عالمی سامراجی قوتیں بمقابلہ خلیل بلوچ تحریر۔ نود بندگ بلوچ

اتوار 28 دسمبر, 2014

*الف لیلوی داستان ’’عالمی طاقتیں خصوصاََ ملٹی نیشنل کمپنیاں بلوچ سیاست کابخوبی جائزہ لے رہی ہیں اور وہ اس سرزمین پر اپنے مفادات کو آسان شرائط پر منوانے کی تگ ودو میں ہیں اور اس تناظر میں وہ بلوچ جہد آجوئی سے منسلک قیادت میں اپنی لابیز بنانے میں مصروف عمل ہیں‘‘ \”عالمی طاقتوں کے وہ عناصر اپنے مفادت کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ اور اس کے اتحادیوں کے ایسے فیصلوں سے جو اپنی قومی روایات یا فکری طورپر اپنی سرزمین اور قومی بقاء سے ایک آفاقی مہر کی بنیا د پر آراستہ و پیراستہ ہیں، قطعی طورپر ناخوش ہیں\” \”ملٹی نیشنل کمپنیاں بلوچ سیاست میں اپنی خواہشات کی بنیاد پر دراڑیں پیدا کرنے کی کوششوں میں اپنے کٹھ پتلیوں کے ذریعے مصروف عمل ہیں\” \”پارٹی اداروں خصوصاََ مرکزی کمیٹی میں اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ سیر حاصل بحث و مباحثہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ عالمی طاقتوں خصوصاََ چند ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنڈے کو پروان چڑھارہے ہیں\” \”مری صاحب نے ایک ایسی شروعات کی جس کی بنیاد پر کارپریٹو کریسی کی تکمیل ہے\” \”بی این ایم اس عمل کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں لہٰذا سزا کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ انہیں بدنام کیاجائے\” مندرجہ بالا قطعات کو پڑھ کر مجھ جیسے ادنیٰ سیاسی کارکنوں کو یہ تاثر مل رہا ہے کہ \”آج بلوچ قومی تحریک اس حد تک مضبوط ہوچکی ہے کہ بالکل آزادی ہمارے سامنے ہے ، اب چونکہ ہم اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ پاکستان کا بلوچ سرزمین پر بالکل عمل دخل ناہونے کو ہے اور سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہیں ، اسلئے عالمی قوتیں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ بلوچ وسائل پر کوئی سمجھوتا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ انہیں لوٹ سکیں ، لیکن پوری دنیا کو اپنے اشاروں پر چلانے والے ملٹی نیشنل کمپنیاں جو اپنے مفادات کے حصول کیلئے امریکہ جیسے طاقت کو افغانستان و عراق کے جنگ میں جھونک سکتے ہیں ، وہ آفاقی مہر کے بنیاد سے آراستہ و پیراستہ بلوچ نیشنل مومنٹ کے خلیل و منان اور انکے اتحادیوں کے سامنے بالکل بے بس ہوچکے ہیں ، اس لیئے اب یہ کمپنیاں امریکی بمباری سے بھی ایک بڑی سازش کے تحت پیسے دیکر حیربیار مری اور کچھ غداروں کے ذریعے فیس بک پر آفاقی مہر سے آراستہ و پیراستہ خلیل و منان اور انکے اتحادیوں کیخلاف لکھ رہے ہیں ، اس لکھنے کی وجہ سے وہ بدنام ہوجائیں گے اور انکے بدنام ہوتے ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات پورے ہوجائیں گے اور بلوچستان کے سارے وسائل انہیں مل جائیں گے ، انہیں بدنام کرنے کیلئے بے تحاشہ دولت کے مالک ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک اشتہار بی بی سی ، سی این این وغیرہ پر چلانے کے بجائے کچھ گھسے پٹے افراد کے سستے چائنا موبائلوں پر چند ٹوٹے پھوٹے جملوں پر اکتفاء کررہے ہیں یقیناً یہ بھی ایک بڑی سازش ہے شاید اسکا پتہ بی این ایم اور اسکے اتحادی پارٹیوں کے اگلے میٹنگ کے سیر حاصل بحث میں لگایا جائیگا\”۔ *تاریخی پس منظر مذکورہ بالا قطعہ نا الف لیلوی داستان ہے نا میرا ذہنی اختراع اور نا ہی بچوں کی کوئی سنسنی خیز فکشن کہانی بلکہ یہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے ہوچکے سیشن کے پہلے دن کونسلروں سے خطاب اور پارٹی موقف کا آسان الفاظ میں خلاصہ ہے ، یہ پارٹی موقف اس تنقیدی سلسلے کے جواب میں پیش کیا جارہا ہے جس میں یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ بی این ایم پر ایک مخصوص گروہ قبضہ قبضہ جماکر اسکے آزاد و غیر جانبدار حیثیت کو قائم رکھنے کے بجائے بی ایل ایف کا حصہ بناکر اسکا سیاسی ونگ بنانا چاہتا ہے اور اسے صرف ان علاقوں جہاں بی ایل ایف موجود ہے اور ان لوگوں جن کا بی ایل ایف سے تعلق ہے تک محدود کیا جارہا ہے ، اسی ضمن بی ایل ایف پر یہ تنقید ہرگز نہیں کہ وہ اپنا سیاسی ونگ بنارہا ہے وہ اپنا سیاسی ونگ بنانے میں مکمل آزاد ہے لیکن کسی موجود غیر جانبدار تنظیم پر ایک مخصوص لابی کے تحت قبضہ پھر اسے اپنا سیاسی ونگ بنانا اور اسی طرح بی ایس او آزاد کو اپنا طلباء ونگ بنانا انقلابی و اخلاقی اصولوں کے منافی ہے ، یہ الزامات کسی بند کمرے کے سیر حاصل بحث کے نتیجے میں نہیں لگائی جارہی ہیں بلکہ انہیں ثابت کرنے کیلئے حقائق موجود ہیں اور زمینی حالات بھی انہیں ثابت کرتی ہیں ، بی این ایم کے 2008 کے کونسل سیشن میں شہید واجہ غلام محمد کو راستے سے ہٹانے کیلئے ڈاکٹر اللہ نظر کا بھیجا گیا لابی جو ڈاکٹر منان و امداد وغیرہ پر مشتمل تھی آج تک سب کو یاد ہے اور اس حوالے سے بی ایس او آزاد کے سابقہ چیئرمین بشیر زیب بلوچ کے عوام کے سامنے پیش کردہ چشم کشا حقائق بھی ریکارڈ پر ہیں جن کی مذکورہ افراد میں سے کسی نے تردید نہیں کی ، کونسل سیشن میں ناکامی کے بعد جب واجہ غلام محمد شہید ہوئے تو یہی لابی دوبارہ بی این ایم کو بی ایل ایف کے تابع کرنے کیلئے متحرک ہوگئی ، اسی کھینچا تانی کے اثرات اس وقت واضح دِکھائی دینے لگے جب بی این ایم کے جوائنٹ سیکریٹری رسول بخش مینگل کو شہید کیا گیا تو بی ایل ایف نے انکے انتقام لینے کا اعلان کردیا لیکن کچھ دن بعد اس وقت کے بی این ایم کے چیئرمین عصاء ظفر نے بی ایل ایف کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ \” بی ایل ایف اپنے کام سے کام رکھے اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں \” اس بابت بی این ایم کے سابقہ مرکزی ترجمان قاضی داد ریحان اپنے ایک آرٹیکل \” حقائق نامہ \” میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر اللہ نظر نے بذات خود بی این ایم کے چیئرمین عصاء ظفر کو فون کرکے دھمکی دی کہ جب تک بی ایل ایف کا ایک بھی بندوق بردار زندہ ہے وہ عصاء ظفر کو نہیں چھوڑیں گے ، گو کہ اس بابت عصاء ظفر کا ایک تردیدی بیان سامنے آیا تھا لیکن عصاء ظفر اس بیان کو اپنے مافی الضمیر نہیں گردانتے اور اسکی وضاحت کرنے کا کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف قاضی داد ریحان ابھی تک اپنے کہے پر قائم ہیں ، اس کھینچا تانی کے اثرات بعد