قومی آزادی کی تحریک کا ترکیب اور ساخت،تحریر: میران بلوچ

اتوار 4 فروری, 2018

قومی تحریکوں کا نیچر ،فطرت اور طریقہ مکمل طور پر پارلیمانی اور آزاد ریاست کی آزادانہ سیاست سے مختلف
ہوتا ہے ۔پارلیمانی لبرل ڈیموکریٹک سیاست بھی اپنی فطرت اورطریقہ کی وجہ سے ایمرجنٹ جمہوریت سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک میں جمہوریت کے نام پر آمریت اور ایمرجنٹ جمہوریت کا نظام رائج ہے ۔ایمرجنٹ جمہوری سیاست کے معنی ہے تنظیم کاری کے بغیر
تنظیم کی طاقت اور نام کو استعمال کرتے ہوئے سیاست کرنا ،نام جمہوریت اور تنظیم کا لیکر جمہوریت اور
تنظیم کو ٹولزکی طرح ا ستعمال کرتے ہوئے مفاداتی سیاست کرنا ہے جبکہ جمہوریت اور لبرل ڈیموکریسی بلکل اس کے برعکس ہے ہاں اگر پاکستانی اور تیسری دنیا کی ایمرجنٹ ڈیموکریسی کے نقطہ نظر سے دیکھاجائے تو اکثریت کی رائے کو جمہوریت کہا جاتا ہے لیکن حقیقت میں جمہوریت اکثریت کی رائے کو نہیں بلکہ ڈیموکریسی کامطلب عوام کسی ملک میں سپریم پاور ہے جموریت میں عوام ہی فائنل اتھارٹی ہیں
،ہم میں سے بہت سے لوگ تحریک ،جمہوریت ،ایمرجنٹ ڈیموکریسی کو مکس کرتے ہیں بہت سے خود ساختہ آزادی پسندکمانڈروں نے کہا کہ قومی تحریک میں وہ جمہوریت لاگو کریں گے پتہ نہیں انہیں اس کے بارے میں کیا معلومات ہیں لیکن زیادہ تر ہم اصطلاحات کے معنی،پس منظر،استعمالات سے واقف نہ ہونے کے باجود بھڑک بازی اور شوشا کے لیے انھیں استعمال کرتے ہیں جمہوریت بھی ایمرجنٹ جمہوریت سے مختلف ہے تو آزادی کی جدوجہد کا نیچر اور فطرت کس طرح سے ایک طریقہ سے آزاد ملک میں آزادی سے سیاست کرنے اور ایک ملک کے خلاف قومی تشکیل کی جدوجہد کرنا ایک ہوسکتے ہیں کچھ چیزیں بھڑک بازی کے لیے لوگوں کو وقتی طور پر متوجہ کرتے ہیں لیکن طویل مدتی طور یہ کام
نہیں کرسکتے ہیں ۔کیونکہ یہ مستقل مسائل کا حل نہیں ہے ایک قومی ریاست کی تشکیل کا ترکیب اور روش جمہوری انداز کی سیاست سے مختلف ہے ریاست کی تشکیل یاکہ قومی آزادی میں مقصد اور طریقہ کار مختلف اور، الگ ہے جس میں کسی بھی جگہ ایک قوم جس پر قبضہ کیا گیا ہے وہ اس قبضہ کے خلاف کام کرتاہے جدوجہد کرتا ہے تاکہ وہ قبضہ گیر سے آزادی حاصل کریں ،آزادی ،کی تحریک ایک مخصوص قومی آزادی کی مقصد کے ساتھ ایک قومی تحریک ہے ،اسکا مقصد تحریک کو متحرک کرنا اور اپنی قوم کو تاریخی ،جغرافیائی،نسلی،معاشی ،اور نفسیاتی ساخت کے حوالے دوسری قابض قوم سے الگ ثابت کرنا ہے

۔آزادی پسند قومی آزادی کے لیے واضح روڈ میپ اور جامع قومی پالیسی کے تحت قوم اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں اور قوم اور لوگوں کو اپنی موقف اور پالیسی کو جامع اور واضح انداز میں پیش کرتے ہیں ،قومی آزادی کے پالیسی ساز اپنی پالیسی کو دوسرے مخالف کی پالیسی سے منسلک کرکے اپنی الگ اور جامع پالیسی کو منوا کر اپنی پوزیشن کو بہتر انداز میں ظاہر کرکے اتھارٹی حاصل کرتے ہیں ۔آزادی کی
