شہداء کو مختلف گروہوں میں بانٹنے کے بجائے ایک ہوکر 13 نومبر کے دن یاد کرکے بلوچ یکجہتی کا ثبوت دیں ،شہداء کمیٹی

بدھ 12 نومبر, 2014

گذشتہ روز ماہ زیب بلوچ ترجمان بلوچ شہداء کمیٹی کی ہونے والی پریس کانفرنس کی مکمل تفصیل
معزز صحافی حضرات
بلوچ قوم گذشتہ 66 سالوں سے نا صرف اپنی بنیادی انسانی حق ، آزادی اور اپنے قسمت کا فیصلہ خود کرنے سے بزورطاقت محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس دوران بد ترین انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا بھی شکار رہا ہے ، انسانی اور قومی برابری و آزادی کے اس جدوجہد میں ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں کو پاکستانی فوج اور اسکے خفیہ اداروں نے شہید کردیا ہے اور اس سے بھی بڑی تعداد اغواء کرکے لاپتہ کردیئے گئے ہیں ، شہداء کی یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ شاید درست اعداد و شمار پیش کرنا ممکنات میں شامل نا ہو لیکن صرف گذشتہ ایک دہائی پر اگر نظر ڈالیں تو 20000 سے زائد بلوچوں کو پاکستانی خفیہ اداروں نے اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے اور ان میں سے 1600 سے زائد کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے طول و عرض میں مختلف اوقات میں پھینکی گئی ہیں ، اس کے علاوہ خفیہ اداروں کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ اور پاکستانی ہیلی کاپٹروں و جیٹ طیاروں کی بمباری سے شہید ہونے والے بلوچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ، ان شہداء میں سے اکثر بلوچ سیاسی کارکنان تھے جو اپنے بنیادی انسانی حقوق بشمول آزادی کیلئے سیاسی جدوجہد کررہے تھے ، جو کسی بھی انسان کا بنیادی انسانی اور سیاسی حق ہے۔ ان شہداء کے بیش بہا اور لازوال قربانیوں نے بلوچ قوم میں اپنے حالات بدلنے کا شعور پہلایا اور انہیں جدوجہد پر آمادہ کرکے ایک نقطہ پر جمع کردیا ۔ ان شہداء کے لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان شہداء سے تجدید عہد کرنے کیلئے بلوچ قوم نے مشترکہ طور پر 13 نومبر کا دن بلوچ شہداء کیلئے مختص کردیا ہے ۔
معزز سامعین کرام!
13 نومبر کا دن بلوچ قومی تاریخ میں ایک انتہائی اہم دن ہے ، یہ وہ دن تھا جب سامراج برطانیہ نے 1839 میں بلوچ سر زمین پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا اور بلوچ قوم کی آزادی سلب کی ، اس دن بلوچوں نے اس عالمی قوت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور غلامی کو قبول کرنے کے بجائے مزاحمت اور وطن کے دفاع کو ترجیح دی ۔ اسی دن خان محراب خان اپنے ساتھیوں سمیت قابض فو ج سے ٹکرائے اور جام شہادت نوش کی۔ یہ دن اس طویل 175 سالہ غلامی کے آغاز کا دن تھا اور یہی وہ دن تھا جب شہادتوں کے اس سلسلے کا آغاز ہوا ۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بلوچ سرزمین کا دفاع اور اسکی آزادی ہمارے زندگیوں سے زیادہ اہم ہے اور یہی دن ہمیں سکھاتا ہے کہ جب سرزمین پر آنچ آئے تو تمام بلوچ بلا امتیاز رنگ ، نسل ، قبیلہ اور طبقہ وطن کے حفاظت کیلئے سینہ سپر ہوجائیں ۔ اس دن کی تاریخی اہمیت کو ملحوظِ خاطر رکھ کر بلوچ قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ تاابد 13 نومبر کا دن بلوچ شہداء سے منسوب کرکے ہر سال انہیں یاد کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے ۔
محترم صحافی کرام!
بلوچ شہداء کمیٹی گذشتہ تین سالوں سے ہر سال 13 نومبر کا دن بلوچستان بھر میں عقیدت اور احترام کے ساتھ مناتی آرہی ہے ، بلوچ شہداء کمیٹی بلوچ شہداء کے لواحقین کا اجتماعی مرکز ہے ، اس پلیٹ فارم سے تمام بلوچ شہداء کے لواحقین کو جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور حتی الامکان باہمی تعاون سے نا صرف ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ شہداء کے مقصد اور ان کے مشن کو قوم کے سامنے اجاگر کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے ، بلوچ شہداء کمیٹی کا مقصد بلوچ عوام کو بھی ایک نقطہ پر جمع کرنا ہے تاکہ وہ گروہ بندی سے نکل کر بلوچ شہداء کو بلا تفریق یاد کریں ، انہیں کماحقہ اعزاز سے نوازیں ۔ ان تمام بلوچ شہداء کو برابر اور یکساں مقام دینے اور ایک ساتھ یاد کرنے اور انہیں تاریخ میں امر کرنے کیلئے بلوچ شہداء کمیٹی 13 نومبر کے دن کا بھرپور حمایت کرتی ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچستان بھر میں شہداء کی یاد میں پروگرام منعقد کررہی ہے ۔
معزز صحافی خواتین و حضرات!
بلوچ شہداء کمیٹی اس سال بھی 13 نومبر کے دن تین مرکزی پروگرام منعقد کرے گی پہلا کراچی میں دن 12 بجے کراچی پریس کلب کے سامنے شہداء کی یاد میں جمع ہوکر بلوچ شہداء کو خراج تحسین پیش کی جائے گی ، اسکے علاوہ کوئٹہ میں شام 5 بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر چراغاں کیا جائیگا اورتمپ میں شہداء کی یاد میں ایک ریلی نکالی جائیگی ۔ انکے علاوہ بلوچستان کے باقی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بلوچ قوم دوست اور بلوچ شہداء کے لواحقین جمع ہوکر شہداء کو خراج تحسین پیش کریں گے اور انکی تصویریں جگہ جگہ آویزاں کرکے چراغاں کیا جائیگا ۔ ہم تمام بلوچوں اور خاص طور پر بلوچ شہداء کے لواحقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان بلوچ شہداء کے لازوال اور تاریخی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے ساتھ تجدید عہد کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ان پروگراموں میں شرکت کریں اور دنیا پر واضح کردیں کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اپنے ان شہداء کو اور نا انکے مقصد کو بھولے ہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں کیلئے اپنی قیمتی زندگیاں قربان کردی ۔ بلوچ شہداء کمیٹی تمام بلوچ سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ شہداء کو مختلف گروہوں اور درجات میں بانٹنے کے بجائے ایک ہوکر اس 13 نومبر کے دن مل کر ان شہداء کو برابری کے ساتھ یاد کرکے بلوچ یکجہتی کا ثبوت دیں ۔
شکریہ

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0