ازاں ہمیں واضح انداز میں اس وقت دِکھے جب بی این ایم دو لخت ہوکر بی این ایم خلیل گروپ اور بی این ایم شہید غلام محمد گروپ میں بَٹ گیا ، اور بعد میں انہی عوامل پر اختلاف رکھ کر بی این ایم کے سینئر وائس چیئرمین سعید یوسف کا بی این ایم سے مستعفی ہونا ، بی این ایم خلیل گروپ کا مکمل طور پر بی ایل ایف کا سیاسی ونگ بن کر مشکے نشین ہونا ، خلیل و منان کا بی این ایم کے ساتھ ساتھ بی ایل ایف کی بھی قیادت کا حصہ بننا ان الزامات پر صداقت کا مہر لگاتی ہے ، اسکے علاوہ زمینی حالات بھی اس حق میں اشارہ کررہے ہیں کیونکہ واضح انداز میں نظر آرہا ہے کہ بی این ایم بطور پارٹی، اسکے سرگرمیاں اور اسکی لیڈرشپ صرف مکران تک ان علاقوں میں محدود ہوچکی ہے جہاں بی ایل ایف اثر رکھتی ہے۔اس تاریخی پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بی این ایم پر آج جن عوامل کو مدنظر رکھ کر تنقید ہورہی ہے ان کے پیچھے ٹھوس شواہد اور انہیں ثابت کرنے کیلئے حقائق کا انبار ہے ، اور اس کھینچا تانی کے منفی اثرات کو کوئی بھی سیاسی کارکن دیکھ اور محسوس کرسکتا ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تنقید کرنے والے زیادہ تر وہ سیاسی کارکنان ہیں جو سنگت حیربیار مری کے فکری کارواں کا حصہ ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ حیربیار کے فکری ساتھی گروہیت پر یقین نہیں رکھتے تھے اسی لئے بی این ایم کے ہوتے ہوئے کسی اور پارٹی کو ضروری نہیں سمجھا حتیٰ کے وہ درونِ خانہ بی آر پی کی بھی مخالفت اسی بنیاد پر کرتے رہے ، لیکن جب بی این ایم ایک قومی اور غیر جانبدار پارٹی بننے کے بجائے ایک مسلح گروہ کا سیاسی ونگ بن گیا تو قومی سیاست میں ایک خلاء آگیا ، بی آر پی جاکر بی آر اے کا پارٹی بن گیا اور بی این ایم جاکر بی ایل ایف کا پارٹی بن گیا اور سنگت حیربیار کے فکری ساتھی \” وفا کرکے بھی تنہا رہ گئے \” اب ذرہ برابر بھی سیاسی شعور رکھنے والے کسی بھی شخص کو یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہوسکتی کہ سنگت حیربیار کے فکری ساتھیوں کو تنقید کرنے کیلئے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے پیسوں کی ضرورت نہیں بلکہ یہ سیاسی حالات اسکی وجہ ہیں ، اگر کوئی قومی سوچ رکھتا ہے تو وہ یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ اسکے جواب میں سنگت حیربیار کا اپنے لئے ایک اور نیا پارٹی بنانے سے بہتر طریقہ یہی تھا کہ اس عمل پر سیاسی تنقید کی جائے تاکہ بی این ایم گروہی سیاست سے نکل کر قومی دھارے میں واپس آجائے ، لیکن ان ٹھوس حقائق اور طویل تاریخی پس منظر کو دانستہ طور پر نظر انداز کرکے بی این ایم کی وہ قیادت جو شہید واجہ کے وقت سے ہی بی این ایم کو بی ایل ایف کا باجگزار بنانے کے در پے تھی قوم کے سامنے ان حقائق کی وضاحت یا واپس قومی دھارے میں آنے کے بجائے بالی ووڈ کے فلموں کی ایک خیالاتی کہانی پر اکتفاء کررہے ہیں جس میں \” ایک امیر ساھوکار ایک غریب کسان کو زمین سے بیدخل کرنے کیلئے کچھ کرائے کے غنڈوں کی مدد سے بدنام کررہا ہے \” ، بی این ایم اپنے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سازشی تھیوریوں کے بابت ایک بھی ثبوت