شخصیت پرستی اور دھوکہ دہی۔تحریر۔ نود بندگ بلوچ

پیر 27 اکتوبر, 2014

رنگنایا کاما::

موپالا رنگنایا کاما ایک معروف بھارتی حقوق نسواں کا علمبردار اور مارکسی لکھاری اور نقاد ہیں ۔ ان کے ابتک کئی مضامین اور کتابیں شائع ہوچکی ہیں ، جن میں سے سب سے مشہور ” زھریلی شجر ” ہے جس میں انہوں نے مقدس ہندو کتاب رامائن پر تنقیدی جائزہ لیا ہے ، ان کا طرہ امتیاز ہمیشہ سے انکا تنقیدی طرزِ تحریر رہا ہے ، ایک کٹر مارکسسٹ ہونے کے باوجود وہ مارکسی تھیوری کے مختلف پہلووں ، سماج میں عورت کے مقام اور انقلاب چین میں ماو کی شخصیت پرستی پر کئی تنقیدی مضامین لکھ چکا ہے جس کی وجہ سے کئی مارکسسٹوں کی طرف سے اسے مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے ۔
رنگنایا کاما اپنے ایک مضمون ” کیا شخصیت پرستی انقلاب کیلئے ضروری ہے ” میں کہتی ہے کہ ” کسی انقلابی لیڈر کے ایک پہلو پر تنقید کرنے کا مطلب اس کے مکمل کردار کو مسترد کرنا نہیں ہے ،انقلابی لیڈروں پر تنقید کرنا اور ان پر سوال اٹھانا کوئ جرم نہیں، اگر ہم نے اپنی اور اپنے لیڈروں کی غلطیاں تسلیم نہیں کی انکی ذمہ داری نہیں اٹھائ تو پھر دشمن انہیں فاش کرکے ان سے فائدہ اٹھائے گا۔ ہمیں کبھی اس ڈر میں نہیں رہنا چاہئے کہ خود پر اور اپنے لیڈروں پر تنقید کرنے سے ہم دشمن کے سامنے کمزور نظر آئیں گے بلکہ ہم اور مضبوط ہونگے کیونکہ اگر ایک انقلابی غلط رستے کو سمجھ کر اسے چھوڑ کر صحیح راستے پر گامزن ہو تو یہ ہمیں نہیں بلکہ دشمن کو کمزور کردیتا ہے ، جیسے جیسے ایک انقلابی فکری طور پر مستحکم ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے دشمن کمزور ہوتا ہے” وہ آگے اپنے شخصیت کو بھڑاوا دینے پر ماو پر تنقید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ “یہ ایک حقیقت ہے کہ ماو جیسے لیڈر سے یہ غلطی ہوئ کہ انہوں نے اپنے شخصیت کو بے حد بھڑاوا دیا اور انقلاب تعلیمات سے زیادہ اپنی شخصیت کی پرچار کی چین میں انقلاب سے پہلے اور بعد میں ماو کے شان میں اس طرح قصیدے لکھے جاتے تھے جسطرح پہلے بادشاہوں کیلئے لکھا جاتا تھا ، ان کے نام کے ساتھ عظیم اور چیئرمین کو ایسے پیوست کردیا گیا جیسے یہ انکا میراث ہو ، ان کے دیو ہیکل تصاویر آویزاں کی جاتی تھی حتیٰ کے کمیونسٹ پارٹی کا ” کیڈر پالیسی ” یہ بنایا گیا تھا کہ جو کوئ بھی فکر ماو سے اختلاف رکھے گا وہ تنظیم سے فارغ ہے ، انقلاب کے بعد وہ ایک ساتھ چار عہدوں پر براجمان ہوگئے” آگے شخصیت پرستی پر وہ ماو کے موقف کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ “اس پر ماو اکثر کہتا تھا کہ وہ اپنے شخصیت کو اس لیئے بڑھا کر پیش کرتے ہیں کیونکہ اس طرح لوگوں کی کثیر تعداد ان سے متاثر ہوکر تحریک سے جڑ جاتی ہے ، ماو نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ نچلی سطح پر پارٹی پر انکا گرفت کمزور ہے ، اپنے شخصیت کو ابھار کر وہ لوگوں کو قابو میں رکھ سکتے ہیں” ، اسکا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے اندر ماو کو اکثریت حاصل نہیں تھی اس لیئےپارٹی میں ماو کے پیروکار اسکی توصیف کرکے لوگوں کو اسکے گرد جمع کرنا چاہتے تھے تاکہ اسکا لابی مضبوط ہو ، اگر ایسی بات ہے تو کیا یہ طریقہ صحیح تھا ؟ اور اگر واقعی ایسی بات تھی تو باقی لیڈروں نے اپنے زیر اثر علاقوں میں کیوں ماو کی پذیرائی ہونے دی ؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر انقلابی تعلیم کے بجائے شخصیت کو نکھار کر اسے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو پھر اس شخصیت پر کس کا اجارہ ہوگا ؟، اس شخص کا یا اس پارٹی کے ایک محدود سرکل کا یا پھر پارٹی کا ؟ کون اسے استعمال کرسکےگا ؟ اس کا تو مطلب یہی ہے کہ آپ انقلاب کے اندر ایک ایسی چیز تخلیق کررہے ہو جسے استعمال کیا جاسکتا ہے ، وہ جس کے ہاتھ لگے وہ اسے اسی طرح استعمال کرے گا “۔ رنگانیا مزید کہتی ہیں کہ ” ماو کہتا تھا کہ شخصیت کے بدولت لوگوں کی اکثریت کو اپنی جانب کھینچا جاسکتا ہے ، لوگ ایک شخص کے پیچھے اس وقت چلتے ہیں جب انکے ذہنوں میں اس شخصیت کیلئے تعظیم احترام اور محبت جنم لے” ، آیئے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ دعویٰ سچ ہے ؟ اگر ماو کو عزت حاصل ہے اور وہ ایک لیڈر ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اس نے خدمات انجام دی ہیں اس وجہ سے لوگ اسکے پیچھے چلے اور وہ ایک لیڈر بن گیا ، ابتداء میں ماو کی شخصیت نے نہیں بلکہ اسکے خدمات اور تعلیمات نے اسے لیڈر بنایا ، اگر تعلیمات کے بجائے شخصیت پر لوگ آپ کے ساتھ ہوتے تو لوگ شروع میں کبھی ماو کے ساتھ ہی نہیں آتے پھر اب کیوں ماو کے تعلیمات ، کام اور نظریے کے بجائے اسکے شخصیت کو لوگوں کو راغب کرنے کا وجہ سمجھا جارہا ہے ؟ اگر یہ تھیوری صحیح ہوتی تو ماو کبھی لیڈر ہی نہیں بنتے۔ شخصیت کو آگے لانے سے آپ لوگوں کو ماو کے بارے میں بتاتے ہو انقلاب کے بارے میں نہیں اور ماو از خود انقلاب نہیں ہیں یعنی آپ شخصیت کو پروان چڑھا کر لوگوں کو انقلابی سیاسی تعلیم سے دور کررہے ہو۔ 1970 میں ماو نے کہا تھا کہ “انکے شخصیت کو اجاگر کرکے انقلاب کا جو مقصد حاصل کرنا تھا وہ حاصل کرلیا گیا اب اسکی ضرورت نہیں اس لیئے اسے آہستگی سے ختم ہونا چاہئے “، اگر ماو کے شخصیت کو اجاگر کرنا اور ماو کے بارے میں بتانا انقلاب کے بارے میں بتانا تھا تو پھر ہمیں کیوں اس عمل کو روکنا چاہئے ؟ انقلاب تو ایک نسل کیلئے نہیں ہوتی بلکہ ہر دور کیلئے ہوتی ہے پھر تو ہمیں ہر نئے نسل کو اسکے بارے میں بتانا چاہئے اور اگر اب اسکے شخصیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت نہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اسکی کبھی بھی ضرورت نہیں تھی ۔ صرف شخصیت اپنے مادی حقائق اور ذمینی حالت سے جڑا نہیں ہوتا ہے ، اسکی کوئ بنیاد نہیں ہوتی ہے ، اس لیئے یہ سیاسی تربیت نہیں بلکہ آیڈیل ازم ہوتا ہے اسکا مطلب لوگوں نے ماو سے انقلابی سیاسی تعلیم نہیں بلکہ مثالیت سیکھی ۔ انقلابی تعلیم سورج کی روشنی کی طرح ہوتی ہے جو ہر جگہ کو منور کرسکتی ہے پھر ایک پارٹی پر سورج کی وہ روشنی کیوں مہربان نہیں ہوگا ، آخر وہ روشنی ہر جگہ پھیل سکتی ہے تو پارٹی میں کیوں نہیں پھیل سکتی ، اسے کسی شخصیت کی ضرورت کیوں پڑے ؟۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انقلاب جیسی عظیم چیز ایک شخصیت کا محتاج ہو ، کیا انقلاب ایک شخص کی وجہ سے آتا ہے ، پھر دوسرے لیڈروں ، قربانی دینے والے کارکنوں ، سپاہیوں اور عوام کو آپ کہاں رکھیں گے ؟ انقلاب ہمیشہ لوگوں کے اشتراکِ عمل اور مجموعی قوت سے آتے ہیں اس لیئے انفرادیت کا شارٹ کٹ صرف نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ، فرد سے جڑا انقلاب اسکے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے (جیسا کے ماو کے بعد چین ) ۔ ایک لیڈر کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کے بارے میں شعور و آگہی دے پھر اسکے بعد یہ لوگوں کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اس صحیح راستے پر چلیں یا نہیں چلیں ۔ اگر صحیح راستے کی شعور کو پھیلانے کے بجائے ہم بس لوگوں کو پارٹی اور اپنے ذات کی طرف کھینچنے میں لگ جائیں تو یہ شارٹ کٹ ہے اسے ” انقلابی مقصد ” نہیں بلکہ ” انقلابی جنون ” کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک امریکی صحافی ایڈورڈ سنو نے لکھا ہے کہ جب انہوں نے ماو سے یہ پوچھا تھا کہ اسکی شخصیت کو کیوں اتنا زیادہ اجاگر کیا جاتا ہے تو ماو نے کہا تھا کہ “کیا امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا ؟ ایک گورنر یا صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد انکے بھی ہزاروں مداح بن جاتے ہیں ، یہ انسان کا بنیادی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ اسے پوجا جائے اور وہ کسی کی پوجا کرے” ۔ ہم سنو کے اس بات کو شاید جھوٹ سمجھ کر مسترد کردیتے کہ ایک بڑا لیڈر ایسا کیسےکہہ سکتا ہے لیکن بعد میں یہی انٹرویو 1970 میں ایک چائینیز اخبار میں بھی چھپا تھا اور آج تک کسی نے اس کی تردید بھی نہیں کی ہے ، اس سے ظاھر ہوتا ہے کہ شخصیت کو اجاگر کرنے کا اصل مقصد کیا ہے، ایک لیڈر کی شخصیت سازی کرکے اسے پارٹی کے اندر ہی ایک پارٹی بنائی جاتی ہے یا پارٹی کا نعم البدل بنایا جاتا ہے جو صرف ایک نقصان ہے ”
رنگنایا کاما اپنے طویل مضمون میں دلائل کے ساتھ انقلابی سیاست میں شخصیت پرستی اور شخصیت سازی کو ہدف تنقید بناکر مسترد کرتی ہے اور ایک انقلابی لیڈر کی شخصیت کو اجاگر کرنے اور شخصیت پرستی کو فروغ دینے کے پانچ بڑے نقصانات بتاتی ہے۔
1۔ یہ تنظیم میں مثالیت پسندی کو فروغ دیتا ہے۔
2۔ یہ انفرادیت کو تقویت بخش کر یہ عام تاثر پھیلاتی ہے کہ بڑے کارنامے صرف بڑے اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک لوگ ہی سر انجام دے سکتے ہیں عام لوگ نہیں ۔
3۔ یہ گروہیت کو جنم دیتی ہے، اس کی وجہ سے انقلابی قیادت کے بیچ اختلافات جنم لیتے ہیں ۔
4۔ یہ لیڈر کو عوام سے کاٹ دیتی ہے ، اسکے بعد لیڈر وہ شخص نہیں بنتا جو لوگوں کے ساتھ رہ کر انہیں پڑھتا ہے بلکہ لیڈر ایسے چیز بنتا ہے جو سب جانتا ہے ۔ جو لیڈر اس سطح تک پہنچ جائے اس کے قیادت کا جواز ختم ہوجاتا ہے ۔
5۔ یہ دشمن کو مضبوط کرتا ہے ، کیونکہ لوگوں کا شعور جامد ہوجاتا ہے وہ ایک شخصیت پر آکر رک جاتی ہے انقلابیوں کا جمود دشمن کی طاقت ہوتی ہے ۔
