قنوطی فکر کا حاصل مایوسی تحریر : نودبندگ بلوچ

بدھ 3 دسمبر, 2014

مجھے قلم کی طاقت پر کبھی بھی شک نہیں رہا ہے لیکن میں اپنے سماج کو لیکر ہمیشہ سے ایک غلط رائے رکھتا تھا کہ اس نیم قبائلی معاشرے میں جہاں اکثریت اپنے نام تک لکھنے سے عاجز ہوتے ہیں وہاں اثر الفاظ سے زیادہ بندوق کی گرج رکھتی ہے ، اب بلوچ سیاست میں وہ مچی ہلچل دیکھتا ہوں جس کی اشد ضرورت تھی تو مجھے زیب قرطاس ہر لفظ اپنے اہمیت کا بین کرتا نظر آتا ہے ، ابتداء سے ہمارے اندر جو غلط رجحانات پرورش پارہے تھے انکا علاج وقت کو سمجھا گیا ، یہی سوچا گیا کہ جیسے جیسے وقت گذرتا جائے گا ان منفی کرداروں پر از خود قابو پالیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ غلط رجحانات تقویت پاکر ہمارے سرشت میں جیسے شامل ہوگئے اور وقت کے ساتھ ساتھ جن کو ان پر بولنا تھا وہ بھی چپ سادھ گئے پھر انکی یہ چپ نا سینکڑوں شہادتیں توڑ سکی نا کئی ناکامیاں اور نا ہی ٹوٹ پھوٹ اگر کسی نے یہ خاموشی توڑا بھی تو انہی الفاظ نے ، تبھی آج آپ کے سارے لیڈر ، سارے سرفیس جماعتیں اور ساری مسلح تنظیمیں انہی مسائل پر اقرار یا انکار میں بول چکی ہیں۔ انہیں اس لب کشائی پر مجبورکیا بھی تو کس نے ؟ انہی تحریروں کی صورت میں ہونے والی ایک ناکافی اور غیر معیاری بحث و تنقید نے ہاں غیر معیاری اور ناکافی اسلئے کہ اب تک مسائل پر موقف ، تبصرہ و تجزیہ یکطرفہ ہی نظر آرہا ہے اور جواب میں روایتی تضحیک کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آرہا اسی یکطرفہ ٹریفک کی وجہ سے میری ناقص رائے یہ ہے کہ ہم تنقید و تحریر کے اس معیار تک نہیں پہنچ پارہے جہاں ہمیں ہونا چاہئے تھا۔ بحث سے کنارہ کشی کے دلائل پر اگر غور کریں تو حیرت ضرور ہوتی ہے کیونکہ اسے اس جواز کے ساتھ مسترد کیا جارہا ہے کہ اس سے مایوسی پھیلے گی ، دشمن کو فائدہ ہوگا اور انتشار پیدا ہوگا لیکن دوسری طرف ان تحاریر کے جواب میں ہمارے لیڈران اور تنظیمیں ایک ایک کرکے سب اس حوالے سے رسمی بیانات جاری کرچکے ہیں یعنی اگر کوئی شخص قلمی نام سے ضبط تحریر میں لائے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ کے مندرجہ ذیل اعمال تحریک کو نقصان دے رہے ہیں تو ان تحاریر سے دشمن کو فائدہ ہوگا اور عوام مایوس ہوگی لیکن بی ایل ایف اپنے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد رسمی بیان تنظیم کے نام سے جاری کرتے ہوئے کہے کہ سنگت حیربیار تحریک کو نقصان دے رہے ہیں تو اس سے کچھ نہیں ہوگا ، اب کسی قلمی نام اور ایک تنظیم کے رسمی بیان کے اثرات کا موازانہ کرتے ہوئے دیکھیں تو اس میں موجود تضاد کی وجہ سے بحث کو مسترد کرنے کے وہ سارے دلائل دم توڑ دیتے ہیں اور پھر کم از کم عقل کی عدالت میں آپ مفرور ہی قرار پاتے ہو۔
