شہید قمبر قاضی کی شہادت میں ملوث وارث کو ہلاک کیا،بی ایل ایف

بدھ 29 جولائی, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہو ئے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ کہ مند میں چوکوپ ایف سی کی چیک پوسٹ پر سرمچاروں نے شام چار بجے تین مارٹر کے گولے فائر کیے،دو گولے چوکی کے عین اوپر گرئے جس سے سیکورٹی اہلکاروں کو بھاری جانی نقصان ہواہے۔آج مشکے میں زُنگ کے مقام پر پاکستان آرمی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سول آبادی میں گھس کر نہتے لوگوں کی گھروں کو جلا رہا تھا۔اس حملے میں تین فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔آج پیدارک میں پارٹی کے مفرور مجرم وارث سرمچاروں کا اس وقت نشانہ بنے جب وہ اپنے گھر میں تھا گرفتاری پر مزاحمت میں ہلاک ہو گیا۔دیگر گرفتار مجرمان کی گواہی کے مطابق وارث قمبر قاضی کی شہادت میں بھی ملوث تھا ۔قمبر قاضی جنہیں ایک مشن پر کچھ دوستوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا،مگر اس مشن سے پہلے ان کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ اسی دن ملوث اور مشکوک لوگوں پر نظر رکھ کر تحقیقات شروع کی گئیں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچ سکیں۔ تحقیقات میں لیاقت اور بعد میں اس کے بھائی وارث مشکوک پائے گئے ۔ پہلے لیاقت سے پوچھ کچھ کی گئی مگرایک حکمت عملی اور نفسیاتی بیماری کی وجہ سے انہیں کچھ دوستوں کی کڑی نظر میں علاج کا موقع دیا گیاجو انتہائی مفید ثابت ہوا، اس دوران کئی اہم پہلو بھی سامنے آگئے۔ اس کے بعد وارث کئی دفعہ بلانے کے باوجود فرار رہے ،جب کہ لیاقت ایک دفعہ پھر پارٹی کی قید میں ہے اور وارث کے خلاف ثبوت مل چکے ہیں کہ وہ کسی کی ایما پر ہمارے ایک کیڈر قمبر قاضی کی شہادت میں کردار ہیں۔اسی جرم پر آج انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ سرمچاروں پر فائر کرنے کی کوشش اور جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔دیگر دو افراد اس مزاحمت میں زخمی ہوئے جس کا ہمیں افسوس ہے۔قمبر قاضی شہادت کی تحقیق اور مکمل ثبوتوں تک پہنچنے کے لیے اُس وقت ایک بیان جاری کرنے کے بعد معاملے کو باریک بینی سے دیکھنے اور تحقیقات کے بعد لیاقت کو گرفتار کیاہے جو وارث کے ملوث ہونے کی گواہی دے چکے ہیں۔ وارث سزا سے بچنے کیلئے راہ فرار اختیار کر رہاتھا اور آج گرفتاری کی کوشش میں مزاحمت پر مارا گیا۔قمبر قاضی جیسے قومی رہبر و دوسرے شہدا کی شہادت کو بھلایا نہیں جا سکتا، اس کے دوسرے پہلوؤں و محرکات پر غور کرنے کے بعد لیاقت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ایسے لوگ کہاں اور کن کی ایما پر ایسی حرکات کر رہی ہیں، ہم کچھ تحقیق کے بعد جلد ہی ان کرتوتوں کے سرغنہ تک پہنچ جائیں گے۔ترجمان نے کہا کہ کل ضلع خضدار کے علاقے گریشہ میں ریاستی مخبر لعل جان ولد محمد نور سکنہ گریشہ کو ہلاک کیا، وہ تین دن سے پارٹی کی قید میں تھے، انہیں کئی دفعہ وارننگ کے بعد اپنی سیاہ کرتوتوں سے باز نہ آنے پر گرفتار کیا گیا، جہاں انہیں اقبال جرم کے بعد ہلاک کیا گیا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0