آخر میں وہ کہتی ہے کہ ” ماو اور اسٹالن نے اس لیئے اپنے شخصیت کا سہارہ لیا کیونکہ وہ کمزور تھے ، لینن بھی اسی طرح کے سماج میں رہتا تھا لیکن انہوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا ۔ انقلاب میں اور انقلابی قیادت سے غلطیاں ہوتی ہیں ، اگر ہمارے آج کے انقلابی یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ انکے قیادت سے غلطیاں ہوئ تو یقین کریں وہ بخشے نہیں جائیں گے بلکہ کل کے انقلابی ضرور اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ انکی قیادت غلط تھی ، یاد رکھیں تاریخ کسی بھی شخص کی کوئ بھی غلطی معاف نہیں کرتی ، یہ ہر غلط اور غلطی کو مسترد کرکے صرف صحیح کو تسلیم کرتا ہے اور صرف صحیح کو ہی مستقبل میں قدم رکھنے کا اجازت دیتا ہے ” ۔
تصویر کشی ::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا آئے روز میڈیا پر نئی تصویریں تواتر کے ساتھ آتے رہتے ہیں لیکن کچھ دن سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر صاحب کے دنبورہ کے ساتھ تصویر موضوعِ بحث بنا رہا ،آلاتِ موسیقی استعمال کرنا یا موسیقی سے لطف اندوز ہونا ہرگز عملِ مانع نہیں ہے ، اگر کوئ ڈاکٹر صاحب پر اس تناظر میں تنقید کرتا ہے کہ انہوں نے دنبورہ کیوں استعمال کیا ہے تو میری ناقص رائے میں وہ انصاف نہیں کررہا ہے ، لیکن اگر آپ اس تصویر کے تسلسل کو دیکھیں تو یقیناً یہ قابلِ تنقید بھی ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب شروع دن سے آج تک اپنے تصویروں کے طفیل اپنے شخصیت کو نکھار کر پیش کرنے اور اپنے بارے میں حقائق سے منافی تصور پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ، مطلب ہم میں سے اکثر یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ڈاکٹر کو دنبورہ بجانا نہیں آتا لیکن اس کے ساتھ تصویر کھینچوا کر عام کرانا صرف یہ ظاھر کرنے کی سعی ہے کہ میں بہت بڑا موسیقی پسند انسان ہوں ، اسی طرح ڈاکٹر صاحب کی کبوتروں کے ساتھ تصویریں ہوں یا نماز پڑھتے ہوئے تصویریں یا پھر ٹائم میگزین ہاتھ میں اٹھائے تصویریں سب کے پیچھے یہی سوچ پوشیدہ ہے کہ اپنے بارے میں پرہیزگار ، جانور دوست اور باخبر کا تصور پھیلایا جائے ، اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اسکی ضرورت ہے ؟ بلکہ اس سے بھی بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جو پیش کیا جارہا ہے وہ سچ ہے ؟ تو دونوں کا جواب نفی میں ملتا ہے ، پھر سوال اٹھتا ہے کہ آخر پیش کیوں کیا جاتا ہے ؟ یقین جانئے صرف اسلئے کہ اپنے شخصیت کو نکھار کر پیش کرکے لوگوں کو اس کے سحر میں گرفتار کیا جائے تاکہ پیروکاروں کا ایک مضبوط تر اور وسیع تر جھنڈ تیار کیا جاسکے ، یعنی شخصیت پرستی کو فروغ دینا مزید وضاحت سے کہا جائےتو لوگ تحریک سے جڑ کا ڈاکٹر صاحب کا ساتھ نا دیں بلکہ ڈاکٹر صاحب سے جڑ کر تحریک کا ساتھ دیں ان دونوں میں بڑا فرق ہے اول الذکر میں ڈاکٹر رہے یا نا رہے لیکن لوگ تحریک کے ساتھ ہونگے لیکن آخرالذکر میں تحریک ہو یا نا ہو لیکن لوگ ڈاکٹر کے ساتھ ہونگے یہ وہی بات ہوئ نا کہ ہمیں منزل نہیں رہنما چاہئے ۔ اب پتہ نہیں یہ روز کے نت نئے مزاحقہ خیز حد تک کے غیر سنجیدہ تصاویر ماو کا چربہ ہے یا پھر ڈاکٹر صاحب کے اپنے ذہن کا اختراع ۔ کم از کم میں یہی سمجھتا ہوں کہ فکر کے بجائے قوم کو شخصیت سے باندھنے والا ہر عمل بے ادب حد تک قابلِ تنقید ہے ، بے ادب حد تک اس لیئے تاکہ جھوٹ کی طاقت سے جس شخصیت کی آبیاری کی جارہی ہے اسے بے رحمی سے پاش پاش کیا جائے ، ہر وہ عمل جس کا بنیاد جھوٹ اور سراب ہو وہ کبھی بھی لائق احترام نہیں ہوسکتا ، لحاظ ، خاطر ، مصلحت ، میانہ روی جیسے رویوں کیلئے انقلابی عمل میں گنجائش نہیں ہوتا۔ ایک دوست کہتا ہے کہ اس میں ڈاکٹر کا کیا قصور ہے ، نوجوان ان کے پاس جاتے ہیں اور تصویریں کھینچ کر پھیلاتے ہیں وہ خود تو نہیں کررہے ہیں ، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر نہیں چاہے اور منع کردے کیا پھر بھی نوجوان اسکی تصویریں اسی طرح دیں گے؟ بی ایس او کے ایک سابقہ چیئرمین اور موجودہ بی ایل اے کمانڈر نے سب کو منع کردیا تھا کہ اسکی بندوق بردار تصویریں کوئی شائع نہیں کرے اسکے بعد آج تک ہمیں اسکی تصویریں کسی نامعلوم شخص کی طرف سے بھی شائع ہوتے نظر نہیں آتے ،صرف ایک بار ایک دوست نے جب شائع بھی کی تو اس سے سخت جواب طلبی ہوئ جس کے بعد فوراً وہ تصویر منظر عام سے ہٹادیا گیا، کیا ڈاکٹر ایسا نہیں کرسکتے ؟ یا ایسا کرنا نہیں چاہتے ؟ بات سادہ سی ہی ڈاکٹر دنبورہ بجائے ، ڈھول پیٹے یا رقص کرے کسی کو کوئ تکلیف نہیں لیکن ڈاکٹر صاحب جب ایک سلسلہ وار سوچے سمجھے طریقے سے اپنے شخصیت کو تحریک پر حاوی کرکے قوم کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کریں گے تو پھر ہم جیسے ہر ادنیٰ سیاسی کارکن کا کوشش ہوگا کہ لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے گرد ہٹائیں ۔
بی ایل ایف کا بیان ::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ عوام کا استعمال سیاست میں انتہائ کثرت سے ہوتا ہے ، میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ عوام آخر ہے کون جس سے ہر کوئ مخاطب ہے ، ہر کوئ اس کے اہمیت کی بات کرتا ہے لیکن پھر بھی اسے کسی کھاتے میں بھی نہیں لاتا ، میری ناقص رائے میں اگر روائتی اور عمومی سیاست کے رو سے دیکھا جائے تو عوام کا مطلب ووٹ اور عدد ہوتا ہے ، اس میں ہیرا پھیری ، جعلسازی ، جھوٹے دعوے و تسلیوں سے اونچ نیچ لایا جاسکتا ہے ، لیکن انقلابی سیاست میں میرے رائے میں عوام کو تعداد اور ووٹ کے تناظر میں دیکھنا اور اسی طرح اسے مخاطب کرنا یا اس سے سلوک کرنا انقلاب کے ساتھ بد نیتی ہے ، انقلابی سیاست میں عوام کسی بھی سماج کا اجتماعی سیاسی شعور ہے ، یہاں سیاسی کام لوگوں کو ووٹ دینے کیلئے راضی کرنا نہیں ہوتا بلکہ اجتماعی سیاسی شعور کے سطح کو بلند کرنا ہوتا ہے ہوسکتا ہے میں غلط ہوں لیکن عوام جو بھی ہو اس کے ساتھ بی ایل ایف کا رویہ دیکھ کر مجھے 2001 میں امریکی صدر جارج بش کے امریکی عوام سے خطاب یاد آجاتے ہیں ۔ ایک ہفتہ کے دوران بی ایل ایف نے دو ایسے بیانات جاری کی ہے جن کا لب لباب صرف یہ ہے کہ ” بی ایل ایف تو روکنے کی بہت کوشش کررہی ہے لیکن بی ایل اے اور یو بی اے آپس میں لڑرہے ہیں ” ان دو مختصر بیانات میں حقائق کے ایک وسیع ذخیرے کو ایسے بلا خوف و خطر مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے ، جیسے نا کوئ سوچنے والا ہے اور نا ہی کبھی کوئ پوچھنے والا ، یقیناً بی ایل ایف نے یہ بیانات اسی عوام کیلئے ہی دیئے ہے ورنہ بلوچ سیاست میں عملی طور پر متحرک ہر فرد جانتا ہے کہ حقائق کیا ہیں ۔ بی ایل ایف اپنے سابقہ بیان میں کہتا ہے کہ ہم نے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اگر پوچھا جائے کہ آپکی وہ کوششیں کیا تھی تو جواب کیا ہوگا ؟ کیا ڈاکٹر اللہ نظر صاحب اس حقیقت کو جھٹلائیں گے کہ بی ایل اے کے دوست مسلسل ان سے رابطے رکھ رہے تھے اور ان کا ایک کمانڈر تک آپ کے پاس آیا تھا تاکہ آپ ان مسائل کو حل کریں لیکن آپکی طرف سے ثالثی کجا آپ نے متنازعہ تنظیم یو بی اے کے ساتھ اتحاد قائم کرلیا اور آپکا بیرونِ ملک نمائیندہ ان کے ساتھ ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یہ تاثر دے رہی تھی کہ آپ انکے ہر عمل میں شریک اور معاون ہیں ، آج اپنے بیان میں بی ایل ایف کہتی ہے کہ دونوں تنظیم لڑنے کے بجائے مسائل دوسرے آزادی پسند تنظیموں کے ثالثی سے حل کریں ، اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ دوسرے آزادی پسند یعنی بی ایل ایف اور بی آر اے ثالث کیسے بن سکتے ہیں ، مسئلہ تو یہ ہے کہ یو بی اے کا قیام بلا جواز ہے اور بلوچ قومی مڈی پر انکا قبضہ دشمن کے قبضے کے مترادف ہے ، آپ دونوں نے تو یو بی اے کے ساتھ بغیر کسی ثالثی اور بغیر کسی فیصلے کے اتحاد کرلیا اور اس کی حمایت کرکے اس کے قیام کے جواز کو تسلیم کرلیا اب آپ کیسےاپنی ثالثی پیش کررہے ہیں ، کیا فریق کبھی ثالث ہوسکتا ہے ؟ ایسی بھی بات نہیں کہ راتوں رات حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ یو بی اے اور بی ایل اے آمنے سامنے کھڑے ہوگئے یہ تو اپنے پیچھے ایک طویل تسلسل رکھتا ہے جس قوم کو آپ بیوقوف بنانے کیلئے بیانات جاری کررہے ہو کیا آپ اسے بتاسکتے ہیں کہ اس 4 سال کے دوران آپ نے کیا کوششیں کی ؟ بی ایل اے نے اس مسئلہ پر اپنا موقف تمام آزادی پسند جماعتوں کے قیادت سمیت میڈیا کے توسط سے ہر سیاسی کارکن تک پہنچایا لیکن کسی کی طرف سے کوئ بھی ردعمل نہیں آیا اور نا ہی کوئ عملی کوشش دِکھی اور اسی دوران آج تک یو بی اے قوم کے سامنے باقی مسائل پر موقف کجا اپنے قیام کا جواز تک پیش نا کرسکے اس جواز کا دفاع تو دور کی بات ہے ، اب پھر بھی کل کو کوئ بھی مسلح تصادم ہوتی ہے تو پھر اسکا ذمہ دار کون ہوگا ؟ بی ایل ایف اپنے بیان میں آگے کہتا ہے کہ “مسلح تصادم میں جو فریق بھی پہل کرکے دوسرے پر حملہ آور ہوگا بلوچ قوم اُسے معاف نہیں کریگی ” مسلح تصادم میں پہل کسے کہتے ہیں ؟ کیا بی ایل اے کے ذمہ داروں کے راستوں میں تین بار مائن بچھانا اور ایک کے زد میں آنے سے ایک دوست کا زخمی ہوجانا مسلح تصادم میں پہل کرنا نہیں ؟ پہل تو ہوچکی ہے لیکن ابھی تک پتہ نہیں چل رہا ہے کہ بلوچ قوم اسے معاف کیسے نہیں کرے گی اور معاف نا کرنا “مطلب سزا دینا” کیسا ہوگا ؟ اب بی ایل ایف نے بیان تو جاری کردیا ہے تو اب بسمہ اللہ کرے لفاظی سے نکلے اور بلوچ قوم کی نمائیندگی کرتے ہوئے یو بی اے کیلئے کوئ سزا تفویض کریں ؟ نہیں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہاں ہر بات صرف جھوٹ اور دھوکہ ہے ۔ جس عوام کو مقدس اور طاقت کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں انکا کام صرف انہیں دھوکے میں رکھنا ہے ۔ بی ایل ایف آگے کہتی ہے کہ ” یاد رکھنا چاہیے کہ 1980 کی دہائی میں افغان ہجرت کے دوران میر ہزار خان بجارانی اور اُس کے گروہ کی علیٰحدگی کے وقت بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو گئی تھی مگر مرحوم سردار خیر بخش مری کی تحمل اور دور اندیشی کے باعث تصادم نہیں ہوا تھا اور برادر کشی سے بچ گئے تھے ” برادر کشی اور خانہ جنگی پر بعد میں آئیں گے پہلے میرے خیال میں بی ایل ایف کو برادر اور خانہ کا مطلب سمجھ لینا چاہئے اگر ایک ہزار لیویز اہلکار سرکار سے لیکر ان کے مدد سے تحریک کے خلاف ایک لشکر بنانے اور جہد کاروں کے سامنے رکاوٹ بننے اور ان پر حملے کرنے کے بعد بھی ھزار خان بجارانی برادر اور اسکا مارنا برادر کشی میں آتا ہے تو پھر میرے خیال میں شفیق مینگل ، مقبول شمبیزئ ، سراج رئیسانی وغیرہ بھی براردر ہی کہلائیں گے ، بی ایل ایف کے بقول نواب صاحب نے ” تحمل اور دور اندیشی ” کا مظاھرہ کرتے ہوئے 1980 میں ھزار خان کو چھوڑ کر برادر کشی سے بچایا تھا ، اتنا عرض کروں گا کہ کاش کے نواب صاحب اس وقت ” تحمل اور دور اندیشی ” کا مظاھرہ نا کرتے تو آج تحریک کے سامنے ھزار خان جیسا رکاوٹ نا ہوتا ، ویسے بی ایل ایف سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا کہ اب اگر انہیں موقع مل جائے ھزار خان جیسے غدار کو ختم کرنے کا تو وہ موقع کا فائدہ اٹھائیں گے یا تحمل اور دور اندیشی کا مظاھرہ کریں گے؟ ویسے مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی یہاں بی ایل ایف ، یو بی اے کو ھزار خان سے تشبیہہ دے رہا ہے اسکا مطلب کیا ہے ؟ یو بی اے ھزار خان جیسا غدار ہے یا ھزار خان بچارہ صحیح تھا اسے مجبور کرکے علیحدہ قوم پرست تنظیم ” بجارانی فورس ” بنانا پڑا ، جنیوا کے یارانے دیکھ کر تو مجھے نہیں لگتا کہ بی ایل ایف یہاں یو بی اے کو غدار کہے گا پھر تو سامنے ایک ہی صورتحال آتی ہے کہ میر ھزار خان کو یو بی اے جیسا کہا جارہا ہے یعنی اس کیلئے ایک نرم گوشہ ظاھر کیا جارہا ہے ۔ اب یہ سمجھنے کیلئے کہ یہ نرم گوشہ کیوں ہے شاید وقت کا انتظار کرنا پڑے ، ویسے کچھ دن پہلے بی ایس او آزاد کے ایک کارکن سے بات چیت ہوئ انکا کہنا تھا کہ میر محمد تالپور نے کہا ہے کہ ھزار خان بجارانی قوم دوست ہیں اسکے بعد بی ایس او کا موقف بھی بدلا بدلا سا لگ رہا ہے ، اب تالپور صاحب اور بجارانی صاحب کے دیرینہ تعلقات اور اسکے بعد تالپور کا بی ایس او کے توسط سے فلانی فلانی سے تعلقات پتہ نہیں میرے اندیشوں کو مستقبل میں کس قدر ہوا کرسکیں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بی ایل ایف اپنے بیانات کے توسط سے صرف خانہ پری کررہی ہے عملی