سویڈن کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

جمعہ 31 اکتوبر, 2014

سویڈن نے سرکاری طور پر فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا

یورپی یونین میں شامل مغربی یورپ سے سویڈن پہلا ملک ہے جس نے فلسطین کو باقاعدہ طور پر علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

اس سے پہلے مشرقی یورپ اور بحیرۂ روم کے سات یورپی ممالک فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

ان ممالک میں ہنگری، بلغاریہ، چیک رپبلک، مالٹا، پولینڈ، قبرص اور رومانیہ شامل ہیں۔ یورپی اتحاد سے باہر آئس لینڈ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے۔

فلسطینی حکام نے سویڈن کے اعلان کو تاریخی قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوس ناک قرار دیا ہے۔

سویڈن کی وزیرِ خارجہ مارکوت ولسٹوایم نے معروف روزنامہ داغنیز داہتر میں لکھا ہے: ’آج حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

اس سے پہلے سویڈن کے وزیراعظم نے ایک ماہ پہلے فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا تھا۔

سویڈش وزیر خارجہ نے مزید کہا: ’یہ ایک اہم قدم ہے جو فلسطین کے حق خود ارادی کی تصدیق کرتا ہے۔‘

سویڈن کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یروشلم کے مقبوضہ مشرقی علاقے میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے سویڈن کے فیصلے کو جرات مندانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے دوسرے ممالک سے بھی اس تقلید کرنے کا کہا ہے۔

محمود عباس کے ترجمان نے ان کا بیان سناتے ہوئے کہا: ’دنیا کے ان تمام ممالک کو سویڈن کی پیروی کرنی چاہیے جو اب بھی سنہ 1967 کی سرحدوں کے تعین کے مطابق فلسطینی ریاست کی بنیاد پر ہماری آزادی کے حق کو تسلیم میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے سویڈن کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تنازعے کو حل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0