عالمی ادارے بلوچ قومی مسئلے کے حل کیلئے اپنا کرداراداکریں۔ بلوچ نیشنل وائس

بدھ 10 دسمبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل وائس نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی کے کردار اداکرنے پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے دنیا بھر کے آزاد اور جمہوری ممالک سے بلوچ قومی مسلے کے حل کیلئے فوری کردار اد اکرنے کی اپیل کردی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بلوچ نیشنل وائس کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آج دنیا بھر کے جمہوری اور آزاد ممالک اپنے اداروں اور ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کھوج لگانے کیلئے مختلف تقاریب کا انعقاد کرکے ان کے مستقل حل کیلئے کوشاں ہیں اور جن ممالک میں سرکاری سطح پر انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق ریسرچ نہیں ہوپا رہا تو ان ممالک میں انسانی حقوق کے ادارے،سماجی تنظیمیں اور سول سوسائٹی سے وابسطہ لوگ اپنے تئیں مختلف پروگرامز منعقد کرکے حکومت وقت کی توجہ انسانی حقوق کی جانب مبذول کرارہے ہیں مگر مقبوضہ بلوچستان میں قابض پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس ادارے گزشتہ کئی عشروں سے بلاروک ٹوک بلوچ قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں نام نہاد جمہوری پارلیمانی نظام کی موجود گی کے باوجود کسی کے پاس یہ جرات نہیں کہ وہ ان اداروں سے بازپرس کرسکے دعوﺅںکی حد تک پاکستان میں عدالتیں اور میڈیا آزاد ہے مگر انہیں یہ آزادی صرف پنجاب کی حد تک ہے بلوچستان میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی صرف ایک خواب ہے پاکستان کے فوج،انٹیلی جنس،نیم فوجی ادارے،پارلیمنٹ ،عدلیہ اور میڈیا سب کے سب بلوچ قتل عام میں برابر کے شریک ہیں بلو چ قوم نے کبھی بھی ان اداروں سے نہ تو خیر کو کوئی توقع کی ہے اور نہ آئندہ کریں گے مگر بلوچ قوم کی اجتماعی نسل کشی پر اقوام متحدہ،ایمنسٹی انٹرنیشنل،ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی عالمی چیمپئنز اور دنیا کے آزاد و جمہوری ممالک کے خاموش تماشائی کا کردار لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہا کہ دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستانی قابض افواج اور ان کے ذیلی ادارے مقبوضہ بلوچ ریاست میں اپنے قبضہ گیریت کو دوام بخشنے کی خاطر گزشتہ کئی عشروں سے ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں اس وقت بھی نو ہزار سے زائد بلوچ فرزند پاکستانی فوجی قلی کیمپوں میں انسانیت سوز اذیتیں برداشت کررہے ہیں ان لاپتہ اسیران میں ایک بہت بڑی تعداد شیرخوار بچوں،بزرگوں اور بلوچ خواتین کی ہے علاوہ ازیں ان لاپتہ اسیران میں سے پندرہ سو سے زائدکو دوران حراست قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جاچکی ہیں بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں فوجی آپریشنز کے دورا ن نہتے و سویلین بلوچ آبادیوں پر اندھا دھند گولہ باری و فائرنگ، بڑی تعداد میں لوگوں کو شہید ،زخمی اور اغواءکرکے غائب کردینا، لوگوں کو اپنے آبا و اجداد کی سرزمین سے بزور طاقت بیدخل کرنا،کھڑی فصلات کا آگ لگانا،مال مویشیوں پر فضائی و زمینی بمباری،پانی کے جوہڑوں و تالابو ں میں زہر ڈال کر بلوچ نسل کشی کے منصوبوں میں جلد عمل درآمد کی کوششیں اور بلوچ دیہاتوں پر کیمیاوی و جراثیمی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال روز کا معمول بن چکی ہے بلوچ قوم کی جانب سے باربار اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی توجہ بلوچ نسل کشی کی جانب دلائی گئی ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں بلوچ لاپتہ اسیران کے اہلخانہ کی کوئٹہ تا اسلام آباد طویل ترین اور تاریخی پیدل مارچ ، اسلام آباد میں یواین کے ذمہ داران کو بلوچ لاپتہ اسیران کی مکمل فہرست پیش کرنے ،سالوں سال کوئٹہ،کراچی اور اسلام آباد کے پریس کلبز کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپس کا انعقاد ،مختلف اوقات میں بلوچ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہڑتال، مظاہرے،ریلیوں،جلسہ جلوسوں اور سیمینارز کا انعقاد ،اقوام متحدہ میں جبری گمشدگیوں سے متعلق کام کرنے والی ورکنگ گروپ کے سامنے لاپتہ او ر دوران حراست قتل کئے گئے افراد کی کوائف پیش کرنے سمیت عالمی سطح پر بلوچ قومی قیادت اور سیاسی کارکنوں کی کاوشوں کے باوجود عالمی اداروں نے ابتک بلوچ نسل کشی رکوانے اور بلوچ قومی مسئلے کے مستقل حل کیلئے کوئی بھی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا جو کہ بلوچ قوم میں یہ احساس دلارہا ہے کہ اقوام متحدہ بھی صرف طاقتور قوموں کا ادارہ ہے اس عالمی ادارے کے سامنے مظلوم و محکوم قوموں کے آواز کی کوئی حیثیت نہیں تنظیم نے انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کے ذمہ داران کی توجہ مسلہ بلوچستان کی جانب دلاتے ہوئے عالمی اداروں ،آزاد و جمہوری ممالک سے پرزور اپیل کی کہ وہ بلوچ قتل عا م فوری طور پر روک کر بلوچ قومی مسئلے کے حل کیلئے اپنا اخلاقی،سیاسی اور سفارتی کردار اداکریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0