خیر بحث کا آغاز ان تحریروں کے اثرات سے ہوا تھا ، میں نے محسوس کیا ہے کہ بالخصوص گذشتہ ایک سال سے آج تک میری کوئی ایسی نشست نہیں گذری ہے جس میں سوشل میڈیا اور بلوچ قومی تحریک کے مسائل زیر بحث نہ آئیں ہوں ، ہوسکتا ہے میں خوش فہمی کا شکار ہوں لیکن یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ہمارے اعلیٰ قیادت کو نکال کر صرف مجھ جیسے ادنیٰ کارکنان کو دیکھا جائے تو ہمیں اس بحث اور تنقید کیلئے اب کسی حد تک قبولیت کا عنصر غالب نظر آتا ہے اور ساتھ ساتھ ان مسائل کے بابت اب حقیقی تشویش بھی پائی جاتی ہے ، یہ رجحان میں نے خاص طور پر بی ایس او اور بی این ایم سے جڑے کارکنان میں زیادہ دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ ان دوستوں کے ساتھ پہلے مباحثے جذبات سے شروع ہوکر غداری کے فتوے پر فوری ختم ہوجاتے تھے لیکن اب مجھے پہلی بار جاننے کی جستجو نظر آتی ہے۔ گذشتہ کئی دنوں سے میں محسوس کررہا ہوں کہ اس طرح کا ہر بحث جاکر ایک سوال یا خدشے پر ختم ہوجاتا ہے کہ \” باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن اس سے قوم مایوس ہوجائے گی \”۔ کیا واقعی قوم مایوس ہوجائے گی ؟ اگر مایوس ہوتی ہے تو پھر کیا واقعی ہمیں رک جانا چاہئے ؟ کیا قوم کی مایوسی اہمیت رکھتی ہے ؟ کیا واقعی یہ بحث و تنقید اتنا ضروری ہے کہ قوم کے مایوسی کا خیال نہیں رکھا جائے ؟ ان سے بڑھ کر یہ کہ اگر قوم مایوس ہوتی ہے تو کیوں ؟ ، بحث و تنقید چاہے وہ جس سطح اور جس معیار کی بھی ہو کیا مایوسی کا سبب بن سکتی ہے ؟ یہ اور اس طرح کے کئی سوال میرے ذہن میں گردش کررہے ہیں۔
مایوسی کیا ہے ؟ اگر دیکھا جائے تو مایوسی ہمیشہ امیدوں کی عدم تکمیل پر ردعمل ہے۔ پھر قوم نے وہ کونسی امیدیں ہم سے لگارکھی ہیں کہ ان کی تکمیل نہ پاتے دیکھ کر وہ مایوس ہورہی ہے ؟ اگر وہ امید لیڈروں اور بھاری شخصیات کی عزت نوازی تھی تو پھر وہ مایوس ہوسکتی ہے ، اگر وہ امید جھوٹے اور بلند خیالاتی محلات پر اندھا یقین تھا تو وہ مایوس ہوسکتی ہے، اگر وہ امید ہم سے پارسائی کی تھی تو وہ مایوس ہوسکتی ہے ، اگر وہ امید ہماری ذات تھی تو وہ مایوس ہوسکتی ہے لیکن اگر وہ امید آزاد بلوچستان اور خوشحال مستقبل کی ہے تو پھر وہ یقیناً مایوس نہیں ہوگی کیونکہ ہمارا مقصد ان لیڈروں کی عزت نوازی ، جھوٹے دلاسے ، ہماری ذات اور ہماری عزت نفس سے کئی گنا زیادہ اہم ہے۔ اس بحث و تنقید کا مطمع نظر کیا ہے ؟ یہی کہ تحریک کے کمزوریوں پر بات کرکے ان پر قابو پایا جائے تاکہ یہی کمزوریاں ناکامی کا موجب نہ بنیں پھر بھلے اس کے قیمت پر کوئی لیڈر بے فیض ہوجائے ، جھوٹے خواب ٹوٹ جائیں ، ہماری ذات متنازعہ ہوجائے یا ہماری پارسائی کی پول کھل جائے پرواہ نہیں ، یعنی یہاں ذاتی مفاد ، قد ، عزت و شرف پر قومی مقصد کو اہمیت دی جارہی ہے اب اگر کسی کا مقصد ذاتی مفاد ، ذاتی عزت اور لیڈری تھی تو وہ ضرور مایوس ہوگا لیکن اگر کسی کیلئے اہمیت قومی مقصد رکھتا ہے تو وہ ہرگز مایوس نہیں ہوگا بلکہ اسے خوشی اور طمینانیت کا احساس ہوگا کیونکہ جو مقصد ذات سے اونچا ہوجائے تو پھر وہ دیر یا سویر اپنی تکمیل ضرور پاتا ہے مطلب یہاں مایوسی کا تعلق حالات سے زیادہ ہدف سے ہے۔ میں یہاں تک اپنی تشفی بھی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک محدود حد تک مایوسی کا بھی غلبہ کہیں کہیں نظر آتا ہے پھر اسکی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ سب سے پہلے اس فقرے پر غور کریں کہ \” قوم مایوس ہورہا ہے \” قوم کون ہے میں ذاتی طور پر نوعیت کے حساب سے اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے تشریح کرکے دیکھتا ہوں پہلا وہ تمام سیاسی کارکنان اور ہمدرد جو عملی طور پر اس تحریک میں شریک ہیں یا حمایت کررہے ہیں ، یہی پوری تحریک کو چلارہے ہیں ان کے سوچ و فکر کا رخ و معیار تحریک کے رخ کا بھی تعین کرتا ہے ، تحریک کے ہر کامیابی و ناکامی کا اثر ان پر بلا واسطہ پڑتا ہے اور اسی طرح تحریک کے ان داخلی مسائل ساتھ میں تحریر و تنقید کا اثر بھی ان پر بلا واسطہ ہوتا ہے اور اسی طبقہ کو صرف اس تحریر و تنقید کے سلسلے سے دلچسپی ہے ، جو لکھ رہے ہیں انہی کیلئے لکھ رہے ہیں اور جو لوگوں کو دور ہانکنے کی کوشش کررہے ہیں ان کا بھی ہدف یہی ہیں اور دوسرا تشریح مجموعی ہے یعنی ہر وہ عام و خاص شخص جس کے نام کیساتھ بلوچ لگ سکتا ہے وہ ہمارے لیئے قوم ہے۔
ابتداء آخرالذکر سے کرتے ہیں اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک عام بلوچ کو داخلی تضادات یا مسائل سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی وہ انہیں مکمل طور پر سمجھ پایا ہے اور نہ وہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے زیادہ تر اسے تحریک کے بارے میں بھی پتہ نہیں ہوتا اسکے دلچسپی کا تعین مجموعی نتائج کا اثر کرتا ہے کہ آیا وہ اسکے حق میں ہیں یا نہیں۔ اب اگر اس تناظر میں مایوسی یا امید کو دیکھا جائے تو پھر یہاں مایوسی و امید طاقت پر انحصار کرتا ہے یعنی اگر طاقت کا پلڑا آپ کے حق میں ہے تو وہ آپ سے امید رکھتے ہیں اور اگر آپ کمزور ہوئے اور طاقت کا پلڑا کسی اور کے حق میں جھک گیا تو پھر وہ آپ سے مایوس ہوکر کسی اور سے امید رکھنا شروع کرتا ہے ، کوئی تحریک یا نظریہ ایک عام شخص پر کلی اجارے کا دعویٰ نہیں کرسکتا کیونکہ ایک فرد ایک وقت میں کئی نظریات میں \” عوام \” ہوسکتا ہے یعنی ایک عام شخص نیشنلزم کے رو سے \” بلوچ \” ہے ، اسلام کے رو سے \” مسلمان \” اور سوشلزم کے رو سے \” پرولتاریہ یا بورژوازی \”۔ اس طبقے کا رخ مجموعی نتائج کے اثرات کے مطابق طے ہوتا ہے شاید یہ بات تصوریت پسند ذہنوں پر گراں گذرے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے پہلے عوام کے سامنے طاقت کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔ اس مجموعی عوامی طاقت کو اپنے حق میں موڑنے سے پہلے آپ کو مضبوط ہونا پڑتا ہے اگر اس \” عوامی مایوسی \” والے مفروضے کو اسی تناظر میں جانچ کر دیکھیں معلوم پڑتا ہے کہ انکو اس بحث و مباحثے سے کوئی سروکار نہیں اگر وہ کہیں مایوس ہوتی بھی ہے تو وہ مجموعی طور پر تحریک کے کمزوریوں سے مایوس ہوتی ہے اس لیئے اگر کوئی قوم کی تشریح اس معنی میں کرتا ہے اور وہ عوام کی مایوسی ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے تحریک کی کمزوریوں پر قابو پاکر اسے مضبوط کرنا چاہئے اور ان کمزوریوں پر قابو پانے کیلئے سب سے زیادہ ضروری ان کمزوریوں کی نشاندہی