عراق۔ کرد فورسز کی داعش کے خلاف پیش قدمی

جمعرات 18 ستمبر, 2014

ہمگام۔۔ انٹرنیسشنل نیوز۔۔
عراق میں کرد فورسز نے شدت پسند تنظیم داعش سے 4 قصبوں کا قبضہ چھڑا لیا، لڑائی میں متعدد افراد ہلاک، جنگجو علاقے سے پسپائی پر مجبور،عراقی وزیراعظم نے داعش کے خلاف کارروائی کیلئے ملک میں غیر ملکی فوجوں کی آمد کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق کرد فورسز نے اربیل کے مغرب میں کئی روز کی لڑائی کے بعد داعش سے چار قصبوں کا قبضہ چھڑا لیا۔ فریقین میں لڑائی کے دوران متعدد افراد ہلاک ہو گئے ۔کرد فورسز کی پیش قدمی کے باعث داعش جنگجو علاقے سے پسپا ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کرد فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں ہاون راکٹ اور دیگر میزائلوں کا استعمال کیا۔ کرد فوجی افسر نے بتایا کہ داعش سے چھڑائے گئے قصبے الحمدانیہ شہرکے مضافات میں واقع ہیں۔ان پر داعش نے رواں برس جون میں قبضہ کیا تھا۔یاد رہے کہ داعش نے ان قصبوں پر قبضہ کرنے کے بعد ہی ملک کے سب سے بڑے موصل ڈیم پر قبضہ کیا تھا۔ ان قصبوں میں موجود عیسائی برادری نے بھی جنگجوؤں کے فرار ہونے کی تصدیق کی ہے ۔کرد فورسز کی اہم پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔دریں اثنا داعش جنگجوؤں نے صوبہ نینوا میں 22 شہریوں کو اغوا کر لیا ،جن میں دو سابق انتخابی امیدوار بھی شامل ہیں۔ جنگجوؤں نے صوبائی دارالحکومت موصل کے مضافاتی دیہات کی بجلی اور پانی بھی بند کر رکھا ہے جس کے باعث رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے داعش کے خلاف کارروائی کیلئے ملک میں غیر ملکی فوجوں کی آمد کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم العبادی نے کہا کہ داعش کے خلاف کارروائی کیلئے عالمی برادری کو ملک میں فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے ،ہم ملک میں غیر ملکی فوج نہیں چاہتے اور نہ ہم اس کی اجازت دیں گے ۔قبل ازیں امریکی آرمی چیف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا تھا کہ داعش کیخلاف فضائی حملوں کی پالیسی ناکام ہونے کی صورت میں عراق میں فوج بھیجی جا سکتی ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0