تحریک کے بھی مختلف نظریہ ہوتے ہیں جس طرح کیتولینہ کی جہد نیشنلزم کے ساتھ ساتھ کیتھولک اور روایاتی کیتھولزم کلچر سے مکس جدوجہد ہے جب مغربی بلوچستان کے بلوچ اپنے زمینی حقیقت اور سچائی کے مطابق اپنے سنی ازم کو مذہبی کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کررہے ہیں اور دُشمن کے خلاف قوم پرستی اور مذہب دونوں کے جزبات کو استعمال کررہے ہیں تو ایرانی پراکسی گروپ کو اس پر اعتراض ہے ہاں وہاں کے بلوچوں کا پاکستانی پراکسی بننا بھی اتنا ہی قابل تنقید اور قابل نفرت عمل ہے جتنا کہ مشرقی بلوچستان کے لوگوں کا ایک قابض کا پراکسی بن کر ایران کے مفادات کے لیے کام کرنا ہے ۔

کس طرح کا عذر ہے کہ کیتولینہ یورپ میں ہوتے ہوئے کیتھولک کارڈز استعمال کرسکتا ہے جبکہ مغربی بلوچستان کے لوگ جب یہی کارڈز اپنی آزادی کی خاطر استعمال کریں تو وہ غلط ہے جبکہ یہی لوگ مغربی بلوچستان کے لوگوں کو ایران کے خلاف مذہبی حوالے جدوجہد پر فتوے جاری کرتے ہیں انکے خلاف بیانات اسے جاری کرتے ہیں جیسے کہ یہ خود لبرلزم اور اعتدال پسندی کا اعزاز حاصل کرچکے ہوں
تو دوسری طرف بلوچستان جیسے سیکولر سماج میں یہی لوگ مذہبی لوگوں کا مڈل مین بن کر بلوچستان کی لبرل
اور سیکولر زرخیز زمین کو مذہبی جنونیت کا اماج گاہ بنا رہے ہیں Walker connorکہتا ہے کہ ایک آزاد ریاست کی تشکیل کے لیے نسلی قوم پرستی کا بڑا کردار ہوتا ہے ،یہ جزباتی وابستگی کو قوم و جدوجہد کے ساتھ مضبوط کرتا ہے اور یہ طاقتور وابستگی اور تحریک کے ساتھ تابعداری ہے ،نسلی قوم پرستانہ تحریر تقاریر اور سلوگن کے ساتھ ساتھ دوسرے قابض نسل کے خلاف نفرت انگیز نفرت پھیلانا بھی اسکا حصہ ہے ۔قوم پرستانہ پالیسی ، تقاریر ،تحریر اور سلوگن کی لوگوں کو وطن اور قوم کی خاطر قربان ہونے کے لیے مضبوط جزباتی اپیل ہوتا ہے مونٹینیگرومیں آزادی مخالف لوگ جو مونٹینیگرو کو سربیاکے ساتھ رہنے کے وکیل تھے انھوں نے ایک چیز پر خدشات کا اظہار کیا کہ مونٹینیگرو کی سربیا سے الگ شناخت کو ختم کیا جائے کیونکہ الگ
شناخت آزادی کا آخرکار منطقی انجام ہے ،انھوں نے کہا کہ اگر وہ اپنی شناخت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، سمجھ لیں وہ آزادی سے بھی دستبردار نہیں ہوسکتے ہیں لیکن بلوچ قومی تحریک کی روح،اسکی شناخت ،الگ پہچان اور قومی یکجہتی کو نقصان دینے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے مڈل کلاسی جراثیم کو پھیلایا ہے تاکہ بلوچ نیشنلزم کو کمزور کرسکیں آج ایک بار پھر کہورخان ،مالک،یسین اور صابر کو نئی شکل میں سامنے لانے کی پلاننگ ہورہی ہے کہ وہ مڈل کلاسی وائرس سے نیشنلزم کی جڑوں کو کمزور کرکے نقصان پہنچائیں قوم پرستی جو جزباتی وابستگی کو قوم اور اپنے لوگوں سے مضبوط کرتی ہے اسکو نقصان پہنچا کر بلوچ قوم کو مڈل کلاسی ، طبقاتی دلدل میں دکھیلنا کس کا ایجنڈا ہے کس کو خوش کرنے کا منصوبہ ہے ۔جو کوئی بلوچ پنجاب گیا یا کہ انکا پنجابیوں سے بات چیت ہوا ہے تو پنجابیوں کا پہلا سوال یہی ہے کہ جی پنجابی بھی غریب ہیں وہ بھی تنگ ہیں مسئلہ یہاں پر چودریوں اور زمینداروں کا ہے وہ ہمارا استحصال کررہے ہیں اور سردار تم لوگوں کا استحصال کررہے ہیں اس لیے پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ہم سب کو طبقاتی جدوجہد کرنا چاہئے تاکہ ہم سب اس استحصالی نظام سے نجات پائیں اسی فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے صابر ،ڈاکٹر کہور خان،ڈاکٹر مالک سمیت باقی سارے جہدکار نیشنلزم کا سلوگن دیکر قوم کا خون چوستے ہوئے آخر کار اپنی بدنام زمانہ طبقاتی سسٹم کاپرچار کرتے ہوئے پاکستانی مڈل مین بن گئے ،جاتے جاتے سب نے نیشنلزم
