قومی تحریکوں میں لیڈرشپ کی ،دوربینی اورظرف نگاہی ،تحریر: میران بلوچ

جمعرات 11 جنوری, 2018

ایک نظم وضبط دماغ خوشحالی اور ترقی کی جانب رہنمائی کرتا ہے جبکہ بغیر نظم وضبط دماغ تباہی اور بربادی کی جانب رہنمائی کرتا ہے ڈسپلن وہ خالص آگ ہے جس کے ذریعے
صلاحیت قابلیت بن جاتی ہے ،ڈسپلن کی کمی انسان کو مایوسی اور خود سے نفرت کی طرف لے جاتی ہے ،ڈسپلن سادہ سے وہ آرٹ ہے جس سے سولجر اپنے دُشمن سے زیادہ اپنے
بالا آفسر سے خوفزدہ ہوتا ہے ،کسی بھی تحریک کی کامیابی کااندازہ اسکی ڈسپلن اور پُرعزم ،پراعتمادیت کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے ڈسپلن کے حوالے امریکی جنگ آزادی کے بانی اور
گوریلا کمانڈر جارج واشنگٹن نے کہا ہے کہ ڈسپلن ایک فوجی تنظیم کی روح ہے ،یہ چھوٹے نمبر کو مضبوط بناکر کمزور کو کامیابی دلاتا ہے اورسب کی عزت اور احتر ام کرواتا ہے ،ہر جہدکار
کو تکلیف اور درد کا چناؤ کرنا ہوگا ،ڈسپلن کا درد اور تکلیف یا کہ افسوس اور پشیمانی کا درد اور تکلیف میں سے ایک کو منتخب کرنا ہوگا اگر وہ ڈسپلن کا چناؤ کرے گا تو اسے پشیمانی کی درد اور تکلیف سے نجات ملے گی
ایک ہوتا ہے قومی تحریک دوسرا ہوتا ہے پارٹیاں اور تنظیمیں ،پارٹیاں اور تنظیمیں تحریک سے ہیں اور تحریک اگر ہوگا تو یہ ہونگی اگر تحریک کو نقصان ہوا تو پارٹیاں اور تنظیمیں کس کام کی ،اگر
سر ہوگا تو ٹوپی ہوگی اگر سر نہیں تو ٹوپی کا کیا فائدہ ،تمام پارٹیاں مشترکہ طور پر تحریک کو جوابدہ ہیں ایک کی غلط اعمال سے تحریک کانقصان ہو تو اسکو روکنا بھی سب کی ذمہ داری ہوتی ہے
۔پارٹیاں تحریک کی وجہ سے ہیں جس طرح روح ہے تو جسم ہے روح کے بغیر جسم بیکار شے ہے اسی طرح قومی تحریک کے بغیر پارٹیاں بھی جسم بغیر روح کی مانند ہیں ،کسی بھی قومی اور آزادی کی جدوجہد میں پارٹیاں مقصد کو حاصل کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں قومی تحریک میں پارٹیوں اور تنظیموں کی حیثیت ایک ذریعہ اوروسیلہ کی ہوتی ہیں ، لیکن بعد میں کچھ عقل
وشعورسے عاری لوگ انھیں مقصد بناتے ہیں جہاں سے پھر تحریک اور پارٹیاں ایک دوسرے کی ضد کی طرح ہوتے ہیں جس طرح روشنی اور تاریکی ،ظاہر ،غائب،مردہ وزندہ
،کامیاب ،ناکام،جھوٹ اور سچ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح مقاصد سے ہٹ کرپارٹیاں بھی تحریک کے برعکس اور بالمقابل ہوتے ہیں جدید کہاوتوں سے اسکوسمجھنا آسان ہوتاہے تم پڑھنے کے لیے اتنے بوڑھے نہیں ہو لیکن تم بوڑھے کو نئی ترکیبیں نہیں سکھا سکتے ہو ،شک دانائی کی ابتدا ہے اختتام نہیں ہے لیکن اعتبار پہاڑ کی طرح ہے ،کپڑے انسان کو بناتے ہیں لیکن کتاب کو اسکی کور سے جج مت کرو اور دوڑ میں سست اور مستحکم جیت سکتا ہے لیکن وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ہے ان کہاوتوں میں ہر کہاوت خود دوسرے کا برعکس ہے اسی طرح تحریک اور پارٹیاں جو قومی مقاصد کو حاصل کرنے کی بجائے خود مقصد بن جائیں وہ تحریک کا تضاد اور مخالف بن جاتے ہیں اگر کچھ پارٹیاں تحریک کے بالمقابل ہیں تو بالمقابل کا انجام دکھ ہے ۔