فوج میں تین لاکھ اہلکاروں کی کمی کی جائے گی: چین

جمعرات 3 ستمبر, 2015

بیجنگ(ہمگام نیوز) چین کے صدر شی جنپنگ نے اپنی پیپلز لبریشن آرمی میں تین لاکھ کی کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ستر برس مکمل ہونے پر جمعرات کو بیجنگ میں تیانانمین اسکوائر پر منعقدہ ایک بڑی فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین نے خود کو امن کے لیے وقف کر دیا ہے اور فوج میں کمی کا اقدام اس کا عملی مظاہرہ ہے۔

پریڈ میں 12000 چینی فوجیوں اور سامان حرب کے علاوہ دیگر ملکوں سے آئے فوجی دستے بھی شریک تھے۔

اس سے قبل چینی صدر اور خاتون اول نے درجنوں ملکوں کے رہنماوں کو تقریب میں خوش آمدید کہا۔ یہ تقریب چین کے بقول فاشزم اور جاپانی جارحیت کے خلاف فتح کی یاد میں منعقد کی گئی ہے۔

پریڈ کا آغاز 70 توپوں کی سلامی سے ہوا اور پھر پرچم کشائی کے بعد صدر شی جنپنگ نے خطاب کیا جس میں انھوں نے 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں چین کے بیشتر حصے پر قبضہ کرنے والے جاپانی فوجیوں کی طرف سے لوگوں کو پہنچائی جانے والی تکالیف پر توجہ مرکوز رکھی۔

“ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا اور خود کو امن کے لیے وقف کرنا ہوگا، دوسری جنگ عظیم میں جان گنوانے والوں کی خراج عقیدت پیش کرنے بہترین طریقہ یہ ہے کہ تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جائے۔”

اس تقریب کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدام کیے گئے تھے۔ بیجنگ شہر کے ایک بڑے حصے عملاً بند کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ہزاروں فیکٹریاں، تعمیراتی سرگرمیوں والی جگہوں پر کام بند رہا۔

تقریب میں تیس سے زائد ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار شریک ہوئے جن میں روس کے صدر ولادیمر پوٹن کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی شامل تھے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0