عراقی کردستان میں آزادی پر ریفرنڈم: انٹرویو گلبہار آتش: ترجمہ :مجید زھیر بادینی

اتوار 24 جولائی, 2016

ڈاکٹر ڈینز سفسی(Dr Deniz Cifci)ایک تجزیہ نگار اور محقق ہیں جو عمومی طور پر مشرق وسطی میں نسلی اور مذہبی تحریکوں آور ترکی اور کردوں پر خصوصا تحقیق کر رہے ھیں اسکے علاوہ ان کے فوکس میںISIS ، ھشد الشابی(HASHD AL-SHAABI )، THE PKK ، پی وائ ڈی / وائ پی جی PYD/YPG ،کے ڈی پی KDP ،پی یو کےPUK ، کردش حزب اللہ،زہرہ کمیونٹی منزل تارکہ، اور الیوی کرد ھیں اور وہ ان پر تحقیق کر رہے ھیں
کردوں کی کتنی تعداد آزادی کے حق میں”ہاں میں”ہاں ووٹ دے دینگےاور کچھ کیوں بائیکاٹ کرینگے؟
مشرق وسطی کے تجزیہ نگار اور محقق ڈاکٹر دینز سفسی DR.DENIZ CIFCI کردستان کے علاقے میں آزادی کے مسئلےپر ریفرنڈم کرنے کے بارے میں اپنےحالیہ وسیع سروے کرنے پر پتہ لگایا کہ 92% لوگ آزادی کے حق میں”ہاں” کرینگے
ڈاکٹرسفسی نے اپنے نئے آنے والے والے کتاب کیلیے”ISISاور کرد:شام اور عراق میں تنازعے کی جڑیں :بارے میں اربیل، سلیمانی اور دوہک Duhokمیں120 سیاستدانوں اور 250 ممکنہ ووٹرز سےبات چیت کی
محقق کہتاھے کہ زیادہ تر علاقوں میں لوگ یقین رکھتے ھیں کہ وقت آگیا ھےکہ آزادی کے بارے میں ریفرنڈم کیا جائے اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے عراق سے علیحدگی کیلئے ووٹ دینگے اور بعض علاقوں میں لوگوں کا خیال ھے کہ علاقائی حزب اختلاف اور علاقائی سیاسی و اقتصادی مسائل کی وجہ سے اس اقدام کو فلحال ملتوی کیا جائے
سوال:اس سروے کا بنیادی مقصد کیا تھا اور اسکا ہدف گروپ کون تھا؟
اسکی بنیادی وجہ میری آنے والی کتاب”ISISاور کرد:شام اور عراق میں تنازعے کی جڑیں” تھا میں اپنی اگلی کتاب کیلئے مطبوعات کی سیریز کیلئے 2013ء سے کردستان اور مشرق وسطی میں کام کر رہا ہوں اس تناظر میں میں نے محسوس کیا کہ نہ صرف IS IS کے ساتھ جنگ بلکہ کردوں کے سیاسی و اقتصادی تعلقات بھی انکی مستقبل کو تشکیل دینے کا عنصر ہے اور یہ دیگر عناصر کے بعد زیادہ غالب عنصر ہو سکتا ھے
ہم نے تقریبا ایک مہینے ریسرچ کی ہم نے لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا کہ موجودہ سیاسی و اقتصادی بحران ایسے اہم ریفرنڈم پر کیسے نظرانداز ہو سکتے ھیں اور موجودہ مسائل اس عمل کو مضبوط کرسکتے ھیں یا اس میں تاخیر پیدا کرسکتے ھیں-
ہم نے اپنی ریسرچ سیاسی اشرافیہ سے شروع کی جس میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی( KDP),پیٹریاٹک یونین آف کردستان(PUK)،گوران(THE CHANGE MOVEMENT)،دی اسلامک یونین(YEKGIRTU)،دی اسلامک لیگ(KOMAL)، اسلامک مومنٹ(IM)،کمیونسٹ پارٹی،لیڈران اور ڈپٹی لیڈران،MPs ،خواتین تنظیمیں،بزنس سیکٹر اور پیشمرگہ جنرلز شامل تھے ہمیں تقریبا 120 (اشرافیہ لیول کے)لوگوں سے انٹرویو کرنے کا موقعہ ملا