قومی ادارہ اور تنظیم ڈسپلن اور قومی مقاصد سے ہم آہنگ ہوکر چلایا جاتا ہے اس میں ڈسپلن سے سمجھوتہ ساری تنظیم اور تحریک کو دعوی پر لگانا ہوتا ہے کسی بھی
تحریک میں مستقل مزاج لیڈر قومی تحریک اور پارٹی ڈسپلن سے سمجھو تہ نہیں کرتا ہے چاہئے اسے کتنی بھی قیمت کیوں نہ دینا پڑے کیونکہ کسی بھی تحریک کی کامیابی اسکی لیڈرشپ کی
مستقل مزاجی سے وابستہ ہوتا ہے ۔کیونکہ جو لیڈرشپ اپنی مستقل مزاجی سے تحریک کو پہلی ترجیع دیتے ہوئے ڈسپلن کو قائم کرتا ہے وہی لیڈر قومی تحریک کو منزل پر پہنچاتا ہے باقی
پارٹی کو تحریک سمجھنے والے اور ڈسپلن سے سمجھوتہ کرنے والے جدوجہد میں زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں کہ چھوٹی کشتی کو کنارے کے پاس ہی رہنا چاہئے صرف
بڑا جہازہی گہرے پانی میں جانے کی ہمت کرسکتا ہے Gordon Kerاپنی کتاب Leaders Who Changed the World: ..میں کہتا ہے کہ لیخ
والینساپولینڈی سیاست دان ہیں جنکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلا صحیح شخص تھا جس نے صحیح وقت پر صحیح جگہ صحیح فیصلہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو صحیح زندگی دی ۔یہ کمیونسٹ چین سے ا
نہیں آزاد کروانے والے اپنی قوم کا معمار تھا ۔اس کے ڈسپلن اور استقلال سے قوم نے نئی صحیح سمت چن لیا ۔و لادیمیرلینن جو روس میں انقلاب لانے کے لیے جدوجہد کررہا تھا جس نے جلاوطنی میں زیورخ،جینوا،لندن،ویانا میں زندگی بسر کی اور جولیس مارٹوکے ساتھ اسکرا Iskraاخبار نکالا جس کے معنی چنگاری ہے پھر لینن نے کتابچہ ’’کیا کرنا چاہیے‘‘ what is to be done نکالا جس میں وہ تربیت یافتہ اور پیشہ ورانقلابی نظریہ کے پابندی پر زور دیتا ہے کہ پارٹی کے تمام لوگ ڈسپلن کے پابند اور سوشلسٹ نظریہ کے وقف شدہ ہوں Julius Martov ژولیوس مارتوف جو لینن کا دوست تھا لیکن انکی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتا تھا ،اس نے بہت سے میٹنگوں میں انکی پالیسیوں پر تنقید کیا اس کا خیال تھا کہ جتنے پارٹی کے ممبر زیادہ ہونگے اتنا فائدہ ہے سخت اصول اور پیمانہ کے بجائے نرمی اوراکثریت پر زور دیا ،جہاں دونوں کے درمیان معاملات سنگین ہوئے پھر پارٹی کے اندر اس پر بحث کے ساتھ ووٹنگ ہوا جہاں واضح اکثریت ظاہر نہیں ہوالیکن لینن اپنے موقف کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوا اس نے انقلابی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور پارٹی کے اندر گروپ بنائی جسے بالشویک کہا جانے لگا جبکہ دوسری طرف مارتوف کی گروپ کو منشویکMensheviksکہاجانے لگا پھر لینن نظریہ،فکر،ڈسپلن اور اصول کے مسلمہ اصولوں پر چل کر انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے اصول پرست مستحکم لیڈرشپ کے حوالے Queen of Shebaمیں لکھا ہے کہ لیڈر جتنا بڑا اور عظیم ہوگا اتنا ہی مشکلات مصائب اور مخالفت کا انھیں سامناکرنا پڑتا ہے اور تاریخ یہی لیڈر بناتے ہیں جو اصولوں پر مصلحت سے کام نہیں لیتے ہیں اور لیڈر تاریخ کا غلام ہوتا ہے دنیا میں کوئی بھی تبدیلی لیڈرشپ کے بغیر ناممکن ہے ،اس کتاب میں لکھا ہے جو کوئی کہتا ہے کہ فرد تاریخ نہیں بناتے ہیں وہ بڑی غلط فہمی میں ہیں تاریخ فرد کے بغیر نامکمل ہے ان لیڈران کے بغیر دنیا کی تاریخ ادھوری ہے کتاب میں لکھا ہے کہ ہم غور وفکر کریں تو کیا دنیا میں دودہائی اسی طرح ہوتے اگر ماریوکنستون کی گاڑی چرچل کو 1931میں مارتے زنگراز کی گولی روزویلٹ کو1933میں لگ کے مارتے ،اور لینن 1895میں سابیریا میں مرتا ،ہٹلر 1916میں مغربی فرنٹ میں لڑتے ہوئے مارے جاتے تو کیا بیسویں صدی اب اس شکل میں ہوتا ،بیسویں صدی ان افراد کے بغیر نامکمل ہے وہ تاریخ ان افراد کے بغیر نامکمل ہے تو پھر کس نادان کم عقل اور جاہل نے کہا کہ تاریخ بنانے میں فرد کا کردار نہیں ہوتا ہے ،فرد اچھا ہو یا بدتر وہ تبدیلی لاتا ہے اور تبدیلی لانے والا وہی ہے ولیم جیمز کہتا ہے بدتریں بے وقوفی اور بیہودگی یہ ہے کہ لوگ عقلمند اور ایجادات کرنے والے لوگوں کو بھی فراموش کرتے ہوئے کہتے ہیں انسانوں نے یہ کام کیا پھر وہاں فرد کی نفی کرتے ہیں جتنے ایجادات ہوئے ہیں یا انقلابات آئے سب فرد سے شروع ہوکر ختم ہوئے ہیں اس فرد کی سائنسدان کی طرح ایجادات اور لیڈرشپ کی طرح اصول عقلمندی دانائی اور حالات کی سمجھ بوجھ ہی اس تبدیلی کو لانے میں اہم رہا ہے ،سمجھدار ہوشیار اور دانا فرد نے راستہ دکھایا اور اصول واضح کئے اور پھر عام لوگوں نے اس پر اعتبار کرتے ہوئے اس راستہ پر چل کر منزل حاصل کیا جیمز کہتا ہے کہ لیڈرشپ واضح اورصحیح سوچ نظریہ فکر اور عمل میں اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے وہ کہتا ہے کہ مستقبل میں لیڈرشپ صرف اپنی سوچ اور خیال کی وجہ سے مزید بہتری لاسکتا ہے ، جاں مینارڈ کینزکہتا ہے کہ معاشی اور سیاسی دونوں لیڈرشپ کے خیالات اور سوچ جب وہ صحیح ہوں یا غلط ہوں بہت طاقتور ہوتے ہیں اور یہ یا تباہی لاتے ہیں یا صحیح تبدیلی۔ صحیح لیڈر بھی فکری اور سوچ کے حامل مقلد،ساتھی اور پیروکار کے بغیر بیکار ہے فرنچ سیاستدان نے کہا ہے کہ عظیم اور کرشماتی لیڈرشپ ہجوم کی ابتدائی جزبات کو انکے اپنے مقاصد میں تبدیل کرتا ہے ،وہ اپنے دور کے موقع ،امید ،خوف،مایوسی،چیخ،امکان قوت اور صلاحیتوں کو ضبط کرتا ہے،لیڈرشپ افراد اور عوام کے درمیان سرکٹ کو مکمل کرکے تاریخ بناتا ہے ۔