یا ٹھوس دلیل فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے ، اس لمبے چوڑے بیان کے ساتھ اگر بی این ایم قوم کے سامنے کچھ ثبوت رکھ دیتی کہ کس ملٹی نیشنل کمپنی نے کس کو کس وقت کس لیئے کتنے پیسے دیئے ہیں تو شاید کچھ بات بنتی ورنہ بی این ایم کے اس \” سازشی تھیوری\” کی حیثیت اتنی ہی جتنی کہ اس پیش کردہ \” سازشی تھیوری \” کی کہ \” کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے صدر کم جان انگ نے ڈاکٹراللہ نظر اور خلیل بلوچ سے ملنے کیلئے اپنا خصوصی نمائندہ مشکے بھیجا تھا جہاں انہیں کروڑوں ڈالر فراہم کرنے کے بعد یہ ٹاسک دیا گیا کہ بلوچ قومی پارٹی بی این ایم اور طلباء تنظیم بی ایس او کو فوراً اپنے اثر میں لیکر کمیونسٹ نظریات سے آراستہ کیا جائے اور اپنے کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ بلوچستان کے آزادی کے بعد شمالی کوریا کے مکمل سپورٹ سے یہ مضبوط گروہ بلوچستان کے اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں لیکر بلوچستان کو شمالی کوریا کے طرز کا کمیونسٹ ملک بنائیں تاکہ بعد میں یہ دونوں برادر اقوام اس خطے میں امریکہ کیخلاف جنگ لڑ سکیں \” اور اس مفروضے کو ثابت کرنے کیلئے میں یہ ثبوت پیش کروں کہ بی این ایم شمالی کوریا کی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف ہے ، یہ بھی شمالی کوریا کی طرح سخت ڈسپلن کے تحت اختلافِ رائے کو ختم کرنے اور اختلاف رکھنے والوں کو راستے سے ہٹانے کے در پے ہیں ، یہ دونوں ہی سخت گیر سنسر کے حامی ہیں ، ظاہر ہے ایسے تھیوری پر مجھے کوئی پاگل کہے تو وہ حق پر ہوگا۔ *سازشی تھیوریاں سازشی تھیوریاں یا Conspiracy theories آجکل ریاستی سیاست کا جزلاینفک سمجھی جاتی ہیں ، انکا مقصد حقائق پر پردہ ڈالنا یا عوام کو ڈر ، خوف یا ہیجانی کیفیت میں مبتلاء کرکے انکی توجہ اصل محرکات و مقاصد سے ہٹانا ہے۔ امریکی محقق \”جیسی واکر \” ان سازشی تھیوریوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کر تے ہوئے کہتا ہے۔ 1۔\” بیرونی دشمن Enemy outside \” :۔ یعنی ایک باہری دشمن قوم کو نیست و نابود کرنے آرہی ہے ، اس لئے قوم کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تاکہ ہم انکا پرزور مقابلہ کریں ، اس کی مثال آپ امریکی سیاست میں دیکھ سکتے ہیں امریکی عوام کو دہشتگردوں سے ڈرا ڈرا کر عراق و افغانستان کے خلاف جنگ کیلئے رائے عامہ ہموار کی گئی۔ 2۔\” اندرونی دشمن Enemy Within\” یعنی ہمارے صفوں میں دشمن کے ایجنٹ گھس چکے ہیں اور قوم کو بربادی کی طرف لیجارہے ہیں ، اسلئے قوم ہمارا ساتھ دے تاکہ ہم انکا صفایا کرسکیں ، اسکی بہتری مثال پاکستان ہے جو ہر ابھرتے آواز کو انڈین ایجنٹ قرار دیکر خاموش کرتی ہے اور پاکستانی خوش ہوتے ہیں کہ بھارتی ایجنٹوں کا صفایا ہورہا ہے۔ 3۔\”اوپری دشمن Enemy Above\” یعنی جو اوپری لیڈر شپ ہے وہ کسی اور طاقت کے ساتھ مل چکی ہے اور پورے سسٹم کو اپنے مفادات کے مطابق بدلنا چاہتا ہے تاکہ فائدہ حاصل کرسکے ، اسلئے قوم کو ہم پر یقین کرنا چاہئے تاکہ انکا صفایا ہوسکے ، بی این ایم کا حالیہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سنگت حیربیار کے بارے میں الف لیلوی بیان اسکا تازہ مثال ہے۔ 