قابض ریاست بلوچ یکجہتی سے خوفزدہ ہیں:براہمدغ بگٹی

جمعہ 10 نومبر, 2017

جنیوا (ہمگام نیوز) بلوچ آزادی پسند رہنما و قائد بلوچ ریپبلکن پارٹی نواب براہمدغ بگٹی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بہت جلد سوئٹرزلینڈ میں تمام بلوچ آزادی پسند رہنماوں اور پارٹیوں کے درمیان ایک ملاقات ہونے جارہی ہے جس میں نواب مہران مری، میر جاوید مینگل، نوابزادہ حیربیار مری، سردار بختیار خان ڈومکی اور بی این ایم کے واجہ حمل حیدر شرکت کررہے ہیں اس سے قبل بھی ہماری ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں چونکہ تمام دوستوں کی رائے تھی کہ ملاقاتوں کے سلسلے اور تفصیلات کو میڈیا میں ظاہر نہیں کیا جائے گا تاکہ بلوچ دشمن کو کوئی بھی موقع نہ دیا جائے لیکن اب ریاستی میڈیا اس حوالے سے منفی پروپگنڈہ مہم چلا رہی ہے جس کے بعد ناگزیر ہوگیا ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے تاکہ ریاست کی مٹھی میں قید میڈیا کے منفی پروپگنڈہ مہم کے اثرکو زائل کیا جائے۔ نواب براہمدغ بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا میں ہماری ملاقات کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں حوالہ دیا گیا کہ بی آر پی صوبائی خودمختاری وغیرہ وغیرہ کی جدوجہد کرنےپر تیار ہے جو مضحکہ خیز ہے جس کی ہم تردید کرتے ہیں میڈیا کی طرف سے اس وقت اس طرح کے رپورٹ کی اشاعت شروع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اور اس کی میڈیا بلوچ یکجہتی سے کتنے خوفزدہ ہیں اور ہمارے نزدیکوں کو بلکل بھی برداشت نہیں کرینگے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ رہنماوں کے درمیان ملاقات کا مقصد یکجہتی اور اتحاد کو پروان چڑھانا ہے اور سب کا مقصد ایک اور بلکل دوٹوک ہے وہ بلوچستان کی پاکستان سے آذادی۔ ماضی میں سب کی ایک دوسرے سے مختلف معملات پراختلافات رہے جن کو دور کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کیلئے تمام آزادی پسند بلوچ پر عزم ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ہی اس کے مثبت اثرات منظم اتحاد کی صورت میں قوم کے سامنے ہونگے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0