ہے اور نشاندہی کیلئے تحریر و تنقید سے زیادہ بہتر طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے اب اسی تناظر میں ان مثالوں پر غور کریں مکران میں عوام میں مایوسی سرمچاروں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے اور جھالاوان میں اسکی وجہ تحریک کی سست رفتاری اور سرکاری دلالوں کی مضبوطی ہے اب اگر مکران میں سرمچار اپنے رویئے اور روش بدل لیں اور جھالاوان میں مسلح تنظیم ان سرکاری دلالوں پر قابو پالیں تو پھر عوام مایوسیوں سے نکل کر آپ کا حمایتی بن جائے گا۔
اب \” قومی مایوسی \” کو اولذکر تشریح کے تناظر میں دیکھیں کہ آپ کے کارکنان اور ہمدرد اگر مایوس ہوتے ہیں تو کیوں ؟ بحث مباحثے ، تنقید ، دلیل کو اسکے پست ترین سطح پر بھی دنیا کا کوئی بھی باشعور شخص مسترد نہیں کرسکتا کیونکہ جو تضاد یہ پیدا کرتا ہے اس کا نتیجہ تخلیق و ترقی ہی کی صورت میں نکلتا ہے پھر اگر کوئی مایوس ہورہا ہے تو اسکی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ میرا علم و مشاہدہ بہت کمزور ہے شاید احاطہ نہ کرپاوں لیکن اگر تھوڑا غور کیا جائے تو اسکی بنیاد ہماری فکر و تربیت میں پوشیدہ ہے ، تحریک سے ہماری وابستگی جذبات اور شخصیات پر ہے ہمیں شہیدوں کا واسطہ دیا جاتا ہے ، تاریخ کی عظمت دہرائی جاتی ہے ( جو وجود نہیں رکھتی) ، شخصیات کے ہیروک داستانیں دہرائی جاتی ہے ، کچھ دن پہلے ایک دوست سے بات ہوئی تو کہہ رہا تھا کہ \” یار تم کو شرم نہیں آتا بی ایس او کے جس ڈھانچے کیلئے شہیدوں نے قربانی دی تم اسے بدلنے کی بات کرتے ہو \” میں نے جواب دیا کہ \” جس شہید نے بی ایس او کے ڈھانچے کیلئے قربانی دی وہ میرا شہید ہی نہیں ، شہید تو وہ ہیں جنہوں نے قومی مقصد کیلئے قربانی دی ہے اور قوم کا مقصد بی ایس او ہرگز نہیں ہاں ذریعہ ہوسکتا ہے\” آپ غور کریں کہ عام طور پر آپ نے یہ جملے کتنی دفعہ سنی ہوگی کہ \” بی ایس او شہیدوں کا تنظیم ہے \” بی آر پی شہید اکبر خان کے فلسفے کو آگے بڑھا رہی ہے \” بی این ایم غلام محمد کے فکر پر چل رہی ہے \” ، \” ڈاکٹر اللہ نظر کی قربانیاں \” اور تازہ ترین اضافہ \” یوبی اے بابا خیربخش کے فکر پر عمل پیرا ہے \” وغیر ویسے آپ نے لینن کی کتنی تقریریں پڑھی ہیں جس میں وہ لوگوں کو واسطہ دے رہا ہو کہ بالشویک شہیدوں کی تنظیم ہے آؤ اسکا حصہ بنو اسی طرح دوسری کامیاب اور اثر انداز تحریکوں پر بھی غور کریں ، جب وابستگی اور فکر کی بنیاد شہیدوں کے نسبت بھڑکائے ہوئے جذبات ، لیڈروں کے صفت و ثناء انکی عزت و تکریم اور
تحریک کے متعلق مبالغہ آرائی و خیالی جنت ہوگی تو پھر ایک جذباتی ذہن وہ باتیں کیسے برداشت کرسکے گی جن میں شخصیات پر سوال کرکے اسکے اساطیری تصور کو توڑا جاتا ہے، کسی ایسے مسئلے پر بات کی جاتی ہے جس میں ایک شہید کا منفی کردار بیان ہو ، کسی ایسے تنظیم پر کیسے بات کی جائے جس سے کچھ شہیدوں کا تعلق ہو ، ایک دوست مجھے کہہ رہا تھا کہ 2005 میں شہید اکبر خان نے جو جنگ شروع کی اس پر غور کرو تو وہ گوریلہ جنگ نہیں تھا بلکہ خودکشی تھی اگر میں اس پر بات کروں تو لوگ ہمارے کپڑے اتار دیں گے۔ ایک طرف فکر کی بنیاد یہ اس پر مستزادیہ شخصیت پرستی اور ہیرو سازی کا ایسا بازار گرم ہے کہ لفاظی طور پر مقصد آزادی ہے لیکن لاشعوری طور پر ہر کوئی چی گویرا بننا چاہتا ہے تصورِ گمنامی یہاں گمنام ہورہا ہے تبھی روزانہ کے بنیاد پر منہ پر پٹھو باندھے سرمچاروں کی لاتعداد ویڈیو و تصاویر میڈیا پر نظر آتے ہیں آخر کیسے نہ ہو جو شخص تحریک کا رخ ڈاکٹر اللہ نظر یا براہمداغ کے بندوق بردار تصویروں سے متاثر ہوکر کرچکا ہو اور وہ ان تصویروں کی ستائش عوامی سطح پر دیکھ چکا ہو تو پھر وہ خود آخر ایسا کیونکر بننا نہیں چاہے گا اور اس پر بھی طرہ ہمارے \” آجوء خڑکے \” والے سبز باغ ہمیں تحریک کو ایک مخصوص دائرے کے اندر ہی دِکھاتے ہیں۔ اب مذکورہ بالا عوامل کے حاصل و حصول پر غور کریں تو مجھ جیسے ایک ادنیٰ سیاسی کارکن کیلئے تحریک کا خاکہ یہ بن رہا ہے کہ \” ہمارے عقل کل ہیرو لیڈر ایک ایسے تحریک کی قیادت کررہے ہیں جس کی بنیاد ہماری عظیم شہداء نے اپنے لازوال قربانیوں سے رکھی ہے اب ہم بہت جلد آزادی پانے والے ہیں \” جب فکر کی بنیاد ایک ایسے خیالاتی خاکے پر ہو تو پھر ایسے نازک مزاج نظریے اکثر ہلکے سے جنبش سے ٹوٹ جایا کرتے ہیں، ایسے عالم میں مایوسی پھر قرین از قیاس نہیں۔ ایک اور کڑوی بات کا بھی اضافہ کرنا چاہوں گا جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ مایوسی خواہشات کے عدم تکمیل کو کہتے ہیں یہاں جب کوئی شخص اپنے خواہشات یا امید کو حقائق کے برعکس پاتا ہے تو پھر حقائق جاننے کے بعد یا تو مزاحمت کرکے ان کو جھٹلانا چاہتی ہے اور اگر یہ نہیں ہوسکا تو ان حقائق سے اپنی تعمیر نو کے بجائے مایوس ہوجاتا ہے اور خواہشات کی جو عدم تکمیلی سامنے آتی ہے وہ اسکے پاس کوئی جواز نہیں چھوڑتا کہ وہ تحریک کا حصہ بنے رہے ، اسلئے مایوسی کا بہانہ دراصل فرار کا سنہری راستہ و موقع بن جاتا ہے۔ بات پھر آتی ہے ہماری وابستگی کے بنیاد پر ایک دفعہ میں نے اپنے ایک محترم دوست سے سوال کیا کہ \” مخلصی و جذبات سے ہم تحریک سے وابستگی تو اختیار کرلیتے ہیں لیکن پھر وہ کونسی چیز ہے جو کسی کو روکے رکھتی ہے ؟ \” خیر اس موضوع پر پھر کبھی لب کشائی کریں گے۔
یہ اس مسئلے کا ایک پہلو تھا دوسرے پہلو پر غور کریں اور ذرا تخیل کے گھوڑے کو دوڑائیں کے جب تنقیدی تحاریر کا سلسلہ شروع ہوا تو اسکے جواب میں گالیوں اور فتووں کے بجائے ایک سنجیدہ فکری بحث کا آغاز کیا جاتا تو ان دو سالوں کے دوران نہ صرف ہمارا معیارِ تنقید و علم بہت بلند ہوجاتا بلکہ ہم کسی نتیجے پر بھی پہنچ جاتے اگر کسی نتیجے پر نہیں بھی پہنچتے تو کم از کم اس مبہم صورتحال کے بجائے ہر ایک کی سوچ ، مقصد اور خواہشات قوم کے سامنے بالکل واضح طور پر عیاں ہوچکے ہوتے جس سے ہمارے تصوراتی فکری بنیادوں کے بجائے اپنے معروضی حالات و ٹھوس مادی حقائق کے مطابق حقیقی آگاہی و تربیت ہوچکی ہوتی اور قنوطی سوچ کے پیدا کردہ توقعات کے بجائے رجائیت ہمارے فکر و تجزیات کا بنیاد بن جاتا پھر مایوسی کا شائبہ تک نہیں رہتا ، لیکن ہوا کیا ان تحریروں سے ہمارے لیڈران اور تنظیمیں اتنے پریشان ہوگئے کہ فتووں کا بازار گرم کردیا اور کارکنان نے گالیوں اور تضحیک کا طوفان برپا کردیا۔ اگر آج پھر بھی کوئی مایوس ہورہا ہے تو اسکی مایوسی کو ہوا یہی غیر
