شہید زاہد بلوچ علم کا ایک چشمہ تھا جدائی بلوچ نوجوانوں کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں۔بی آر ایس او تربت زون

ہفتہ 6 دسمبر, 2014

(ہمگام نیوز)بی آر ایس او تربت زون کے سیکرٹری اطلاعات مہراب بلوچ نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے علم دوست خاص طورپرگوادر کے طالب علم ایک بہت بڑے علمی چشمے سے محروم ہوگئے سر زاہد آسکانی علم کا وہ چشمہ تھا جو اپنے علم سے بلوچ نوجوانوں میں علم و آگاہی دینے میں ہماوقت سر گرم رہتا تھا ۔شہید نے بلوچستان کی محرومی اور بلوچ نوجوانوں کی علم دوستی کو محسوس کرتے ہوئے گوادر جیسے پسماندہ علاقے میں اپنی ایک استادوں کی ٹیم بنا کر \”دی اوسیز پرائمری اسکول \”کا بنیاد رکھا جو گوادر میں رہنے والے لوگوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ پاکستان اور اسکے خفیہ ادارے بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کے درپے ہیں ایسے میں اگر کوئی بلوچ فرزندعلم و شعور کا درس دیتا ہے تو اسے بھی شہید یا اغواء کر دیا جاتا ہے بلوچستان میں اسکول کے اساتذہ کوگزشتہ کئی عرصوں سے ریاستی دھمکیوں کا سامنا ہے اور بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں تو ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے اسکولوں کونذرآتش بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود بلوچ فرزند علم و آگاہی کے لیے اپنی منزل کی جانب روادواں ہیں کیونکہ تعلیم کے بغیر دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنا خام خیالی ہوگی بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کردار سے ریاست خوفزدہ ہے جس کا ثبوت بلوچ نوجوانوں کا ریاستی قتلِ عام ہے ۔ شہید زاہد آسکانی کی شہادت بلوچ طالب علموں کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے ۔ مہراب بلوچ نے شہید کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے ریاستی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچ قوم کوپاکستانی بربریت سے نجات دلانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0