یہ تاریخ کو صحیح طور پہ بھی تبدیل کرسکتا ہے اور خراب طور پہ بھی تبدیل کرسکتا ہے ،تاریخ میں تمام بڑی حماقتوں اور بدصورت جرائم جس نے انسانیت کو نقصان دیا انکا بھی زمہ دار لیڈررہے ہیں اورفردی ،مذہبی،انسانی آزادی سے لیکر نسلی برداشت،سماجی انصاف اور انسانی حقوق کااعترام جیسی کارنامہ بھی لیڈرشپ نے سرانجام دیا ہے جس سے دنیا کو فائدہ بھی ہوا ہے ۔پہلے سے نہیں کہا جاسکتا ہے کون صحیح رہنمائی کررہا ہے اور کون خراب مگر لیڈرشپ کی تاریخ قدیم زمانہ سے دیکھاجائے چند چیزیں لیڈرشپ کی پہچان کروانے کے لیے ضروری ہیں پہلا امتحان یہ ہے کہ کیا لیڈرطاقت سے رہنمائی کررہا ہے یا کہ قائل کرنے کی کوشش سے ،زیادہ تر لیڈر اتھارٹی کے الہی حق سے لیڈرشپ چلاتے رہے اور گریٹ لیڈر کی پہچان ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور فالور کو اختیار دیتا ہے اور صلاحیت کو آگے آنے دیتا ہے ،کہتے ہیں کہ جب کسی کے برُے دن آتے ہیں پہلے اسکی عقل جاتی رہتی ہے اور وہ ایسے لوگوں کو لیڈر منتخب کرتے ہیں جو اس قوم کو زوال اور تباہی کی جانب گامزن کرتا ہے ۔کیونکہ سچائی ہمیشہ ابتدا میں سچائی معلوم نہیں ہوتی ہے اگر بلوچ قومی تحریک میں سچائی لوگوں کوشروع میں معلوم ہوتا تو لوگ رازق ،کہورخان،صابر،حئی،مالک،خیرجان،وغیرہ کی باتوں میں آکر قوم کا 50سال ضائع نہیں کرتے بلکہ حقیقی رہنما کی تلاش کرتے لیکن ان لوگوں نے سچائی کو اپنی جھوٹ،دروغ گوئی ،منافقت اورمڈل کلاسی نعرہ سے دھندلاکرتے ہوئے قوم کو 50سالوں تک قابض کاذہنی اور جسمانی دونوں طور پر غلام رکھنے کی کوشش کی ۔ اکیسویں صدی میں حیربیار مری نے بلوچ قومی تحریک کا نئے طریقہ سے بنیاد رکھ کر قومی جدوجہد کو ایک نئی سمت دیا قوم کو غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے کا ہنر سکھایا جس طرح رائٹ برادران،ولبر رائٹ،اورول رائٹ نے ہوائی جہازپر تجربہ کرکے اسے ایجاد کیا ،اس طرح ہوائی جہاز کے ایجاد کرنے والے صرف دو بندے ہیں لیکن اس جہاز کے کپتان تو کروڑوں میں ہونگے ، اسی طرح بلوچ نوجوانوں کو پاکستانی ترانہ اور،پاکستانیت سے نکال کر حیربیار مری موجودہ قومی تحریک کا موجد بن کر اس نے بلوچوں کو بلوچ بنا کر بلوچ قومی تحریک کے راہ پر لاکھڑا کیا جہاں سے وہ جدوجہد کرتے ہوئے دُشمن کے خلاف کام کرہے ہیں کیونکہ حیربیار مری نے تحریک کا بنیاد رکھا اس لیے اسکا مقصد بھی قومی تحریک رہا ہے اس نے پارٹی بازی اور ثانوی چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیا ۔