ہم نے پبلک سے بھی 250 لوگوں کو بھی انٹرویو کیا یوں شرکاء کی کل تعداد 370 بنتی ھے اشرافیہ کے شرکاء کو انٹرویو کیا گیا اور سروے کو عوام میں تقسیم کیا گیا-
ہمارا بنیادی مقصد اس سوال کا جواب تلاش کرنا تھا کہ موجودہ سیاسی و اقتصادی بحران کی صورت میں کرد سیاستدان ریفرنڈم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ھیں
سلیمانی کے علاقے میں سیاسی گروپوں کا خیال تھا کہ موجودہ صورتحال میں وہ ریفرنڈم کرنے کو مناسب نہیں سمجھتے-
سوال:آپ کے سروے سے ظاہر ہوتا ھے کہ سلیمانی میں ریفرنڈم کے سوال پر رویہ مختلف ھے ایسا ہی ھے؟
جواب : سلیمانی میں موجود کرد سیاسی گروپس خاص طور پر گوران(GORRAN)،کومل(KOMAL)،PUK اور کچھ NGOS ،اور اہم شخصیات نےبتایا کہ ہم سمجھتے ھیں موجودہ حالات میں ریفرنڈم کرنا مناسب نہیں ھے
ہم نے پوچھا “کیا آپ آزادی کے خلاف ھیں؟”انہوں نے جواب دیا “نہیں”-تب ہم نے پوچھا “کیا آپ ریفرنڈم کے خلاف ھیں؟”تو انہوں نے جواب دیا” ہم ریفرنڈم کے خلاف نہیں ھیں تاہم ہمارے دیگر مسائل موجود ھیں ریفرنڈم سے پہلے انہیں حل کرنے کی ضرورت ھے”
دوسرے الفاظ میں انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی ایکٹیویشن، مسعود برزانی کی صدارت کی ریگولیٹنگ، اقتصادی بحران اور کرپشن کے مسائل کو حل کئے بغیر وہ ریفرنڈم کو قبول نہیں کرینگے-
ہم نے اس موضوع کو واضح کرنے کیلئےیہ سوال کیا سلیمانی کے اکثریتی شرکاء نے بتایا “نہیں ہم ان حالات میں ریفرنڈم کی جانب نہیں جائینگے ہم نے انہیں یاد دلایا کہ اس صورتحال میں تقسیم کا امکان ھے تو انہوں نے بتایا کہ ہم یہ نہیں چاہتے لیکن اگر کوئی تقسیم ہوگی تو وہ اسی ہی وجہ سے ہوگی”
سوال:اربیل(ERBIL اور دوہک(DUHOK) میں صورتحال کیا تھی؟
جواب : ہم نے اربیل اور دوہک میں سیاسی اشرافیہ سے ریفرنڈم کے بارے میں بات چیت کی تو ان کا ریفرنڈم کے بارے جواب “ہاں”میں تھا
جب ہم نے انہیں بتایا کہ کچھ گروہ ریفرنڈم کی بنسبت سیاسی ایشوز پر زیادہ فکرمند ھیں توکےڈی پی(KDP)،آئی ایم کے(IMK)اور YEKGIRTU اورNGOs کے نمائندوں نے جواب دیا “ہاں”ان حالات میں ہم ریفرنڈم نہیں چاہتے ھیں لیکن یہ ناگزیر ھے یہ ہوگا یہ ایک موقعہ ھے اسے کرنے کی ضرورت ھے
اکنامکس کے نقطہ نظر سے غالب نظریہ یہ تھا “کردستان اندرونی مسائل کو آزادی کے بعد ہی حل کر سکتا ھے”
یوں ہر علاقے میں اس ایشو پر لوگوں کی رائے مختلف ھے-
سلیمانی میں مقیم کردش سیاسی اشرافیہ نے بتایا کہ ریفرنڈم سے پہلے سیاسی بحران، اقتصادی مسائل اور جمہوریت کی بہتری کے مسئلے کو حل کرنا چاہئیے کیونکہ کردستان کے قیام کے بعد یہ مسائل مزید گہرے ہوسکتے ھیں-
سوال:اس بارے میں عوام کی رائے کیا ھے؟
جواب :ہمیں اس تحقیق کے دوران اس حقیقت کا احساس ہوا کہ عوام اور سیاسی اشرافیہ کے بیچ خلاء موجود ھے کہ جو کام سیاسی اشرافیہ کرتی تھی عوام کچھ عرصے بعد اس میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتی تھی اور ہم نے محسوس کیا کہ ان کے سیاسی ترجیحات روزمرہ زندگی سے متعلق تھے
