عراق، یزیدی خواتین کے ساتھ داعش کے جنگجووں کا وحشیانہ سلوک

جمعرات 25 ستمبر, 2014

ہمگام ۔

تقریباً دو ماہ پہلے جب دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق میں پیش قدمی کر رہے تھے تو ان سے بچنے کے لیے اقلیتی یزیدی برادری سنجار کے پہاڑ کی طرف فرار ہو گئی اور ہفتوں تک وہاں محصور رہی۔اس وقت یزیدی برادری دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ دنیا ان کی حالت زار کو بھول چکی ہے۔
شمالی عراق کے کرد علاقوں میں بے گھر یزیدی خاندان جہاں جگہ ملتی ہے وہاں عارضی کیمپوں میں پڑ رہتے ہیں، چاہے وہ جگہ نامکمل عمارتوں میں یا پلوں کے نیچے ہی کیوں نہ ہو۔
اسی دوران ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ہزار کے قریب افراد اب بھی دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں، جن میں تین ہزار خواتین اور بچے شامل ہیں۔
نوجوان یزیدی خواتین اور لڑکیوں کو مالِ غنیمت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور علاقے بھر میں ان کی غیر قانونی خرید و فروخت جاری ہے۔ صرف چند ہی لڑکیاں اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔زاخو کے علاقے کے ایک کیمپ میں پناہ لینے والی ادلہ اپنے شوہر سے پھر مل پائی ہیں۔ ان کو دیگر خواتین کے ساتھ اپنے گاؤں سے اٹھایا گیا اور 38 دنوں کے لیے قید رکھا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’پہلے تو مجھے موصل میں ایک بڑے گھر میں لے جایا گیا جو خواتین سے بھرا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے ساری کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے اور گھر کے چاروں طرف محافظ کھڑے کر دیے۔‘ادلہ کو جگہ جگہ سے منتقل کیا گیا اور اس کی سہیلیوں کو ریپ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ادلہ نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ان کے ساتھ کسی قسم کی زبردستی نہیں کی کیونکہ وہ امید سے تھیں۔ لیکن بعد میں انھیں اپنے بارے میں فکر ہونے لگی۔ادلہ کو اپنے گاؤں سے اغوا کیا گیا اور 38 دن قید ہونے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئیںانھوں نے کہا: ’ایک دن بہت سے مرد خواتین کو لینے آئے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم بھاگ جائیں گی۔ اگر ہم پکڑی بھی جاتیں تو وہاں رہنے سے مر جانا بہتر تھا۔‘اقلیتی امور کے ماہر خضر دوملے نےعراق کے ان مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں جن پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے اور جن میں یزیدیوں کو رکھا جا رہا ہے۔کچھ یزیدیوں کو جیلوں میں قید کیا گیا ہے، کچھ کو ایک سابق محل میں، تو کچھ کو ایک شادی ہال میں۔خضر ان قید خواتین میں سے کچھ سے بات کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس موبائل فونز ہیں۔خضر نے کہا: ’موصل اور تل عفر میں صورت حال ناقابل یقین ہے۔ بین الاقوامی برادری اس کی تحقیقات نہیں کر رہی۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ دولت اسلامیہ اتنی زیادہ تعداد میں خواتین کو اغوا کرنے میں کیسے کامیاب ہو گئی۔‘خضر کہتے ہیں کہ یزیدیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ دولت اسلامیہ ایک منصوبے کے تحت ان کی زمینوں پر قبضہ جمانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کو اس لیے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ سنی مسلمان یزیدیوں کے قدیم عقائد کو کافرانہ سمجھتے ہیں۔مجھے ایک سکول میں پناہ لینے والی نوجوان خاتون ملیں جنھوں نے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے اوپر تشدد کی خوفناک کہانی سنائی۔انھوں نے کہا: ’وہ ہمیں تاروں سے مارتے تھے، بھوکا رکھتے تھے اور یہاں تک کہ ہمیں اپنے چہرے پیٹرول کے ساتھ دھونے پر مجبور کرتے تھے۔ انھوں نے میری دوست کو لے جانے کی کوشش کی لیکن اس نے اپنی کلائیاں کاٹ دیں۔ دو اور خواتین نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔‘یہ خاتون صرف اس وقت دولت اسلامیہ کے قبضے سے فرار ہو پائیں جب ان پر عراقی فوج کی طرف سے فضائی حملے ہوئے اور وہ تین دن تک پناہ کی تلاش میں چلتی رہیں۔ اب وہ ان خواتین کے لیے پریشان ہیں جنھیں وہ پیچھے چھوڑ آئی ہیں۔انھوں نے کہا: ’وہ نو برس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو بیچ رہے ہیں۔ کچھ مردوں نے دو خریدیں، کچھ نے تین، اور کچھ نے تو ایک ہی بار میں چار یا پانچ خرید لیں۔ یہ بہت شرم کی بات ہے۔‘دولت اسلامیہ کے قبضے میں رہنے والی دو لڑکیوں کی والدہ ماتم کر رہی ہیںیہ بات سن کر اس خاتون کی خالہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں۔ ان کی دو چھوٹی چھوٹی بیٹیاں دولت اسلامیہ کے قبضہ میں ہیں۔انھوں نے چیخنا شروع کر دیا: ’یہ ظلم ہے، یہ ظلم ہے، وہ لوگ ہماری بیٹیاں لے گئے ہیں۔ ہمیں وہ واپس چاہییں۔ دنیا کو ہماری مدد کرنی ہوگی۔‘عراق میں یزیدیوں کی نمائندگی کرنے والی اکلوتی رکن پارلیمنٹ ویان دخیل نے اربیل کے شہر میں اپنے گھر میں 30 سے زیادہ بے گھر رشتہ داروں کو پناہ دی ہوئی ہے۔گذشتہ ماہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے یزیدیوں کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کے دوران ایک حادثے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئی تھیں اور اب چلنے کے لیے وہ بیساکھی کا استعمال کرتی ہیں۔ویان کہتی ہیں کہ اگر مغربی ممالک کے فوجی دولت اسلامیہ کا مقابلہ کرتے ہیں تو دولت اسلامیہ کو شکست دی جا سکتی ہے اور ان کے قبضے سے یزیدی قیدی بھی آزاد ہو سکتے ہیں۔انھوں نے کہا: ’مشیل اوباما کو ہماری بھی مدد اسی طرح کرنی چاہیے جیسے انھوں نے بوکو حرام کے ہاتھوں اغوا شدہ لڑکیوں کو چھڑوانے میں کی تھی۔ ہم یہاں پر ایک اقلیتی برادری ہیں اور ہماری مدد کرنے کے لیے یہاں کوئی مضبوط تنظیم نہیں ہے۔ ہم ان حکومتوں سے مدد مانگ رہے ہیں جو انسانی حقوق اور انسانیت کی قدر کرتی ہیں۔‘ان لاپتہ خواتین اور لڑکیوں کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ ان کو بچانے کے لیے وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ ان کو خدشہ ہے کہ اگر ان کی بیٹیوں کو نہیں بچایا گیا

تو وہ شاید ان کو کبھی نہ دیکھ پائیں گی۔

بشکریہ۔۔ بی بی سی اردو

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0