جس طرح رائٹ برادران کا مشن ہوائی جہاز اور آئن اسٹا ئن کا ایٹم بم اورالیگزنڈرگر اہم بیل کا مقصد ٹیلی فون ، یوہانس گوٹن برگ کا جس طرح ہدف پرنٹنگ مشین تھا وہ اپنے مقصدیت پر کام کرتے ہوئے کامیاب ہوگئے اور آج رائٹ برادران ہوائی جہاز ، آئن اسٹائن ایٹم بم ،الگزنڈر گراہم بیل ٹیلے فون اوریوہانس گوٹن برگ پرنٹنگ مشین کا موجد بن گئے ہیں ،بلکل اسی طرح حیربیار مری کا مقصد پارٹی تنظیم سے ہٹ کر قومی تحریک رہا ہے اسکا ہدف مشن کی کامیابی رہا ہے ،اس نے پارٹیوں اور تنظیموں کو مقصد نہیں بلکہ مقصد کو حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھ رکھا ہے اس نے قومی تحریک کو ہر وقت خود کا اور قوم کا مانا ہے ۔قومی تحریک کا موجد اور بانی کی حیثیت سے یہ اسکی ذمہ داری بنتا ہے کہ یہ مشن کی تکمیل بھی کریں کیونکہ اس نے آواز دی تو اس سلوگن کے تحت ہزاروں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور جدوجہد کی وجہ سے کئی زندانوں میں ہیں اور ہزاروں دُشمن کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں اب اس مرحلے کو باقی ماندہ حالت کی طرح نہ ہونے سے بچانا بھی اسکی ذمہ داری ہوتا ہے باقی تمام لیڈرشپ کی نسبت اسکی ذمہ داری زیادہ ہے کہ یہ مشن کو کامیاب کریں جس طرح رائٹ برادران ،الگزنڈر گراہم بیل اور یوہانس گوٹن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے اسی طرح حیربیار مری کو بھی اپنا مقصد حاصل کرنا ہے اس کے لیے پہلی ترجیح قومی تحریک ہونا چاہیے اور دوسرا ڈسپلن کوقائم کرنا تیسرا پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھنا چوتھا بلوچ کے مسئلے کو دنیا کا مسئلہ بناکر حقیقت پسندانہ پالیسی بناکر مقصدیت کو حاصل کرنا ۔اگر شروع سے دیکھا جائے تو حیربیار مری کی سوچ قومی رہا ہے اسکا ہدف مقصد یعنی قومی آزادی رہا ہے اور اس نے زیادہ اسی پر توجہ دیا ہے اسکی تمام پالیسیاں صحیح وقت پر صحیح جگہ صحیح نتائج دیتے رہے اگر اسے سیاسی تجربہ کار ، اور سوچ بچار کرنے والا لیڈر کہا جائے غلط نہیں ہوگا کیونکہ اسکی گہری نظر،دوربینی،حمیق نگاہی اور ظرف نگاہی سے اسکی تمام پالیسیاں صحیح ثابت ہوئے ہیں حالانکہ اگر پانچ سال سے اسکی جتنی بھی پالیسیاں تھی ان پر ان کے مخالفین تنقید کرتے رہے اور وہ تمام تنقیدی تحریریں آج بھی سوشل میڈیا اور اخبارات میں موجود ہیں ان کی جن جن پالیسیوں پر انکے سیاسی مخالفین تنقید کرتے رہے بعد میں ان پالیسیوں کو وہ خود اپناتے بھی گئے سوشلزم اور کمیونزم کے بجائے نیشنلزم کی نظریہ پالیسی،افغان اسکی پالیسی ،باہر ممالک میں سفارتخاری کے حوالے کام کرنے کی انکی پالیسی،امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کی پالیسی،ان تمام پالیسیوں پر اسکے مخالفین تنقید کیا کرتے تھے لیکن آج سب اسکی اسی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہیں اور آج صرف