طور پر ان مسائل کو حل کرنے میں کوئ کردار ادا کرنا کجا بی ایل ایف خود اس مسئلے میں ایک مضبوط فریق کی سی حیثیت رکھتا ہے ، اگر یو بی اے کے قیام کے وقت صرف ان سے اتنا پوچھا جاتا کہ آپ اپنے قیام کا کوئ جائز سا جواز دے دیں تو شاید یہ مسئلے وہیں حل ہوجاتے لیکن اپنے مخصوص گروہی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے نا صرف بی ایل ایف بلکہ براہمداغ اور جاوید مینگل نے یو بی اے بننے اور بلوچ قومی مڈی پر قبضہ کرنے میں مھران اور باقی کچھ سزا یافتگان کی بھر پور حوصلہ افزائ کی حتیٰ کے اب بی ایل ایف جو بیانات دے رہا ہے ظاھراً تو ایسا لگتا ہے کہ بی ایل ایف ایک غیر جانبدار تنظیم کی حیثیت سے بات کررہا ہے لیکن حقیقت یہ نہیں بی ایل ایف اپنے ان بیانات میں بھی مکمل طور پر یو بی اے کی سیاسی حمایت کررہا ہے ، یعنی یو بی اے باقاعدہ طور پر بی ایل اے کے دوستوں پر حملہ کرچکا ہے لیکن پھر بھی بی ایل ایف یہ بیان دیکر کہ “جو بھی پہلے حملہ کرے گا اسے قوم معاف نہیں کرے گا” سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اگر بی ایل اے اپنے دفاع میں کل کو کوئ حملہ کر بھی دے تو یہ ظاھر کیا جائے کہ پہلے تو کچھ نہیں ہوا اب ابتداء بی ایل اے نے کیا ہے یعنی بی ایل ایف ایک طرف اپنے سیاسی منافقانہ بیان سے یہ چاہتا ہے کہ بی ایل اے کے ہاتھ بندھے رہیں اور دوسری طرف خود کو معصوم ظاھر کرکے یہ تاثر دے رہا ہے کہ ہم نے تو بہت کوشش کی تھی ۔ اصل میں ہماری انقلابی جماعتوں اور پاکستانی پارٹیوں کا عوام کا تصور اس کے سامنے پیش ہونے کا طریقہ یکساں ہی ہے یعنی اسے ایک دھوکے میں رکھو ، بلند خیالات دکھاو ، اس سے جھوٹ بولو اور حسبِ توفیق مخصوص مفادات کیلئے استعمال کرکے پھینک دو لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوگا اب کوئ بھی جھوٹ بول کر عوام اور عوامی مفاد کے نام پر اپنے مخصوص مفادات پورا نہیں کرسکے گا کیونکہ جھوٹ اور دھوکہ دہی کی ایک عمر ہوتی ہے ، آپ اور آپکے طرز فکر کے مالک سیاستدانوں نے ایک طویل عرصے سے یہ کرلیا ، اب وقت بدل گیا بی ایل ایف خانہ پری اور تاریخی ریکارڈ کیلئے جو بیانات دے رہا ہے جب تاریخ انہیں یاد کرے گی تو ساتھ میں یہ تذکرہ بھی ضرور ہوگا کہ ان بیانات کو آنکھیں بند کرکے تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ ان پر سوالات اٹھے ، ان کےپیچھے پوشیدہ مفادات کو آشکار کیا گیا ، تاریخ ساتھ میں اس دھوکہ دہی کو بھی یاد کرے گی ۔
اختتامیہ::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاھر تو یہ تینوں موضوع مختلف لگتے ہیں ، لیکن اگر غور کریں پرستش کی خاطر شخصیت سازی ہو یا پھر بناوٹی تصویروں کے تشہیر کا تسلسل یا خانہ پری کے خاطر حقائق سے منافی بیانات سب کا مطمع نظر اور مقصد فریب اور دھوکہ ہی ہے ۔ اب اس موضوع کو بند کرنے کے بجائے میں چاہتا ہوں کہ اس کا اختتام آپ خود یہ سوچ کرکریں کہ کیا جھوٹ و فریب اور حقیقی آزادی ایک ساتھ چل سکتے ہیں ؟ کیا فریب کے بیساکھیوں پر کھڑی لیڈر شپ اس قوم کے رہنمائ کی لائق ہے ؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0