4۔ \” ذیلی دشمن Enemy Below\” یعنی نچلی سطح پر ایک ایسا عوامی انتشار پیدا کیا جارہا ہے جو ہمارے امن ، چین اور آسائش کو برباد کرکے رکھ دے گا اسلئے عوام ہمارا ساتھ تاکہ اس پر قابو پایا جائے ، سرد جنگ کے زمانے میں امریکی حکومت کا اپنے عوام کو کمیونسٹ نظریات سے ڈرانا اسکی ایک مثال ہے۔ 5۔\”مہربان سازش Benevolent Conspiracy\” یعنی ہم آپکی زندگیاں بدلنے کیلئے آرہے ہیں، آپکو ترقی دینے کیلئے آرہے ہیں اسلئے آپ ہمارا ساتھ دیں ، بلوچستان میں پاکستانی فوج کے یہی دعوے اور عراق میں امریکا کا جمہوریت کیلئے حملہ کرنے والے دعویں اسکی واضح مثالیں ہیں۔ آگے اسی موضوع پر ایک اور امریکی محقق پروفیسر نیکولس ڈی فرونزو کہتے ہیں کہ \” ان سازشی تھیوریوں کو عوام سے اس وقت قبول کروانا آسان ہوجاتا ہے جب انتشار ، ابہام اور کنفیوژن کا ماحول ہو، ایک عام ذہن حالات کو جلدی پرکھ اور سمجھ نہیں سکتا اسلئے اسے ذہنی تسکین کیلئے عوامل کی وجوہات کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے ماحول میں جب انکے ذہن میں کوئی بھی مفروضہ ٹھونسا جائے وہ اس پر یقین کرتے ہیں اگر اس مفروضے کو ڈر ، خوف یا کسی سازش سے مزین کی جائے تو اسکے اثرات مزید گہرے ہوتے ہیں \” آج اگر ہم بی این ایم کے رجحانات کا جائزہ لیں تو اسکی نفسیات ہمیں ایسے ہی کسی ریاست کی طرح لگتی ہے ، ابھی تک آزادی کجا لیکن اسے پوری دنیا کو اپنے قابو میں رکھنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے خلاف سازش کرتے نظر آتے ہیں ، اور آج کے بلوچ سیاست کے انتشار میں ایک عام بلوچ کے کنفیوژن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے ہی سازشی تھیوریاں لوگوں کے ذہنوں میں ٹھونس کر اپنے گروہی مفادات اور کردہ گناہوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے ، تاکہ لوگوں کو پہلے اس خوف میں مبتلا رکھا جائے کہ انکے خلاف کوئی گہری سازش ہورہی ہے پھر پس پردہ اپنے ذاتی و گروہی مفادات کی بجاآواری کرسکیں، تاکہ ایک عام بلوچ جو اس تنقید اور بلوچ سیاسی منظر نامے کو مکمل نہیں سمجھ رہا اور وجوہات سمجھنے کی کوشش کررہا ہے وہ اس پورے عمل کو سازش سمجھ کر چپ ہوجائیں ، صرف پاکستان کے حالیہ پشاور واقعے کا جائزہ لیں ، پاکستانی فوج اپنے میڈیا کے ذریعے عوام کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں \” بیرونی سازش اور دہشت گردی \” جیسے مفروضات پر یقین دلا کر مکمل طور پر بری الذمہ ہوگئی ، ہر طرف فوج کی واہ واہی چل رہی ہے اور فوج نے اپنی گرتی ساکھ پنجاب میں بحال کردیا ہے، جو سوال اس فوج پر اٹھ رہے تھے وہ دھول ہوگئے ، آج بی این ایم اور بی ایل ایف پاکستانی فوج کے اسی ذہنیت کو مستعار لیکر بلوچ عوام کیساتھ وہی سلوک کررہے ہیں، 27 مارچ 2014 کے بی ایل ایف کا بیان ہو ، بی این ایم کا پروم جلسہ ہو ، پہلی جولائی کو بی این ایم کے سینٹرل کمیٹی کا بیان ہو بار بار یہی \” ملٹی نیشنل کمپنیوں \” والا سازشی تھیوری دہرارہے ہیں تاکہ لوگوں کے ذہن میں نقش ہوجائے ، ہر کنفیوز کارکن جب انکے پاس جاتاہے تو انکا سیدھا جواب یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمارے خلاف عالمی سازش ہے ، پاکستانی فوج کی طرح انکا بھی مقصد یہی ہے کہ خود کو کسی عالمی سازش سے نتھی کرکے ، سیاسی مخالفوں کو بیرونی ایجنٹ ظاہر کرکے عوام میں اپنے گرتی ساکھ بحال کرسکیں اور اپنے اوپر اٹھتے سوالوں سیلوگوں کی توجہ ہٹا سکیں ، میرے خیال میں آج بلوچ سیاست کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک عام بلوچ ہو یا ایک سیاسی کارکن وہ بغیر تحقیق اور غور کے کچھ بھی قبول نہیں کریں ، جن سوالوں نے ان انقلابیوں کو سامراجی رویے اپنانے پر مجبور کردیا ہے سوالات کے اس سلسلے کو بالکل روکا نہیں جائے ، کیونکہ یہی سوالات کریدتے ہیں ، ملما سازی سے جو چہرے چھپائے گئے تھے انہی سوالات نے کرید کرید کر آج کے چہرے عیاں کردیئے تب تک کریدتے جائیں جب تک کہ آپ ہر بناوٹ کو ہٹا نہیں دیتے ، آج بی این ایم پر اگر کوئی تنقید ہورہی ہے اسکے وجوہات ٹھوس شواہد کے ساتھ واضح ہیں لیکن جس بھونڈے طریقے سے بی این ایم ان سے بچنا چاہتا ہے سیاسی کارکنان کو انہیں اس آسان راستے سے فرار ہونے نہیں دینا چاہئے ، ان کے سازشی تھیوری کے متعلق ان سے ثبوت و شواہد طلب کریں اور سچاء تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ *سنگت حیربیار اور قومی فکر بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ کے حالیہ تقریر کو دیکھیں تو اس میں انکے الزامات کا ہدف سنگت حیربیار رہے ہیں ، اس سے پہلے سنگت کے خلاف بی این ایم ، بی ایس او آزاد اور ڈاکٹر اللہ نظر کے بھی بلواسطہ یا بلا واسطہ بیانات آچکے ہیں ، اسکی سب سے بڑی وجہ حیربیار کا واضح سوچ و فکر ہے جو انکے گروہی مفادات سے متصادم ہے ، آج سنگت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں سے جوڑنے کے پیچھے ان کا یہ واضح موقف ہے کہ وہ اپنا بنیادی مقصد دو ٹوک الفاظ میں بلوچ قومی آزادی کو مانتے ہیں ، انکا ماننا ہے کہ کوئی بھی \” ازم \” بلوچ قومی آزادی کا نعم البدل نہیں ، اگر آزادی کیلئے ہمیں سرمایہ دارانہ ممالک سپورٹ کرتے ہیں تو وہ قبول ہے ، 70 کے تجربات جن میں کمیونسٹ بلاک کا ساتھ دینے کی وجہ سے بلوچ پسپا ہونے پر مجبور ہوئے تھے کے بناء پر سنگت نے موجودہ تحریک کی بنیاد کمیونزم کے بجائے صرف بلوچ نیشنلزم پر رکھی ، جدید دور میں تحریکوں کے کامیابی کیلئے عالمی حمایت کو ناگزیر سمجھ کر سنگت باہر ایک کیپلسٹ طاقت برطانیہ گئے ، اور جو موقف انہوں نے وہاں رکھا وہی بلوچ عوام کے سامنے بھی ہے ، لیکن دوسری طرف یار لوگ امریکہ ، برطانیہ اور فرانس اپنے نمائندے بھیجتے ہیں ان سے مدد کی اپیلیں کرتے ہیں اور بلوچ عوام کے اندر جاکر سوشلزم و مارکسزم کا نعرہ لگاتے ہیں ، ایک دفعہ جب میں نے بی این ایم کے ایک دوست سے استفسار کیا کہ وہ بلوچ عوام میں تو سوشلزم کا نعرہ لگاتے ہیں اور اپنے اسی نعرے کی بنیاد پر سنگت حیربیار کو سامراجی قوتوں کا ایجنٹ کہہ کر بلاتے ہیں پھر آپ لوگوں کے ہر بیان میں کیوں انہی سامراجی ملکوں اور انکے سامراجی عالمی اداروں سے مدد کی اپیل ہے ، آپ کے نمائندے یورپ و امریکہ میں کیوں لابینگ کرتے اور مدد مانگتے نظر آتے ہیں ، تو دوست نے جواب دیا کہ یہ ہمارا سیاسی حکمت عملی ہے ہماری اصلیت مارکسزم ہے لیکن ہم دنیا پر