اس کے دوپوائنٹ ایران کی پراکسی اور طاقت اپنے قوم کے خلاف استعمال پر اسکے سیاسی مخالفین راضی نہیں ہیں لیکن کل انھیں یہ بھی پالیسی اپنانا ہوگا ،جبکہ دوسری طرف گھنٹوں میں اپنی پالیسیاں تبدیل کرکے 66کا یوٹرن لینے والے بھی خود کو لیڈر سمجھنے لگے ہیں ،جس طرح کہ گدھا پیٹنے سے گھوڑا نہیں بنتا ہے اسی طرح فیس بک میں سیلفی تصاویر دینے سے کوئی خودساختہ کمانڈر بھی لیڈر نہیں بن سکتا ہے ،ایسے بے اصول ،مورال اور اخلاقیات سے خالی اور 66ڈگری کا یوٹرن لینے والے لوگ آزادی کی تحریک تو کیا شرارتی اور گندے پارلیمانی سیاست میں بھی قابل قبول نہیں سمجھے جاتے ہیں ایسے مورال اتھارٹی ،اخلاقیات سے خالی اور بے اصول لوگ قومی آزادی کی جدوجہد میں لیڈر تو دور کی بات معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں ایسے ہی خودساختہ اور ناتجربہ کار لیڈران کے بارے میں شاعر نے اس طرح کہا کہ
کمال ناز تھا اپنی ظرف نگاہی پر
عجب کہ پڑھ نہ سکے ہم نوشتہ دیوار
اگرحیربیار مری اپنے اصولوں اوراصولی اسٹینڈ سے ہٹ کر پانچ سالوں میں ان پارٹی بازوں کی باتوں میں آکر خاموش ہوتے اور قوم کو انکی پالیسی پر چلنے دیتے تو کیا آج یہ لوگ
سوشلزم اور کمیونزم کی چین اور روس کی بلاک میں ہوکر قومی تحریک کو فائدہ دے چکے ہوتے اگر قوم انکی افغان پالیسی کو اپناتے کہ جہاں وہ افغانستان کو بھی دُشمن مانتے تھے اور اپنی ا
یران کی پالیسی کا دفاع افغان کی مخالفت سے کرتے تھے تو کیا اس پالیسی سے قومی تحریک کا فائدہ ہوتا ،کیا پارٹی کی حدود اور باوُنڈری میں موجود محصورین بھڑک بازوں کی
پالیسی کہ بیرونی ممالک میں جانے اور کام کی مخالفت اورقوم کے سامنے چالیس سال تک اپنی مدد آپ کے تحت جنگ کرنے کی بھڑک باز پالیسی سے تحریک کامیاب ہوچکا ہوتا
،اپنی طاقت اپنی قوم کے خلاف استعمال کرکے مچھلی بغیر پانی کی طرح کیا یہ لوگ زیادہ دیر اپنے وجود کو قائم رکھ سکتے ہیں ۔ اگر حیربیار مری اور انکے دوست خود ساختہ سنئیر کمانڈ ر ا
ور اسکے ہم خیالوں کی پالیسی کو مانتے ہوئے بی ایل ایف ،بی ار اے ،بی این ایم اور بی آر پی کو ختم کرنے کی راہ میں دیوار کھڑی کرنے کی بجائے انکی حمایت کرتے تو کیا آج بلوچ
آپسی خانہ جنگی کا شکار ہوکر تحریک تباہی و بربادی کا شکار نہیں ہوچکا ہوتا ۔اگر حیربیار مری کے دوست انکے گالی گلوچ کو انسانی فطرت مان کر انکے سامنے بند باندھنے کے بجائے اس
عمل کی حوصلہ آفزائی کرتے تو کیا آج قومی آس اور امید ختم نہ ہوچکا ہوتا ،اگر حیربیار مری بھی انکی طرح قومی مقاصد کو فراموش کرکے وسیلہ اور ذریعہ یعنی پارٹی کو مقدم سمجھ کر جوڑتوڑ
کی سازش کرکے باقی آزادی پسند پارٹیوں کو تقسیم کرکے اپنی پارٹی کو عددی اور تعداد کے حوالے سے زیادہ کرنے کی کوشش کرتے تو کیا آج قومی تحریک اس کمزور حالت میں