کو زخم دیکر بلوچ قوم کو علاقائی ،ذات ،قبائل،میں تقسیم کیا اور آخر میں نیشنلزم کو اغیار کی سازش کا شکار
کرکے سب سے بڑا نقصان پہنچایا ۔کیونکہ مڈل کلاس طبقہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوش ہوتا ہے ،اور یہ طبقہ مستقل مزاج نہیں ہوتا ہے کچھ قربانی دیکر یہ جلدی اسکا قیمت بھی وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے

،آزادی کی تحریک نسلوں سے چلتے ہیں ایک نسل سے دوسرے نسل تک لیکن وہاں کوئی جہدکار مایوس ہوکر
نیشنلزم کو چھوڑ کر کوئی اور عقیدہ نہیں اپناتا ہے ائرش سوسال سے جدوجہد کررہے ہیں لیکن وہ کھبی بھی اپنی
نیشنلزم سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں بقول رابندرناتھ ٹیگور’’ میں نے پرامید ہونے کے لیے اپنا ہی موقف بنالیا ہے،اگر میں ایک دروازے سے نہیں جاپاتا تو دوسرے سے جاؤں گایا ایک نیادروازہ بناؤں گا ‘‘،حال چاہئے جتنا بھی اندھیرے میں ہو کچھ شاندار سامنے آئے گا ۔پنجابی کسی نہ کسی طرح سے کوشش کررہا ہے کہ بلوچ نیشنلزم کی جدوجہد کو کس طرح سے قوم پرستی سے نکال کر اسے طبقاتی جدوجہد میں تبدیل کرے اس کے لیے لاہوری سوشلسٹ،پیش پیش ہیں ان میں بی بی سی کا بھی بڑا رول ہے کیونکہ بی بی سی اردو جہاں زیادہ تر پاکستانی ہیں کشمیر کو الگ طریقہ سے پیش کرتا ہے وہاں قوم پرستی کا پرچار کرتا ہے لیکن بلوچستان میں انکے کچھ لوگ جو سوشلسٹ اور پاکستانیت کا پرچار کرتے ہیں وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف کسی نہ کسی طریقہ سے پاکستانی بیانیہ کو آگے لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔پاکستانی تمام سوشلسٹ اورپنجابی لبرل طبقہ جتنا بھی پاکستانی نظام حکومت پر تنقید کریں لیکن وہ پاکستانیت پر یقین رکھتے ہیں وہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جدوجہد کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں بلکہ وہ بلوچ ،سندھی پشتوں کو پاکستانی کے طور پر قبول کرتے ہیں اور پاکستانی نظام میں سوشلسٹ ،جمہوری نظام کے اندر انقلاب لانے کے لیے سندھی ،بلوچ ،پشتون کو برداشت کرسکتے ہیں انکی مدد وکمک بھی کرسکتے ہیں انھیں اس صورت برداشت کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی بلوچیت سے کنارہ کش ہوکر پاکستانیت کو قبول کریں ۔پاکستانیت کو مذہبی اور سو شلسٹ دونوں صورتوں میں سندھی ،بلوچ اور پشتوں قوم پر مسلط کیا جاتا رہا ہے ۔70سالوں سے مذہبی اورطبقاتی کا افیون دیکر بلوچ ،سندھی اورپشتون لوگوں کو پاکستانیت کے جہنم اوردوزخ میں پھینکاجاتارہا لیکن اکیسویں صدی میں حیربیار مری نے نیشنلزم اور حب الوطنی کا چراغ اور دیا روشن کرتے ہوئے قومی آزادی کا صاف اور واضح پروگرام دیا جس پر لوگوں نے لبیک کرتے ہوئے جدوجہد کیا اور قومی تحریک پاکستانیت سے نکل کر بلوچیت کا حقیقی روپ دھار کر بلوچ الگ شناخت ،اور قومی یکجتی کو اس قومی جدوجہد نے توانا کیا ۔ حیربیار مری اپنے اصولوں ، موقف ،ایمانداری ،عزم ،استحکام ،اور ثابت قدمی کی وجہ سے یکتا لیڈر بن چکا ہے اافریقی اقتباس ہے کہ ایک گریٹ لیڈرکا دل بھی بڑا ہونا چاہئے ،جبکہ چینی کہاوت ہے کہ ایک ہزار کی فوج تلاش کرنا آسان ہے لیکن ایک صحیح لیڈر اور جنرل تلاش کرنا بہت مشکل ہے اسی طرح افغان ضرب المثل ہے کہ ایک اچھے لیڈر اور جنرل کے بغیر سب سے بڑی فوج بھی کچھ نہیں ہے ،بلکل اسی طرح بلغاریہ کی کہاوت ہے کہ اگر آپ خدمت اور اپنے لوگوں کا خیال نہیں رکھ سکتے تو آپ رہنمائی اور حکمرانی بھی نہیں کرسکتے ہو حیربیار مری میں لیڈرشپ کی یہ خصوصیات اور خوبی موجود ہیں ، اس نے اپنی آج کو ماضی سے تخلیق کرتے ہوئے قومی جدوجہد کو ایک نیا راستہ اور سمت دیا کیونکہ قوم پرستی کا سب سے بڑی کامیابی آج کو ماضی سے تخلیق کرناہے ۔کسی بھی قوم پرست کے لیے اسکی قوم کے ماضی کا کردار غیر دشوار اورواضح ہوتا ہے نیشنلزم کا مقصد ہے کہ اپنی سرزمین ،وسائل ،کلچر،سیاست اور سیاست دانوں کو خود کنٹرول کرکے قوم کی آزادی اور سربلندی کے لیے بہتر کام کرسکیں جبکہ یہ چیز قابض کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا ہے اسے نیشنلزم سے الرجی ہوتا ہے کیونکہ نیشنلزم ہی اسکی قبضہ گیریت کا خاتمہ کرسکتا ہے ،اس لیے ہر قابض کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ نیشنلزم کی جدوجہد کو بدنام زمانہ سوشلزم کی جدوجہد اور طبقاتی جدوجہد سے مکس کرکے ابہام زدہ کریں ،قابض کی کوشش ہوتی ہے کہ قومی جدوجہد کوایمرجنٹ جمہوری گدلے اور غلیظ ہاتھ میں دیکر خالص اور صاف قوم پرستی کی جدوجہد کو گدلااورغیرروشن کریں ۔جو کوئی قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطرقومی تحریک میں طبقاتی جراثیم پھیلانے کی کوشش کرتا ہے سمجھ لوکہ وہ خالص اور صاف نیشنلزم کی جدوجہد کو جان بوجھ کر یا حماقت سے زہرآلودکررہا ہے ۔اور اس طرح کے تحریک مخالف اور مضر منصوبہ پر قابض پاکستانی ریاست اپنے باجگزاروں اور خیمہ برداروں کے توسط سے چار بار عمل کرکے قومی تحریک کو نقصان دے چکا ہے ،دوبارہ اسی قابض کے منصوبہ پر عمل کرنا قوم دوستی اور تحریک دوستی نہیں بلکہ نمایاں اور صاف قوم اور تحریک دشمنی سمجھا جاتا ہے The Counterinsurgent’s Constitution: Law in the Age of Small Wars کتاب میں لکھا ہے کہ تین طریقوں سے انسرجنسی کو کاونٹر کیا جاسکتا ہے اول ،Reprssive Counterinsurgency Policy سے کسی بھی جدوجہد کو کاونٹر کیا جاتا ہے یہ قابض کا دبانے والا پالیسی ہوتا ہے جس سے وہ طاقت وقوت استعمال کرتے ہوئے کسی بھی انسرجنسی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس میں انسرجنسی کو مکمل ختم کرنا قابض کا منصوبہ ہوتا ہے جہاں مقامی آبادی بھی قابض کی جبر وزوراکی کاشکار ہوتا ہے اور محکوم قوم کو طاقت اور قوت کے زور پر ختم کرنا قابض کا منصوبہ ہوتا ہے لیکن آجکل کے دور میں کسی بھی قابض ملک کے لیے ممکن نہیں کہ پوری قوم کو طاقت کے زور پر زیر کرسکیں کیونکہ دنیا کا خوف بھی انھیں