محترم کی بہادری و عظیم قربانی کو ہم خراج ء تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس سرزمین کی دفاع کرتے ہوئے ہنس کر دشمن کا مقابلہ کیا اور قربان ہوگئے ،
سنگت محترم کے خلاء کو ہم کبھی پُر نہیں کر سکتے، لیکن ہم یہی امید کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کے دلیر فرزند شعور و آگہی کے ساتھ اسی بندوق کو تھام کر اسی نقشِ قدم پر چل کر قابض دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بن کر اسے اپنے سرزمین سے بھگانے میں کردار ادا کرینگے ۔
image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0