طالبان سے قندوز کا قبضہ چھڑانے کے لیے افغان فورسز جمع

منگل 29 ستمبر, 2015

افغانستان کے شمالی شہر قندوز پر طالبان کا قبضہ ختم کرانے کے لیے منگل کو افغان فورسز نے آپریشن شروع کر دیا ہے جب کہ امریکی فورسز نے منگل کو قندوز میں فضائی کارروائیاں بھی کیں۔

ملک کے اس اہم اور لگ بھگ تین لاکھ آبادی میں والے شہر پر پیر کو طلوع آفتاب سے قبل طالبان نے تین اطراف سے بڑا حملہ کیا تھا، اور عینی شاہدین کے مطابق شام تک جنگجوؤں نے شہر کے مرکزی حصے میں اپنا پرچم لہرا دیا۔

طالبان کا کہنا تھا کہ انھوں نے گورنر اور اہم صوبائی دفاتر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے مشن کے ترجمان کرنل برین ٹریبس نے کہا ہے کہ منگل کی صبح کی جانے والی فضائی کارروائیاں فورسز کو درپیش خطرے کے خاتمے کے لیے کی گئیں۔

تاہم شہر میں بین الاقوامی افواج کے اہلکار موجود نہیں ہیں۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ مزید ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی یا نہیں۔

اُدھر افغان فورسز نے بھی قندوز سے طالبان کا قبضہ چھڑانے کے لیے زمینی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور افغان وزارت دفاع کے مطابق فوجیوں نے پولیس ہیڈ کوارٹر اور شہر کی جیل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

طالبان کی طرف سے پیر کو شہر پر حملے کے بعد شدت پسندوں نے شہر کی جیل میں بند لگ بھگ 600 قیدیوں کو فرار کروا دیا جن میں 144 طالبان بھی شامل تھے۔

2001ء میں امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی افواج کی افغانستان میں کارروائی کے بعد طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اُس وقت کے بعد سے اب تک ملک کے کسی بھی بڑے شہر پر شدت پسندوں کا یہ پہلا قبضہ ہے۔

دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس ’آئی آر سی‘ نے کہا ہے کہ اُس نے شہر میں موجود اپنے عملے کے غیر ملکی شہریوں میں سے دو کو ہوائی جہاز کے ذریعے قریبی شہر مزار شریف منتقل کر دیا ہے۔

قندوز شہر کا شمار افغانستان کے بڑے اور خوشحال شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کیوں کہ یہ پاکستان اور چین کو وسطیٰ ایشیا سے ملانے والے راستے پر واقع ہے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو رات گئے ایک بیان کے ذریعے قندوز میں کام کرنے والے غیر ملکی امدادی کارکنوں سے کہا تھا کہ وہ بغیر کسی تعطل کے اپنا کام جاری رکھیں اور اُنھیں یقین دہانی کروائی کہ اگر ان تنظیموں کو کسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے تو اُن کے حل میں مدد کی جائے گی۔

تاہم اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اپنے عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

اس اہم شہر پر طالبان کے حملے کو افغان حکام اور اقوام متحدہ کی طرف سے قابل مذمت قرار دیا گیا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پیر کو دیر گئے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ بعض حملہ آور دوسرے ملک سے آئے تھے۔

انھوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ معلوم دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کا اپنا وعدہ پورا کرے۔

’’ہم خطے کے دیگر فریقین اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کریں اور طالبان اور دیگر مسلح مخالف گروپوں سے امن بات چیت کے لیے اعتماد سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے ایک ترجمان کے ذریعے طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغانستان میں’’اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0