قومی اتحاد کے لیئے ایک قدم پیچھے۔ تحریر: گدان بلوچ

اتوار 16 نومبر, 2014

    بلوچ قومی جدوجہد ابتداءسے ہی ایک غیر منظم جنگ رہی ہے جسے کئی انداز میں اور کئی نظریات کے ساتھ لڑا گیا ہے۔بابو نوروز کے خاندان کی بغاوت ہو یا 70 کی سوشلزم کے تڑکے کے ساتھ جنگ،ایک عام بلوچ کبھی اپنا مقصد متعین نہیں کر پایا نہ ہی 2001سے پہلے تک ایسا کوئی پلیٹ فارم تھا جو ہر طبقہ فکر کے بلوچ کو ایک واضح پیغام کے ساتھ جدوجہد میں شامل کر سکے۔
بی ایل اے کی منظر عام پہ آنے یعنی پہلی کارروائی اور بیان کے ساتھ با شعور طبقہ سمجھ گئی کہ اب ہمیں ایک پلیٹ فارم مل گئی ہے جہاں سے بلا تفریق قومی جہد میں ہر بلوچ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور میری نظر میں وہ دور واحد دور تھا جب بلوچوں میں ایک مضبوط قومی اتحاد نظر آئی اور بی ایل اے کے توسط سے پوری قوم ایک ہوئی تھی اور غلامی میں دہائیوں بعد بی ایل اے کے عروج کے ساتھ ایک عام بلوچ بھی سمجھ گیا تھا کہ اس بار ہمارامقصد آزادی ہے نا کہ کوئی پیچیدہ نظامِ معیشت۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ موقع پرستی کا وہ عنصر جو بلوچ کو بد قسمتی سے اجتماعی طور پہ وراثت میں ملی ہے قومی اتحاد کو ایسے پارہ پارہ کر گئی کہ کوئی سنبھل نہیں پایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک قومی فوج مختلف گروہی افواج میں بٹ کے رہ گئی،بی ایل اے کا قائم کردہ قومی اعتماد کا غلط طریقہ سے استعمال ہونے لگا گوریلہ اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئی ،قومی بندوق قوم کے خلاف چلنے لگی ۔موقع پرستی سے جس طرح اپنا اپنا گروہ قائم کیا گیا تھا ویسے ہی اوچھے ہتکھنڈوں سے اپنی اپنی سیاسی گروہ بھی تشکیل دیئے گیئے یا جو قومی تھے اب ان پہ گروہ قابض ہوگئے نتیجہ یہ ہوا کہ پوری جدوجہد ایک دائرہ میں چکر کاٹنے لگی یعنی کہ مسلح تنظیم فوجی مخبر کو مارتا ہے پھر فوج بلوچ عام آدمی کو اور پھر ایک بلوچ تنظیم اس ظلم کی مذمت کرتا ہے۔
یہ سب تو پسِ منظر میں چل رہا تھا، اب تھوڑا عنوان کی طرف چلتے ہیں،قومی اتحاد کے لیئے ایک قدم پیچھے؟ بھلا یہ کیسی بات ہوئی کہ پیچھے مڑ کے اتحاد ہاتھ آنے والا ہے؟ تو پسِ منظر میں آپکوہر بلوچ کب ایک پلیٹ فارم پہ قومی نظریہ کے ساتھ جہد کرتے ہوئے نظر آتا ہے؟ یقیناََ بی ایل اے کی پلیٹ فارم سے جدید قومی جدوجہد ہی وہ واحد دور تھا جب پوری قوم ایک جھٹ ہوکے دشمن کے خلاف برسرِ پیکار تھا اور آج اگر ایک قدم پیچھے ہٹنے کی بات کر رہا ہوں تو یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں واپس ایک قدم پیچھے ہٹ کے بی ایل اے کے پلیٹ فارم پہ جمع ہونا پڑیگا نہ کے کوئی نئی تنظیم تشکیل دینی کی ضرورت ہے جہاں پہ مختلف نظریوں کے حامل افراد کو جمع کرکے ایک کچھڑی بنا کے اتحادی جماعت کا نام دیا جائے۔
اگر ہم مختلف گروہوں میں جانے انجانے میں بٹ بھی گئے ہیں تو ہمیں ان گروہوں کے مختص کئے ہوئے راستے کو ترک کرتے ہوئے واپس اسی جگہ پہ جمع ہونا ہوگا جہاں سے جدید قومی آزادی کے جہدکا چشمہ پھوٹا تھا اور میرے خیال میں واپس اس نقطہ پہ جمع ہوکے سب کو نظر آجائیگا کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایاہے۔
رہی بات گروہوں کی کہ انکا کیا ہوگا؟ تو بتاتا چلوں کہ جو بلوچ قومی جہد میں خدا بن چکے ہیں وہ کبھی اپنی خدائی سے دستبردار نہیں ہونگے بلکہ انکے پیروکاروں کو ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ جدید قومی اتحاد کی شکل کیا ہے اور اسکے لیئے ہمیں کس پلیٹ فارم پہ جمع ہونا ہوگا بہ نسبت ایک اور گروہ کی تشکیل کے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0