عاصمہ جہانگیراوریہ معاشرہ:تحریر: مہر بلوچ

جمعرات 26 نومبر, 2015

عاصمہ جہانگیر کے اس بات میں واقعی وزن ہے کہ کسی کو البدر اشمس کے کارندو ں کو پھانسی دینے پر مروڑ نہیں ہو نا چاہیے گرچہ بہت عرصہ پہلے حسن مجتبی نے لکھا تھا کہ گھاس تختہ دار پہ نہیں اگا کرتے لیکن کیا ظالم کو اسی طرح بے مہا ر چھوڑ دینا چایہے جس طرح کے بلوچستان میں چھوڑدیا گیا ہے کہ وہ البدر اور الشمس کے طرز پر ڈیتھ اسکواد تشکیل دیں ، مسخ شدہ لاشوں سے لے کر اجتماعی قبرستان جیسے سفاکیت کا دن رات مظاہرہ کریں اوربعد میں جب ان کارندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاے تو پنجاب کی وہ میڈیا جو ریحام خان کے طلاق سے کالا شاہ کاکو کے کسی گلی میں ہونے والے تماشا کو بریکنک نیوز کے طور پر تو پیش کرے لیکن اس بد مست ہاتھی کی طرف اسکی کیمرہ کی نظر اور قلم کی نوک نہ ہو بلکہ پھانسیوں پہ مروڑ جیسی کیفیت ضرور ہو۔
۔کمال ڈھٹائ ملاحظہ ہو کہ جب البدر و الشمس کے کارندوں کو پھانسی دی جاتی ہیں تو وہی گھسی پھٹی مزہبی جواز کو درمیان میں لایا جاتا ہے گر مزہبی جواز اتنا ہی مضبوط ہوتا تو نہ بنگلہ دیش بنتا اور نہ ہی بلوچ کا خون اتنا ارزاں ہوتا۔آج الشمس اوا البدر پہ رونے والے بجاے معافی مانگنے کے اور حال میں ڈیتھ اسکواڈ جیسےتشکیل دینے والوں کو لگام دینے کے بجاے نسیم حجازی بنے ہوے ہیں
اس ہجوم کی مثال اب اس ریوڑ کی مانندہوچکی ہے جو نہ تاریخی سچائ کو ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی مستقبل کی حقیقت تسلیم کرنے کو بس بندوق اور طاقت کے زریعے اپنے آپ کو منوانے پہ تلا ہوا ہے جنہیں گر آہینہ دکھایا جاے تو آہینے ہی کو مورد الزام ٹہراینگے لشکر کے لشکر تیار کرینگے اور ان سے جہاد کرواینگے پھر انہیں خود مارینگےاور جب کوئ سابق چیف ڈھٹائ سے یہ سب کجھ مان بھی لیں تو دانشور حضرات اس پہ ٹوٹ پڑتے ہیں اور (بدقسمتی سے ان دانشوروں میں وجاہت مسعود جیسے اہل علم بھی شامل ہیں)۔کہ یہ ریاست کےاسرار رموز ہیں جنہیں اس طرح افشاں نہیں کرنا چایہے اب بھلا اس طرح کے معآشرے میں اک عورت یہ جرات کر لے اور کہیں کہ کسی کے پھانسی پہ مروڑ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ملٹری کورٹس کی صورت میں ہم بھی ماشاللہ یہی فرض سرانجام دے رہے ہیں تو واقعی خطاوار عورت ہی ہے۔
اب بھلا عاصمہ جہانگیر کو کون سمجھاے کہ جس معاشرہ کا صحافی مبشر لقمان ہو جس معاشرہ کا صوفی ہارون الرشید ہو جس ہجوم کا تجزیہ نگار انصار عباسی اور اوریا مقبول جان ہوں جہاں لبرل حضرات بھی اپنے آپ کو ریاست کے آڑ میں چپھاے وہاں مروڑ بھی اٹھے گا اور مسخ شدہ لاشوں کا کاروبا بھی ہوگا پھر جب بولان سے بدمست ہاتھی جب ماوں بہنوں کو اٹھاے گا وہاں بد قسمتی سے آپ بھی خاموش نظر آہینگے
۔جہاں طاقت کو کوئ نکیل ڈالنے والا نہ ہو جہاں طاقت کے سر چشموں سے پو ٹنے والے جمہوریت کے پاسبان ہوں جہاں قلم طاقت کی بولی بولتی ہو وہاں طاقت خود پورس کے ہاتھی ثابت ہوجاتے ہیں جلد یا بدیر یہ فیصلہ وقت اور تاریخ پہ چھوڑتے ہیں۔۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0