شہدائے اگست کی یاد میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا گیا.بی آر ایس او

جمعہ 21 اگست, 2015

کولواہ (ہمگام نیوز)بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان حمدان بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس کی جانب سے کولوا ہ کے علاقے کناری میں شہید نواب اکبر خان بگٹی کی نویں بھرسی اور شہدائے اگست کی یاد میں ایک عظیم الشان جلسہ اور آشوبی دیوان کا انعقاد کیا گیااوررہبرِ آجوئی شہیدنواب اکبر خان بگٹی سمیت شہدائے اگست کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔ عوامی اجتماع کا افتتاع بلوچ قومی ترانے سے کیا گیا۔ اجتماع میں بی آر ایس او گشکور ہنکین کے امجد بلوچ، ہوشاب ہنکین کے جنرل سیکرٹری بانک سازین بلوچ ، بلوچ ری پبلکن پارٹی کی کارکن بانک مہلب بلوچ، بی آر ایس او کی کارکن بانک حق نورہ بلوچ سمیت بی آر ایس او کے مر کزی رہنماء عابد بلوچ نے قوم سے خطاب کیا۔بی آر ایس او کے مر کزی رہنما عابد بلوچ نے شہدائے بلوچستان کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج سے نوسال پہلے بزرگ بلوچ رہنما ء نواب اکبر خان بگٹی نے اَسی سال کی عمر میں پاکستانی درندہ صفت فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے بلوچ گلزمین کے لیے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ گزشتہ سال ریاستی فورسز نے وشدل اور فراز بلوچ کو شہید کر دیا لیکن ہم ان پر واضح کر نا چاہتے ہیں کہ فکر و نظریہ کبھی نہیں مرتے وہ رہتی دنیا تک قائم رہتے ہیں آج شہدائے بلوچستان کی قربانی نے بلوچ قوم کے ہر فرزند کو دشمن کے خلاف نبردآزما کر دیا ہے۔ بی آر ایس او کے کارکنوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست نے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے، بلوچ قومی کارکنوں کو اغوا ء بعد شہید کیا، سیاسی و سماجی لوگوں کو غواء بعد شدید تشدد کیا لالچ دیکر لوگوں کو خریدنے کی کوشش کی لیکن تمام حربوں کی ناکامی کے بعد اب ریاست اپنے آخری حرنے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو حراساں کر نے کے لیے سول آبادیوں پر بمباری کرتے ہوئے عام لوگوں کے گھروں کو نذر آتش کر رہی ہے لیکن ریاست کو ہر بار ناکامی کا سامنا رہے گا کیونکہ بلوچ ایک عظیم مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ایک آز اد بلوچ وطن کے لیے جدوجہد کر ہے ہیں۔بی آر پی کے کارکن بانک مہلب بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور نے بلوچستان کو خون آلود کر دیا ہے لیکن ہم چائنہ پر واضح کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کی مرضی و منشا ء کے بغیر بلوچستان میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی منصوبہ قابلِ قبول نہیں ایک طرف بلوچستان جھل رہا ہے خون آلود ہے دوسری طرف پاکستان اور چائنہ اپنے معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے بلو چ قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0