عالمی سیاست اور بلوچ قومی مفادات

بدھ 7 فروری, 2018

اداریہ

دنیا کے بدلتے حالات و سیاسی پیچیدگیاں دن بہ دن گنجلک شکل اختیار کر رہے ہیں۔ امریکہ و شمالی کوریا کی زبانی جنگ ہو یا کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی سیریا قطر و ایران کے بدلتے حالات ہوں ۔ روس کی طرف سے ایران کی پشت پناہی سمیت طالبان کی مدد وکمک و کے چین سنکیانگ صوبے میں اسلامی عسکریت پسندوں کی وجہ سے شورش و افغانستان میں امریکہ کی موجودگی و طالبان کی پیش قدمی و مقبوضہ بلوچستان میں چین کی مدد سے بننے والی سی پیک روڈ و گوادر پورٹ اس خطے میں بدلتے حالات کے لیے نئے میدان جنگ کی تلاش میں ہیں۔ امریکہ کی ایران کے ساتھ بگڑتے تعلقات و سعودی عرب کی جدید پالیسیاں اس بات کی طرف اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں اس خطے میں تبدیلی کا گمان خارج از امکان نہیں بلکہ نئی معاشی جنگ جو کہ امریکہ و چین کے بیچ خلیج کو بڑھا رہا ہے اور چین اپنی توسیع پسندانہ عزائم کو معاشی ترقی کے نام پر وسطیٰ ایشیا تک پھیلانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ جبکہ پاکستان اس بیچ اپنی دوغلی پالیسیوں کے تحت سب کو خوش کرنے کے درپے ہے اور بلوچ من الحیث القوم اپنی سرزمین پر کسی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے لیکن اپنی کمزور طاقت کے ساتھ چین و پاکستان کے منصوبوں کو کس حد تک ناکام کر سکتے ہیں یہ بلوچ لیڈرشپ کے آنے والے وقت کے پالیسیوں پر منحصر ہو گا کہ وہ اپنی پالیسیوں کو دیگر دنیا کے پالیسیوں کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ کر سکیں گے۔ اگر بلوچ روایتی طرز عمل پر وقتی فائدے کے لیے سوچتے رہے تو ممکن ہے کہ بلوچ اپنی شناخت کو بچا نہ پائے کیونکہ ان حالات میں مذہبی شدت پسندی کے ساتھ معاشی جنگ بھی سر اٹھا چکی ہے اب امریکہ سمیت جی ایٹ و نیٹو ممالک بھی ایران کے بڑھتے اثررسوخ و روس کے ساتھ ملی بھگت و طالبان کی سپورٹ پر سنجیدگی کے ساتھ کسی اٹوٹ فیصلے کی جانب جاسکتے ہیں ۔ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی اور امریکہ کی پاکستان کو حالیہ امداد کی بندش آنے والے حالات کی کشیدگی کا کھلم کھلا اظہار ہیں اب وقت کی نزاکت و حالات بلوچ قوم کو ایک بار پھر وہ موقع دے رہا ہے جہاں سے بلوچ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے دنیا کے بدلتے و ہوئے حالات کے تحت خود کو ڈال دے تاکہ اپنی سابقہ وطن کی بحالی کا دعویٰ ایک مضبوط فکر و نظریے سے کر سکے. تاکہ اس خطے میں وہ ایک حاکم کی حیثیت سے دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات بنا سکے یہ اس وقت ممکن ہے کہ دنیا سپر پاورز کے اندرونی مسائل کے بیچ سے اپنے وطن کی آزادی کی راہ ہموار کرنے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کر سکے. اور دنیا کے مفادات کے ساتھ بلوچ وطن کی آزادی کو ہم آہنگ کر کے دنیا کے دیگر طاقتوں کو اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں اور اس یونی پولر دنیا میں دنیا کی مدد کے بغیر بلوچ اپنی جدوجہد کمزور حالات میں جاری رکھ سکتا ہے لیکن کامیابی کا گمان کم ہی رہے گا.

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0