ہے کہ انکی ظلم وجبر عالمی طاقتوں کی مداخلت کا جواز ہوگا اس لیے اس کو آہستہ آہستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،قابض دھیمااورآہستگی سے نسل کشی شروع کرتا ہے جس طرح آجکل بلوچستان میں قابض پاکستانی ریاست کررہا ہے دوسرا minimalist counterinsurgency policy اس میں کسی بھی خوف اور مجبوری سے قابض مکمل طور پر انسرجنسی کو ختم نہیں کرسکتا ہے تو اسکی کوشش ہوتی ہے کہ انسرجنسی کے مسئلہ کو منیج بھی کریں ،وقتی طور پر انسرجنسی کو کم سے کم تر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور قابض تشدد کے خطرے کو بھی کم کرنے کی کوشش کرتا ہے ،مختصر ا میں قابض انسرجنسی کو کم سے کمتر کرنے کی کوشش کرتاہے ،تصفیہ ،صلہ،مصالحت minimalistپالیسی کے قابل لحاظ اور اہم چالیں،جوڑتوڑاور داؤں پیچ ہوتے ہیں۔ آصف زرداری سے لیکر ڈاکٹر مالک تک نے یہ پالیسی بلوچ قومی انسرجنسی کو کاونٹر کرنے کے لیے آزمایا ۔تیسرا progrssive counterinsurgency policy ہوتا ہے یہ ترقی پسند پالیسی بھی قابض انسرجنسی کو کاونٹر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے تاکہ انسرجنسی کو کمزور کرسکیں ۔اس میں قابض کو آخر میں ادراک ہوتا ہے کہ محکوم قوم کی مدد کے بغیر وہ انسرجنسی کو شکست نہیں دے سکتا ہے اس لیے وہ اس تصور اور خیال کو اپناتا ہے کہ ایک پائیدارآرڈرکو برقرار رکھنے کے لیے اس محکوم اقوام کا اعتبار ،بھروسہ اور اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے وہ اس اسکیم پر پھر کام کرتاہے تاکہ لوگوں کے بھروسہ اور اعتبار کو حاصل کرسکیں ۔اس میں قابض عام لوگوں کو اپنے دلالوں مخبروں اور سفید پوش لوگوں کے ذریعے جہدکاروں سے دورکرکے بلکہ جہدکاروں کو عوام سے الگ کر کے پھر جہدکاروں کو نشانہ بناتا ہے اس میں بعض اوقات قابض کے لوگ بھی جہدکاروں کی شکل میں مختلف پارٹیوں اور تنظیموں میں ہوتے ہوئے قابض کے منصوبے کے تحت لوگوں کو انسرجنسی اور قومی پروگرام سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں،لوگوں کو خود قابض کی طرف جانے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ لوگ انسرجنسی سے مایوس ہوکر قابض کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں ،اس پالیسی کے تحت قابض آزادی کی شفاف اور صاف نیشنلزم کی جدوجہد کو طبقاتی وغیرہ سے بھی مکس کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ انسرجنسی سے لوگوں کومایوس کرکے قابض کا کام آسان کرسکیں ۔اسی میں قابض کوشش کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے promiseامیدکو توڑ دیں امریکن انسرجنسی کے ماہر کا کہنا ہے کہ کسی بھی جدوجہد کو اگر مکمل ختم کرنا ہے تو سب سے پہلے لوگوں کی امید کو اس قومی جدوجہد سے ختم کریں ۔