ہم نے سلیمانی کے علاقے میں تقریبات 120 لوگوں سے، اربیل( ERBIL) ، دوہک(DUHOK) اور زاخو(ZARKHO)میں تقریبا 130 لوگوں سے بات چیت کی یہ بنیادی طور پر سروے کی صورت میں تھا
ہم نے ان گروپوں سے پوچھاچاہے وہ کردوں کی آزادی کے بارے میں” ہاں” یا” نہ” میں جواب دینگے ہمیں کردستان کی آزادی کے حق میں 92%جواب حاصل ہوا-
اس سوال پر کہ اس صورتحال میں ریفرنڈم کیسے ہوگا؟”سلیمانی میں 76%لوگوں نے منفی میں جواب دیا کہ اربیل، دوہک اور زاخو میں کسی بھی صورتحال میں ریفرنڈم کرنے کے حق میں مثبت جواب دیا
عمومی طور پر45%لوگوں کا خیال ھے کہ وہ ان حالات میں ریفرنڈم کو مناسب نہیں سمجھتے ھیں انکی رائے ھے کہ سیاسی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے بعد ہی ریفرنڈم کیا جائے جبکہ 55%لوگ کسی بھی صورت میں ریفرنڈم کے حق میں تھے
ہمارے سروے کے مطابق 90%لوگوں نے رائے دی کہ یہاں سنگین قسم کی کرپشن موجود ھے انہوں نے کہا کہ کرد سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کو دیکھتے ھیں
کچھ شرکاء نے بتایا کہ “وہ کردستان میں اقتصادی کرپشن اور تضادات کو چھپانے اور عوام کیلئے تباہی پیدا کرنے کیلئے ریفرنڈم کو استعمال کرنا چاہتے ھیں
سوال:کیاISIS کے خلاف جنگ اندرونی تنازعات، اقتصادی بحران اور کرپشن کو چھپانے کا باعث بنا؟آئ ایس آئ ایس کےساتھ جنگ ایک یا دوسرے راستے سے کردستان میں سیاست کو پٹری سے اتار سکتا ھے جبکہ انکے ساتھ جنگ جاری ھے کیا آپ سمجھتے ھیں کہ ان حالات میں صدر برزانی کیلئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ سیاسی اتھارٹی کی حیثیت سے بین الاقوامی تعلقات کو برقرار رکھنے کیلئے مزید کچھ سالوں کیلئے اقتدار پر قائم رھے؟
جواب :اربیل،دوہک اور زرخو کے علاقوں میں عوام کی اکثریت میں برزانی کی صدارت پر کوئی اختلاف نہیں جبکہ سلیمانی کے علاقے کے پارٹی PUK ، گوران اور کومل کے کچھ حصوں میں لوگوں نے جواب دیا کہ برزانی کی جگہ سنبھالنے کیلئے کئی متبادل کرد لیڈر موجود ھیں
سوال:کیا عوام کو سیاسی پارٹیوں پر اعتماد ھے؟
جواب :86%لوگ کسی بھی سیاسی پارٹی پر اعتماد نہیں کرتے-
سوال: تو اس طرح ہم کیا جنرل نتیجہ اخذ کرسکتے ھیں؟
جواب :تقریبا تمام کرد سیاسی اشرافیہ اور عوام سب آزادی کے حق میں ” ہاں”کہتے ھیں تاہم وہ سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکلنے کے بعد ریفرنڈم چاہتے ھیں یہ ظاہر کرتا ھے کہ کس طرح اندرونی تنازعات کردوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ھیں
سوال:باقی8-7% کیوں آزادی کے حق میں نہیں ھیں؟
جواب : 7-8%وہ لوگ ھیں جو بہت زیادہ کرد سیاست سے ناراض ھیں مثال کے طور پر ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بیان کیا کہ ان کے خاندان میں سے بہت سے پیشمرگہ(مجاہدین آزادی)شہید ھیں لیکن ہم کرپشن سے تنگ اچکے ھیں اور ہم اسطرح کے کردستان میں نہیں رہنا چاہتے-ایک دوسرے آدمی نے کہا کہ کرپشن کے بعد کردستان کا تصور بے معنی رہ چکا ھے-
