شہید حفیظ قمبرانی سے وابستہ کچھ یادیں تحریر۔ شاہموز گٹ

ہفتہ 19 ستمبر, 2015

شہید عظیم ہوتے ہیں اور اس لیے عظیم ہوتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے امتحان سے پاس ہوکر گزر چکے ہوتے ہیں، ایک عظیم انسان کے اوصاف یا اس کی شان بیان کرنا ہم جیسوں کی بس کی بات نہیں ہوتی کیونکہ ہم ابھی تک ان امتحانات سے نہیں گزرے ہیں بلکہ آگے حتیٰ کہ مرتے دم تک ان مراحل کو طے کرنا ہے ان پر خار راستوں سے گزرنا باقی ہے،لہٰذا اگر جب کبھی ہم ان عظیم سپوتوں کے متعلق لب کشائی کرنے کی جسارت کرتے ہیں یا کچھ لکھنے کا بمشکل حوصلہ پاتے ہیں تب بھی ان عظیم لوگوں کے مقام یا رتبے کا احاطہ نہیں کرسکتے،انتہائی کوشش کے باوجود بھی صرف ان سے جڑے کچھ یادداشت قلم بند کر کے بھی سراسیمگی میں مبتلا رہ کر یہی سوچتے ہیں کہ کتنا انصاف کر سکا کس حد تک کامیاب رہا۔
شہید حفیظ سے جڑے چند دنوں پر محیط کچھ یادداشتیں قلم بند کرنے کی بار بار کوشش کے باوجود بھی ہر بار قلم، اوسان، سوچ خیالات ساتھ چھوڑ دیتے رہے، ایک انا پرستانہ معاشرہ جس میں اپنی ذات سے نکلنے کی سکت نہیں رکھتے وہاں چند دن اور ہماری قابلیت و دور اندیشی کس قدر سہل رہتے ہیں اسی کمی کوتاہی کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا چناؤ وہ بھی ایک عظیم انسان اور بہادر سپوت کے متعلق مجھ جیسے ایک نا اہل انسان کے بس سے باہر کی باتیں ہیں۔
یہ کسی نومبر کی ڈھلتی سرد شام ہے اور رات کا کھانا تیار کرنے کے بعد ہم چند دوست سرخ انگاروں کے ارد گرد بیٹھے سردی کو شکست دینے کی لاحاصل کوشش کر رہے ہیں، اسی دوران مخابرے پر پیغام ملا کچھ مہمان آرہے ہیں، تھوڑی دیر انتظار کے بعد مہمان پہنچ گئے جن میں سے ایک شہید حفیظ بلوچ تھا،رسمی حال احوال کے بعد مہمانوں کی خاطر تواضع کی گئی اور پھر رات کو سونے کے لئے ہر کوئی اپنے جھگی نما محل کی جانب رْخ کیا۔
صبح ہوئی شام ہوئی زندگی اپنی راہ پر گامزن رہی، ابتدائی تربیت کے بعد یہ دوست مادر وطن کے خوشحال مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔
پھر کچھ عرصے بعد میں کسی کام کے سلسلے میں کہیں اور تھا اس لیے کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ فون کے زریعے رابطہ ہوتا رہتا اور تمام دوستوں کا حوال پا کر دل کو تسلی ہوتی تھی . غالباً ایک یا دو بار شہید حفیظ سے بھی فون پر حال احوال ہوا باتوں سے تبدیلی اور سنجیدگی محسوس ہوتی تھی، جب ہم ایک ساتھ تھے تب بھی حفیظ اپنے کاموں میں مشغول رہتا کہیں سیاسی بحث مباحثہ کہیں مجلس تو کہیں ہنسی مذاق. رویّے سے معلوم ہوتا کہ آگے جا کر شہید حفیظ بہت کچھ حاصل کرنے والا ہے۔
اسی دوران چند دنوں سے انتہا درجے کی بوریت محسوس کر رہا ہوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کھو چکا ہوں جسے انتہائی ڈھونڈے سے بھی حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہوں، تنہائی غم اور بوریت پریشانی میں تبدیل ہو رہی ہے،کبھی کبھی سوچتا ہوں دل ایک زور دار دھماکے سے پھٹ جائے اور اسکی آواز سے سمندر میں طوفان پیدا ہو جس کی لہریں اپنی بے رحم بانہوں میں اس غم کو سمیٹ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے بیگانہ کردیں، پہاڑ بہ یک جنبش لاوے کی شکل اختیار کرلیں جس کی بہاؤ میں بہہ کر غم و الم تپ کر راکھ ہو جائیں، میں چند سالوں سے جب بھی اس کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہوں ضرور کچھ کھو لیتا ہوں اور اس بات کا ذکر اکثر دوستوں سے کر چکا ہوں کہ خدا خیر کچھ ہونے والا ہے،
اسی سراسیمگی کے سے دو چار ایک دن دوست کا میسج ملا کہ مجھے کال کرو، تھوڑی دیر بعد بیلنس کا بندوبست کرنے کے بعد جب دوست سے بات ہوئی تو کافی پریشان لگ رہا تھا، وجہ پوچھنے پر بتانے لگا کہ سنگت حفیظ تین دن پہلے اپنی ماں سے ملنے جا رہا تھا کہ راستے پر موجود پہلے سے گھات لگائے دشمن نے ان پر حملہ کیا ہے اس کے ساتھی عزیز کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا ہے اور اسے زخمی حالت میں اغوا کرلیا ہے اور آج تیسرا دن ہے کچھ اتا پتا معلوم نہیں کہاں ہے کس حال میں ہے۔
چند دنوں بعد پھر دوست سے حال احوال ہوا تو دوست نے ایک مسخ شدہ لاش کی تصویر بھیجی کہ ابھی ابھی علاقے کے لوگوں نے بْوبکی ڈور سے متصل علاقے سے ایک لاش برآمد کرکے امانتاً دفنایا ہے. لاش انتہائی مسخ گی گئی ہے پہچاننے میں دشواری ہورہی تھی اس لیے دوست جلدی سے واپس دیگر دوستوں کے پاس چلا گیا تاکہ شناخت میں مدد مل سکے. دوستوں نے شہید حفیظ کی لاش کو شناخت کرلی جسے بزدل دشمن نے چند دن پہلے آپریشن کے دوران شہید کرکے ویرانے میں پھینک دیا تھا،کچھ عرصے سے دشمن کو مہذب دنیا کی دباؤ کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے آپریشن کر کے من گھڑت مقابلے کے نام پر بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ویرانوں میں پھینک کر بھاگ نکلنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔
آج پھر وہی محفل اپنے تمام تر رونقوں سے سجی ہے جہاں شہید امیر الملک کے قہقہوں سے حوصلے بلند ہوتے تھے. جہاں شہید حئی بلوچ کسی کام میں مصروف دیکھا جا سکتا تھا، جہاں شہید حق نواز دشمن پر وار کرنے کے حربے سوچ رہا تھا جہاں شہید گزین لْڈو کھیلتے دوستوں کے مجمعے میں پایا جاتا،جہاں شہید شیرا کے آنے کے انتظار میں تمام دوست بیتاب رہتے. جہاں شہید حفیظ کو پہاڑ کی چوٹی سے اکثر اْترتے دیکھا جا سکتا تھا، آج بھی وہی حوصلے بلکہ پہلے بھی زیادہ پْر عزم، وہی قہقہے جس میں دشمن سے انتقام کی آگ شامل ہے،صرف یہ دوست ہم سے جسمانی طور پر جدا ہوئے ہیں لیکن ان کا مقصد انکی سوچ و فکر ہماری محفل کا حصہ ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0