قومی آزادی کے امید سے لوگوں کو ناامید کریں انھیں قومی آزادی کے پروگرام سے مایوس کریں ،یہ تمام قابض کے حربے ہیں وہ بلوچ قومی تحریک کو تدبیراور منصوبہ بندی کے تحت کو کاونٹر کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔فیس بک میں تعمیری اور اصلاہی بحث کے بغیرپوتاری بحث بھی کسی طرح سے عمدہ نہیں ہے بلکہ اس میں غلط الزامات ،گالی گلوچ،اورعیب جوئی کوکسی بھی طرح غلط عمل سمجھا جائے گا چاہئے اسے کوئی بھی کرے یہ لوگوں کی آس اور امید کو بھی ختم کرنے کی کوشش و عمل سمجھا جائے گا ،دلیل سے کسی کے بھی عمل ،قومی تحریک مخالف کردار،اور کارکردگی پر لکھنا صحیح اور بہترین شے سمجھا جائے گا ، کجھور،سیب ،انگور ،انار جیسے بہت سی پھلوں کی پیداوار کی وجہ سے بلوچستان کو پھلوں کی ٹوکری کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پھل بلوچستان کی پیداوار ہیں جبکہ گالی گلوچ ،بے حیائی ہیرا منڈی لاہور اور پنجاب کی علامت اور پیداوار ہے گالی گلوچ کسی بھی طرح کسی حیاداربلوچ کا سمبل نہیں اور نہ ہی گالی بلوچ قومی مصنوعات ہے بلکہ یہ پنجابی اور لاھوری پھل اور پیداوار ہے اگر کسی بلوچ کو لاہوری پھل کھانے اور کھلانے کا شوق ہے تو اس کو اسکی شوق پورا کرنے دیا جائے باقی تعمیری اور اصلاہی بحث کرنے والے دوست اور قومی مشن کو کامیاب کرنے والے دوست پنجابی غلاظت سے خود کو دوررکھیں اورتعمیری اور اصلاحی تنقید کو برداشت کرنے کے لیے اپنا گردہ اور جگر بڑا کریں اورکوشش کریں کہ مخالف کی اصلاہی اور تعمیری تنقید سے اپنی کمزوریوں کو دور کریں اس کے ساتھ ساتھ سب کی کوشش ہونی چاہئے کہ قومی تحریک اصل ٹریک پر آکر دُشمن کے خلاف ہو کیونکہ بلوچ قومی تحریک کے لیے چند سال بہت اہم ہیں اور دُشمن چاہتا ہے کہ وہ ان سالوں میں ہمیں آپس میں دست وگریبان کرتے ہوئے اپنے قبضہ گیرانہ منصوبوں کو مکمل کریں ،حقیقت کی آنکھ سے دیکھاجائے تو یہ چند سال بلوچ کے لیے ابھی یا کھبی نہیں کی طرح ہے ،اگر ہوش،شعور ،دانش،سمجھ ،عقل،سے کام لیا گیاتو یہ چند سال بلوچ قومی آزادی کے سال ہوسکتے ہیں اگر نادانی ،ناسمجھی،بے عقلی اور جذبات سے کام لیا گیا تو یہ سال بلوچ قوم کی اجتماعی قومی بربادی کے بھی سال ہوسکتے ہیں ،اس چیز سے بھی ہم بے خبر نہیں کہ جدوجہد 90سے 200سال تک چلتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچے لیکن بلوچ قوم کا مسئلہ صرف محکومی نہیں بلکہ وجود کو لائق خطرہ سے بھی ہے اگر چین اور پاکستان کے منفی عزائم کو بہتر حکمت عملی سے نہیں روکا گیا تو یہ بلوچ قوم کو انکی اپنی سرزمین میں ریڈانڈین اور ابورجنیز بنائیں گے کیونکہ دونوں کا ارادہ اور عمل بلوچ قومی تباہی اور بربادی کا ہے ۔ان دونوں کے منفی عزائم اور ارادہ کو ناکام بنانے کے لیے وقت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ بقول Leo Tolstoy ’’دوطاقتورجنگجو صبر اور وقت ہیں‘‘ ،اس لیے وقت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گزرا ہوا کل ماضی اور آنے والا کل مستقبل ہے جبکہ آج ایک تحفہ ہے اسی لیے اسے آج کہتے ہیں اور پوری بلوچ قوم کا مستقبل آج کے ہاتھ میں ہے جبکہ بلوچ کا آج بلوچ جہدکاروں لیڈروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جنکا صحیح ،خلوص سے ایماندارانہ فیصلہ بلوچ قوم کو آزاد خوشحال اور ترقی یافتہ بھی بناسکتا ہے اور انکا غلط منافقانہ ، اور خودغرضانہ فیصلہ قومی غلامی ،تباہی اور بربادی کا سبب بھی بن سکتا ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0