فورسز نے مشکے سُنیڑی محاصرہ میں لیکر آپریشن کا آغاز کردیا ہیں۔بی ایچ آر آو

جمعہ 2 جنوری, 2015


کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ02جنوری2015کو فورسز نے بلوچستان کے علاقے مشکے سُنیڑی محاصرہ میں لیکر آپریشن کا آغاز کردیا ہیں۔دورانِ آپریشن فورسز نے داخلی وخارجی راستوں کو بند کرکے سول آبادی کو تشدد کا نشانہ بنا کر زمینی و فضائی شیلنگ بھی گئی ہیں۔شیلنگ زد میں آکر ثمینہ ولد میر محمود ،بھائی عبدالستار ولد میر محمود سمیت چار افراد موقع پر ہلاک ہوگئے ہیں۔ اور دو کمسن بچے شدید زخمی ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں فورسز نے پنجگور کے علاقے تسپ کو محاصرہ میں لیکر چادر و چار دیواری کی نقدس کو پامال کرتے ہوئے آپریشن کا آغاز کردیا ہیں۔گزشتہ شپ سے وقف وقف سے فورسز سول آبادی پر شیلنگ کی جارہی ہیں۔آ ج الصبح سے مکمل علاقے کو محاصرہ میں لیکر آپریشن کا سلسلہ شروع کردیا ہیں۔بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے اِ س واقع کی شدید لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سال کی ابتدامیں فورسز نے اپنی کارویوں میں تیزی لاچکی ہیں۔۔ نیاسال آنے پر ہر دل خوش ہوتا ہیں شاہد یہ سال ہمارے لئے خوشیوں کا سال ہوگا۔مگر بلوچ عوام کوخوشیاں تو دُور کی بات بلوچستان میں بلوچ عوام جیسے ہی اپنے زندگی گزر رہی ہیں۔مگر فورسز علاقے کو آئے روز بمبارمنٹ کر کے عوام کو شدید پریشانی میں ڈال کر مسخ کررہی ہیں۔ ہم اقوام متحدہ، یورپی یونین،ہیومن رائٹس واچ سمیت تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کی اِس سنگین حالات میں اپنے خاموشی کو تھوڑ کر انسان حقوق پامالی ہونے سے روک کر اپنے انسانی حقوق ہونے کا حق ادا کرے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0