دو ترکوں جنہوں نے سروے میں حصہ لیا انہوں نے کہا کہ وہ فیڈرلزم چاہتے ھیں اسکے علاوہ کچھ یزیدی بہت ناراض ھیں کہ ان کے مسائل حل کئے بغیر وہ کردستان کے حق میں ” ہاں”نہیں کرینگے
“86%عوام کسی بھی پارٹی پر اعتماد نہیں کرتے”
سوال:کیا آپ اس صورتحال میں ریفرنڈم کو موزوں سمجھتے ھیں ؟
جواب : ہم اگر نتائج پر نظر ڈالیں کہ اگر کردستان میں ریفرنڈم ہو جائیں تو 40-50 %عوام ریفرنڈم کے بارے میں “نہیں” نہیں کہینگے بلکہ وہ ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرینگے اگر 40-50 %عوام ریفرنڈم میں حصہ نہیں لیتے اور صرف 50-60 %لوگ آزادی کے ریفرنڈم کوقبول کریں تو یہ ایک سیاسی شرم کی بات ھے
یہ شرم کا باعث ھے کہ اس سرزمین کے حق میں صرف 55 -60 %لوگ ہوں جہاں کے ہر انچ زمین پر شہیدوں کا خون بہا ھے بل یہ پاس توہوگا لیکن 60 %اور 90 %کے درمیان فرق سوشیا لوجی اور سیاست سے متعلق کچھ معنی رکھتے ھیں یہ کردستان کی آزادی کو نقصان دے گا
اس سیاق و سباق کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس صورتحال میں ریفرنڈم کرنا مناسب نہیں ہوگا جب 45-50 %ریفرنڈم کے حق میں نہ ہوں یا بائیکاٹ کریں سلیمانی کو یہ تسلیم کرنا چائیے ہمارے سروے کے نتائج بھی اس کو سپورٹ کرتے ھیں کیونکہ پچھلے ہفتے گوران اور PUK بغداد گئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ” ہم متحدہ عراق کو سپورٹ کرتے ھیں”
سیاسی و اقتصادی تعلقات پیدا کئے ھیں دوسری جانب ترکی نے اربیل کے ذریعے اقتصادی و سیاسی اثرورسوخ کو بڑھا دیا ھے
اندرونی تقسیم نے کردستان میں بیرونی ممالک کے سیاسی مداخلت کو آسان بنایا ھے اس بناء پر کردستان کو اپنی سیاسی مفادات کی بنیاد پر ریفرنڈم پر غور کرنا چائیے ایران مکمل طور پر کردستان کی آزادی کے خلاف ھے اسی وجہ سے وہ ریفرنڈم کو روکنے کیلئے اپنے سیاسی و اقتصادی طاقت کو استعمال کرنا چاہتا ھے
مجھے یقین ھے کہ ایران کا گوران اور PUK پر بڑا اثر ھے کہ انہوں نے بغداد جا کر کہا کہ “ہم عراق کا حصہ بن کر رہنا چاہتے ھیں-اندرونی تنازعات نے ایران کی حوصلہ افزائی کی-
ڈاکٹر ڈینز سفسی(DENZEL CIFCI)مشرق وسطی پر تحقیق کرنے والے تجزیہ نگار ھیں جو کہ عمومی طور پر مشرق وسطی میں نسلی گروہوں اور مذہبی تحریکوں آور خصوصا ترکی اور کردوں، IS IS ، ھشد الشابی (HASH AL-SHAABI )،پی کے کے(PKK)،پی وائ ڈی/وائ پی ڈی(PYD/YPG)،کے ڈی پی(KDP)،پی یو کے(PUK)،کردستان حزب اللہ،زہرہ کمینٹی(ZEHRA COMMUNITY)،منزل تارقہ(MENZIL TARIQA) اوز الیوی کردوں(ALEVI KURDS)پر تحقیق کر رہے ھیں
نوٹ:یہ انٹرویو ایک کردش ویب سائٹ rudaw.net میں انگریزی میں چھپ چکاھے

image_pdfimage_print

[whatsapp] انٹرویوز. RSS 2.0