ظاہر نہیں کرتے تاکہ ہمیں ان سرمایہ دارانہ طاقتوں سے بھی مدد ملے ورنہ سوشلزم کا نعرہ اگر ہم کھلے عام لگائیں گے تو وہ ہماری حمایت نہیں کریں گے ، میں نے دوست کو اتنا کہا کہ کاش کارل مارکس چیئرمین خلیل جتنا ہشیار بندہ ہوتا تو اسے کم از کم فاقے کرنا نہیں پڑتا ، اندر سے وہ سوشلسٹ ہوتا لکھتا لیکن ظاہری طور پر کسی ساھوکار سے پیسے بھی لیتا ، ماشاء اللہ کیا حکمت عملی ہیں سامراجی ملکوں سے مدد لیکر سامراج کو شکست دیں گے یا تو سیاسی نابالغی کی اعلیٰ مثال ہیں یا پھر منافقت کے اعلیٰ پیکر، یہی واقعہ جب میں نے کسی اور دوست کو سنایا تو اس نے ہنستے ہوئے ایک جملہ ادا کیا \” باوہ دا امریکہ ء َ ریفرہ ننا دافتو انت حاجت \” ، اسی طرح سنگت حیربیار کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ سیاست کا بنیاد قومی ہونا چاہئے ، آج جتنے بھی مسلح و سیاسی تنظیمیں ہیں ان میں سے کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ قیام سے لیکر استحکام تک انہیں اخلاقی ، مالی ، سفارتی اور سیاسی طور پر سنگت حیربیار نے مکمل سپورٹ کیا ہے ، اسکی وجہ یہ تھی کہ سنگت چاہتے تھے کہ جو بھی جہاں بھی بلوچ قومی آزادی کیلئے کام کرنا چاہے اسکی مدد ہو ، آج وہی سب ادارے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بعد اپنے گروہی مفادات کے آبیاری کیلئے سنگت کے اسی سوچ کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں ، حالانکہ اگر اس وقت حیربیار چاہتے تو کسی اور کو سپورٹ کرنے کے بجائے اپنا پارٹی اور طلباء ونگ بناتے تو آج سب سے زیادہ مضبوط شکل میں انکا گروہ ہوتا۔ سنگت حیربیار کا یہی دو ٹوک موقف اور قومی سوچ انکے منافقانہ روش اور گروہیت سے متصادم اور رکاوٹ ہے۔ بی این ایم کا حالیہ بیان بھی اپنے گروہی مفادات کے تحفظ کیلئے سنگت پر انہی حملوں کا تسلسل ہے ، واجہ خلیل کہتے ہیں کہ \”۔ملٹی نیشنل کمپنیاں بلوچ سیاست میں اپنی خواہشات کی بنیاد پر دراڑیں پیدا کرنے کی کوششوں میں اپنے کٹھ پتلیوں کے ذریعے مصروف عمل ہیں جوگزشتہ دوسالوں سے زائد عرصے سے مختلف ذرائع ابلاغ سمیت دیگر حربوں کے ذریعے روبہ عمل لایاجارہا ہے۔ جس کا آغاز 2009کو ہوا جب حیربیار مری نے اپنے ایک اخباری بیان کے ذریعے اس خبر کو پبلک پراپرٹی بنایا، جس میں انہوں نے یہ عندیہ دیا کہ بلوچ آزادی پسندوں میں اختلافات ہیں۔دراصل بلوچ آزادی پسندوں میں اختلافات موجود نہ تھے \” جسطرح خلیل صاحب سنگت حیربیار کے 13 جنوری 2010 کے بیان کو 2009 کا بیان ظاہر کرکے تاریخ سے کھلواڑ کررہے ہیں اسی طرح میرے خیال میں یہ حقائق کے ساتھ بھی مذاق ہے ، اگر اختلافات موجود نہ تھے تو پھر اسی 2010 میں بشیر زیب بلوچ کس لئے ڈاکٹر اللہ نظر کے کیمپ میں تین ماہ تک بیٹھے تھے ، اگر بلوچ ایک تھے تو پھر بی ایل ایف کے 27 مارچ 2014 کے بیان کے مطابق ڈاکٹر اللہ نظر کو 2008 میں بولان کیمپ کیوں جانا پڑا ؟ میں کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں کہ یہ اتنے بیوقوف ہیں یا قوم کو بیوقوف سمجھتے ہیں یہ اختلافات ، یو بی اے کا بننا ، بی این ایل ایف کا سامنے آنا حتیٰ کے آج محاذ جنگ پر آمنے سامنے کھڑے ہونا ایک دن میں اور ایک شخص کے بیان سے پیدا ہوگئے ، یہی انکاریہ رویے ہی آج ان تمام مسائل کا جڑ ہیں ، اختلافات سے انکار ، اپنے غلطیوں سے انکار ، اپنے گندگیوں سے انکار۔ ایک چیز تب تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک آپ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ غلط تھی۔ اسی طرح خلیل بلوچ Trap کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے سنگت حیربیار نے پھنسانے کی کوشش کی تاکہ میں اسکے مرضی کے مطابق فیصلہ کروں ، یہ کہتے ہوئے خلیل بلوچ کوئی واضح دلیل یا واقعہ بیان کرنا تو بھول ہی گئے لیکن ساتھ میں انہیں یہ بات بھی یاد نہیں رہی کہ انہوں نے خود سنگت حیربیار کو بی این ایم کے چیئرمین شپ کی دعوت دی تھی یعنی جس کے بارے میں آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ پانچ سال سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کیلئے کام کررہا ہے اسے آپ نے چیئرمین شپ کی دعوت دے دی ، ویسے عجیب بات یہ ہے کہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے پر خلیل بلوچ Trap کا لفظ استعمال کررہے ہیں لیکن انہیں اندازہ نہیں ہورہا شاید کہ آپ حیربیار کے بارے میں بلا ثبوت ایک بات کررہے ہیں لیکن زمینی حالات کے مطابق بی ایل ایف آپکے فیصلوں پر صرف اثر انداز ہی نہیں ہورہی بلکہ آپکے فیصلے کررہی ہے ، انکے پہلو و سیکیورٹی میں آپ اجلاسیں کررہے ہیں ، انکے دائرہ اثر سے باہر آپکا گند ہی ختم ہوچکا ہے ، پھر میرے خیال میں عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ آپکے شعلہ بیانی کے بجائے ہم زمینی حقائق کو تسلیم کرکے چلیں بہتر ہیں ، شاید یہ Trap کا لفظ آپکے روزمرہ کے معمولات کا لاشعوری بیان ہے ، لیکن پھر بھی بی این ایم کے کسی کارکن یا کسی بھی بلوچ کو اس Trap کو سمجھنا ہو تو پھر وہ تھوڑا تحقیق کرکے واجہ خلیل اور واجہ موسیٰ کے فرق کو جاننے کی کوشش کرے خود ہی سمجھ آجائیگا Trap کسے کہتے ہیں۔ ویسے بے ادبی معاف غریبی کا جتنا رونا ہمارے محلے کی کپڑے دھونے والی مائی کو نہیں ہے جتنا مڈل کلاس کے لیڈروں کو ہے ( یہاں خلیج اور منشیات کے کروڑوں روپے موضوعِ بحث نہیں ) خلیل صاحب کہتے ہیں حمل حیدر کو حیربیار اسلئے قبول نہیں کررہا تھا کیونکہ وہ غریب اور عام بلوچ ہیں لیکن یہ بیان کرنا بھول گئے کہ حمل حیدر جب لندن گئے تھے تو کس کے گھر میں رہ رہے تھے ، ویسے اگر سنگت حیربیار کو کسی سے اٹھنا بیٹھنا گوارا ہوتا تو وہ غریب کو ٹھکرا کر سوئٹزر لینڈ کے نوابوں و سرداروں کے ہم نشین ہوتے لیکن وہاں ہاتھوں سے ہاتھ ملائے حمل حیدر نظر آتا ہے اور حیربیار نوابی کے خاتمے کا اعلان کررہا ہوتا ہے ، کہیں چوین لائی اور اسٹالن والا اپنے اپنے طبقوں سے غداری والی بات تو نہیں آگئی یہاں۔ اگر بی این ایم کے اس موقف کو اسکے سابقہ موقفوں اور زمینی حالات سے نتھی کرکے دیکھیں اسکا ہر جملہ تضاد ، الزام تراشی اور دروغ گوہی کا پیکر ہے لیکن معٰذرت کے ساتھ ایک دوست کے ان الفاظ پر قصہ مختصر کہ \” جو ملٹی نیشنل کمپنیوں سے سودے بازی کرے اس پر حیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو جھوٹ بولے اس پر بھی حیف\”

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0