سنجیدہ رویئے دے رہے ہیں ، فکری بحث سے کوئی شخص مایوس نہیں ہوتا۔ ایک دوست مجھے کہہ رہا تھا کہ گالیوں کے اس ماحول کو روکا جائے ورنہ نتیجہ بہت دوریوں تک پہنچ جائیں گے \” میں نے عرض کیا \”ہم کیا کرسکتے ہیں ، جنہیں ڈاکٹر اللہ نظر کہے کہ یہ قومی غدار اور ریاست کے ایجنٹ ہیں تو پھر ڈاکٹر کے پیروکار انہیں گالیاں نہیں دیں گی تو اور کیا کریں گے ہمارے لیڈروں کا احساسِ ذمہ داری کا معیار یہ ہے پھر میں کچھ نابالغ سیاسی کارکنوں یا کچھ موقع پرستوں سے اچھائی کی کیا امید رکھوں ، اب یا تو بلیک میل ہوکر چپ ہوجائیں یا پھر گالیاں کھاتے جائیں \” کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر تخلیق کے بجائے مایوسی پنپ رہی ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ماحول علمی کے بجائے مقابلے بازی اور ہلڑ بازی کا بنا دیا گیا اور اس ہلڑ بازی کے ذمہ دار مکمل طور پر ہمارے لیڈران ہیں جنہوں نے اپنے ذات کے دفاع کیلئے یہ حقیر سیاسی پینترے آزمائے وگرنہ وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اس عمل کے پیچھے ریاست یا کوئی ملٹی نیشنل کمپنی نہیں بلکہ ایک مضبوط فکر ہے اگر واقعی یہ ریاستی کارگزاری ہوتی تو پھر ابھی تک یہ درونِ خانہ درگزر اور بھول جاؤ کے پیغامات نہیں بھیجتے۔
انسانی فطرت پر غور کریں مایوسی کا موجب ہمیشہ کوئی خارجی عمل یا شے ہوتی ہے یعنی جب آپ اپنے ذات سے باہر کسی شخص یا عمل سے کوئی توقع رکھتے ہیں اور وہ پورا نہیں ہوتا تو ردعمل مایوسی ہوسکتی ہے لیکن انسان اپنے ذات اور اپنے آپ کے بارے میں اس سے مختلف رویہ اور ردعمل رکھتا ہے انسان کبھی اپنے وجود سے مایوس نہیں ہوتا ، جب اپنے آپ میں کسی کمی کا احساس ہوجائے تو پھر وہ اس کمی پر مایوس ہونے کے بجائے اس پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے حتیٰ کے خود کشی جسے مایوسی کی انتہا کہا جاتا ہے اسکے بھی بیرونی مہیجات ہوتے ہیں۔ آج اگر ہم کسی کمی یا کوتاہی سے مایوس ہوتے ہیں تو اسکا مطلب ہم تحریک و مقصد کو ابھی تک ایک خارجی یا بیرونی چیز سمجھتے آئے ہیں ، اس لیئے اس سے مایوس ہوکر اسے مسترد کرنا ہمارے لیئے آسان بن جاتا ہے اگر ہم اس مقصد کو اپنے ذات کا حصہ بنالیں تو کمی کے بابت ہمارا ردعمل بہتری کی کوشش ہوگی مستردی نہیں۔ اس بحث کا مقصد یہی ہے کہ مایوسی کا سبب ہمارے لیڈران کے غیر ذمہ دارانہ رویئے اور ہماری ناقص تربیت ہے ، ہماری جس طرح تربیت ہوئی ہے اس میں مبالغہ ، ہیروازم اور شخصیت پرستی غالب ہیں اور یہ تینوں ایسے عناصر ہیں جو خیال میں بلند اور حقیقت میں پست ہوتے ہیں اسی لیئے تحریک بھی ہمارے لیئے ایک خیالی اور خارجی شے بن چکی ہے۔ اگر اس تحریک و مقصد کو ہم اپنے ذات کا حصہ سمجھیں پھر یقیناً ہم مایوسی نہیں بلکہ بہتری کا راستہ چنیں گے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0