شہداء کے بے لوث عمل ہمیشہ انمٹ اورقابل تقلید رہتے ہیں۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

ہفتہ 11 اکتوبر, 2014

آزا د بلوچ ریاست کے قیام کے بغیر اقوام عالم کو خطے میں سیاسی معاشی سماجی اورتجارتی مشکلات کا سامناہوگا
سفارتی کوششوں سے بلوچ مسئلہ کے حوالہ سے ریاست کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کو دھچکہ لگاہے

کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار مومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ وطن موومنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل شہید غلام اللہ بلوچ شہید بالاچ وحید بلوچ شہدائے عالمو شہید علی محمد لانگو کی قومی جدوجہد میں خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ قومی آزادی کے لئے شہداء کی لازوال قربان ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی شہداء نے وقت اور حالات کو ہاتھ میں لیکر بلوچستان پر نوآبادی یلغار کے خلاف سرگرم رہتے ہوئے قومی آزادی کے لئے ریاست کے تمام مکروہ حربوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے غلامی قبول کرنے کے بجائے اپنی جانوں سے گزر گئے ترجمان نے کہاکہ عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی پیش رفت اوربلوچ آزادی کے حق میں عالمی حمایت شہداء کی انتھک جدوجہد اور بلوچ رہنماؤں کی کوششوں کا نتیجہ ہے آج سفارتی سطح پر بلوچ تحریک آزادی کے حق میں ہمسائیہ ممالک اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے جس اخلاقی حمایت کا ماحول بن رہاہے یہ شہداء کی تاریخی اور مثالی قربانیوں کا ثمر ہے وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کو عالمی برادری کی جانب سے بے پناہ حمایت حاصل ہوگی کیونکہ عالمی سطح پر رونماء ہونے والے تبدیلیوں اور خطے میں نئی صف بندیوں سے یہ حوصلہ ملتاہے کہ عالمی دنیا بلوچ قومی آزا دی کی حمایت میں ضرور سنجیدگی دکھائی گئی اور عالمی دنیا خطے میں بلوچ مسئلہ کو نظر انداز کرکے خطے میں مزید خونریزی کے ساتھ اپنی ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا متحمل نہیں ہوسکتی جبکہ آزا د بلوچ ریاست کے قیام کے بغیر اقوام عالم کو خطے میں سیاسی معاشی سماجی تجارتی اور بدترین مشکلات کا سامناہوگابلوچ قومی آزادی کے بغیر ان کے امن اور استحکام کے عالمی ایجنڈوں کے خواب چکناء چور ہوں گے ترجمان نے کہاکہ بلوچ سفارتی کوششوں سے بلوچ مسئلہ بابت عالمی سطح پر ایک مثبت پیش رفت کی امید ہے جس سے ریاست ایک ہیجان کی سی کیفیت میں ہے قومی سفارتی کوششون سے ایک طرف بلوچ مسئلہ کے حوالہ کے ریاست کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کو دھچکہ لگاہے تو دوسری طرف دنیا اپنی نظریں بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدتریں خلاف ورزیوں پر کسی حدتک مرکوز کی ہے اگرچہ ابھی تک مجموعی طور پرعالمی ادارے اور اقوام متحدہ بلوچستان میں جنگی جرائم کے خلاف کسی موثر کاروائی کا حصہ نہیں اور براہ راست مداخلت سے پس وپیش سے کام لے رہی ہے لیکن بلوچ تحریک آزادی کے حق میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے آواز اٹھانے کے معاملات پاکستان پر عالمی دباؤ کا ایک حصہ ہے ترجمان نے ایک دفعہ پھر بلوچ شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے1839 سے لے کر اب تک ہزاروں بلوچ سپوت بلوچ قومی منزل شناخت اور مقام کے لئے اپنی لہوکی قیمت سے جدوجہد جاری رکھی ہے حالیہ جدوجہد قومی آزادی کے لئے لڑی جانے والی جدوجہد کا ایک تسلسل اور ایک کڑی ہے بلوچ قوم اپنی دفاع صدیوں سے کررہی ہے اور آج بھی مدافعتی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے ہزاروں فرزند اس راہ میں قربان ہوگئے جبکہ ریاست حسب روایت تحریک آزادی کو ناکام کرنے کے لئے ماس کلنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بلوچ نسل کشی میں جنر ل ڈائر سے بھی دوقدم آگئے ہیں لیکن آزادی کے پلرز کو شہید کرکے کوئی غاصب ابھی تک کسی بھی قوم کو تاابد غلام نہیں بناسکا یہ تاریخ ہے تکالیف مشکلات شہادتیں یہ سوگ اور افسوس کا باعث نہیں ہوتے بلکہ شہداء کے بے لوث عمل ہمیشہ انمٹ اورقابل تقلید رہتے ہیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0