شہداء نے غلامی کے خلاف جس جذبہ کے ساتھ جدوجہدکی وہ مثالی ہے:بی ایس ایف

ہفتہ 14 اکتوبر, 2017

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاہے کہ بلوچ قومی آزادی کا مطالبہ جس تیز رفتاری سے آج عالمی سطح پر متعارف ہوائے یہ بلوچ شہداء کی بیش بہا قربانیو ں اور بے پناہ جدوجہد کا نتیجہ ہے شہداء نے غلامی کے خلاف جس جذبہ اور پختہ کمٹمنٹ کے ساتھ جدوجہدکی وہ مثالی ہے ان کی کوششیں بلوچ قوم کے لئے میراث سے کم نہیں انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ورثہ میں ہمارے لئے آزادی کے عظیم مشن چھوڑی ترجمان نے کہاکہ موقع پرست پارلیمانی جماعتوں نے بلوچ قوم کو مایوسی اور غلامی کے سوا کچھ نہیں دیا لیکن شہداء نے اپنی بے لوث عمل سے بلوچ سماج میں پارلیمانی سیاست کے گنجائش کم چھوڑی آزادی کی جدوجہد کو وسیع تر عوامی حلقوں میں پزیرائی ملی بلوچ عوام کی آزادی کی جدوجہد کی جانب وابستگی اور رجحان میں تیزی آئی ترجمان نے کہاکہ شہید ابراہیم نیچاری شہید عبدالقادر بلوچ شہید شفقت رودینی شہید عثمان مری شہید بازخان مری شہید فقیر عاجز اور دیگر بلوچ شہداء کوان کی قربانیوں اور جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کے بے لوث جدوجہدنے انٹر نیشنل کمیونٹی کو بلوچ آزادی کے مسئلہ پر نہ صر ف سنجیدہ کردیا ہے بلکہ دنیاکو باور کرایا گیاہے کہ بلوچ ایک آزاداور خود مختار قوم ہے بلوچ قوم کی اپنی الگ شناخت زبان ثقافت تاریخ اور وطن ہے اور آزادی کے بغیر بلوچ مسئلہ کا کوئی تیسرا حل نہیں اس کے علاوہ کوئی بھی موقف کوئی بھی مطالبہ بلوچ قوم کا مطالبہ نہیں بلکہ چند پارٹیوں کا مطالبہ ہوسکتا ہے جو ریاست کے ساتھ شیئر پالیٹکس کررہے ہیں جن کا بلوچ جہد آزادی سے کوئی واسطہ نہیں ان کا بلوچ شہداء جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں شہدا کی جدوجہد گوادر میں حصہ داری کا نہیں بلکہ بلوچ وطن کے ایک ایک انچ کی آزادی کا ہے آج بلوچ قوم کو ان کی آزادی سے محروم کیا گیا ہے آزادی ہی ان کی محرومیوں کا مداوا ہے ان کی دکھوں اور زخموں کا مداوا ایک آزاد وطن میں ممکن ہے گوادر میں حصہ داری کی سیاست یا محض صوبہ جاتی سیاست سے بلوچ قوم کے مسائل کم نہیں ہوں گے پچھلے چالیس سالوں سے کٹھ پتلی پارلیمنٹ نے بلوچ عوام کے دکھوں کو کم نہیں کیا ہے بلکہ ان میں اضافہ کیا ہے آج بلوچ قوم کی دانشور زانت کار اور اہل علم طبقہ اور سکلڈ افراد جوقربانی کے اس شاہراہ کا انتخاب کسی صوبہ جاتی سیاست کے لئے نہیں کی اور انہوں نے اس لئے قربانی نہیں دی کہ چند پارٹی اور اسلام آباد سے سمجھوتہ کرنے والے بلوچ ان کی جدوجہد کو کریش کریں ان کی شہادت کو آزادی کے بجائے صوبائی خود مختیاری اور محض گوادر پر نام نہاد کنٹرول کیلئے استعما ل کریں بلکہ شہدا کی جدوجہد کا نعم البدل آزادی ہے انہوں نے ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی جانیں نچھاور کی تاکہ عالمی صفوں میں بلوچ ایک آزاد اور باوقا ر قوم کی حیثیت سے اپنی آذادقومی شناخت کو ممکن بناسکیں اوربے شمار معدنی وسائل اورطویل جغرافیہ اور شاندار تاریخی پس منظر رکھنے کے باوجود بلوچ غلامی اور محتاجی کی زندگی گزارنے کے بجائے اپنی سرزمین پر آزادی کے ساتھ جیتے ہوئے زندگی گزاریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0