سوراب سے ملنے والی مسخ شدہ لاشوں کی شناخت ہوگئی.بی این ایم

بدھ 9 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے پاکستانی فوج کی بربریت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سوراب سے ملنے والی مسخ شدہ لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جو پانچ ستمبر کو بسیمہ کے علاقے راغے سے پاکستانی فوج نے اغوا کئے تھے ۔ ان کے نام اور تفصیل ہم نے پہلے ہی دن ایک رپورٹ میں میڈیا میں دئیے تھے ۔اغوا ہونے والوں میں عزیز بلوچ ولد بیزن بی این ایم کا ممبرتھاجسے بعد میں شہید کرکے لاش سوراب کے علاقے کلغلی میں پھینکی گئی۔ہم عزیز بلوچ اور شہدائے راغے کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں، عزیز بلوچ نے بی این ایم کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آگاہی اور آزادی کی جد و جہد میں انتھک محنت کی ہے۔راغے سے اغوا اور بعد میں شہید کئے گئے نام یوں ہیں ۔عزیز ولد بیزن، نیازاللہ، کریم داد ولد جان محمد، غوث بخش ولد ولی محمد، عیسیٰ ولد باران اور عنایت ولد ڈاکٹر ثناء اللہ ۔ کٹھ پتلی صوبائی سرکار کے آپریشن اور لاشوں کے پھینکنے کا سلسلہ بند کرنے کا دعویٰ ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ گزشتہ دن سوراب کے علاقے کلغلی سے چھ لاشوں کی برآمدگی اسی مارو اور پھینک دو پالیسی کا سلسلہ ہے جو ایک دہائی سے جاری ہے۔ یہ واقعات روزانہ کی بنیاد پر دُہرائے جارہے ہیں ۔ بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی نے پاکستان کی وحشی فوج کو بلوچ نسل میں سزا سے استثنیٰ قرار دیکر اس عمل کو آسان بنا دیا ہے۔راغے میں دو درجن کے قریب گھروں کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں پاکستان چین معاہدات کے بعد آپریشن میں شدت اور تیزی آئی ہے جو پاکستان چائنا اقتصادی راہداری کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بلوچ نسل کشی کا مرتکب ہورہے ہیں۔ بلوچستان میں تمام عالمی اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پامالی عروج پر ہے مگر دنیا ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی وحشی مظالم بلوچستان تک محدود نہیں ، اس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیکر افغانستان اور مڈل ایسٹ میں اپنے مجاہدین کے ذریعے امن کی صورتحال کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ دنیا اگر افغانستان و اس خطے میں امن چاہتی ہے تو آزاد بلوچستان کے سوا کوئی دوسری قوت نہیں جو اس خطے میں امن کا ضامن بن سکے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0