بھی ہوسکتا تھا ۔پارٹی اور قومی تحریک میں سے ایک کو بچانے کے لیے ہربار حیربیار مری نے تحریک کو بچایا اور حیربیار مری نے قومی تحریک میں قوم ،قومی مفادات ۔مقصد ، اصول
،ڈسپلن ،اخلاقیات اور اخلاقی اقدار کو ہمیشہ پارٹی ،خاندان، خونی رشتہ، ہجوم ،تعداد کی برتری ،گٹھ جوڑی سیاست اور ذاتی تعلق داری اور سنگتی پر فوقیت دیا ،اس نے سیاسی ا
قدار کو اپنے ذاتی اختیار اور استحقاق پر ہمیشہ ترجیح دی ہے جبکہ باقیوں نے قومی تحریک کو اپنی پارٹیوں کی خاطر استعمال کیا ان لوگوں نے وسیلہ کی خاطر مقصد کو قربان کیااور ان لوگوں
نے سیاسی اخلاقیات ،سیاسی اقدار ،ڈسپلن اور اصول کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیا بلکہ اپنے اختیارات ،چھوٹی ذمہ داریوں اور پارٹیوں کو اخلاقیات سے زیادہ فوقیت دی اس لیے کہتے
ہیں کہ جو لوگ قومی جدوجہد میں اصول ،سیاسی اخلاقیات ،سیاسی اقدار،اور ڈسپلن پر ذاتی اختیارات ،مفادات،اور گروہ کو ترجیح دے تو وہ آخر میں دونوں سے محروم ہوتا ہے کیونکہ
بقول روزویلٹ قوانین نہیں بلکہ سیاسی اصول مقدس ہوتے ہیں قومی جدوجہد اکثریت و اقلیت ،عددی برتری اور کمتری ،مسلم لیگ ،پیپلز پارٹی ،نیشنل پارٹی ،بی این پی جڑوان کی
طرح جوڑتوڑی سیاست سے نہیں بلکہ تحریک جدوجہد کی مقبولیت ،عوامی حمایت ، اخلاقی برتری ،اصول پرستی ،سیاسی اقدار ،واضح اور جامع پالیسی اور بین لاقوامی مکمل حمایت
سے جیتا جاتا ہے ۔جہاں ڈسپلن ،اصول ،اخلاقیات اور تحریک کے بدلے پارٹی بازی ،بے اصولی،اور ڈسپلن کی عدم موجودگی ہوگی تووہاں نتیجہ ایسا ہی ہوگا جسکا پس منظر بلوچ قومی
تحریک آج پیش کررہا ہے مکران جہاں زیادہ تر لوگ اس وقت قومی تحریک کے حمایتی تھے جب ان تنظیموں کے ممبران کی تعداد 200کے قریب بھی نہ تھی تو اس
وقت پورے مکران میں عوام کا تقریباََ 40فیصد آزادی کے حمایتی تھے اور پاکستانی سیاست کواس وقت وہاں زیادہ تر گالی سمجھا جاتا تھا اب وہ آزادی پسند خود دعوی کررہے
ہیں کہ انکے سرمچاروں کی تعداد بڈھ کر 6000سے 10000تک پہنچ چکا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ وہ عوامی حمایت 40فیصد سے کم ہوکر بمشکل 8سے 10فیصد تک پہنچا ہے ،اگر
جدوجہد میں کامیابی کا معیار تعداد کی برتری ہے تو اس وقت جب سرمچاروں کی تعداد پہلے کی نسبت ایک ہزار گناہ زیادہ ہوا ہے تو اس وقت تحریک کی عوامی حمایت8سے 10فیصد
کے بجائے 90فیصد ہوکر پوائنٹنگ نقطہ پر ہونا چاہئے تھا تو کیا وجہ ہے کہ لوگ تحریک سے دور ہوتے جارے ہیں اور تحریک کا نقصان ہوتا جارہا ہے ،یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر قومی آزادی کی تحریک کو پاکستانی اور تیسری دنیا کی پارلیمانی سیاست کے فارمولے کے تحت چلایا جائے گا تو نتائج اسی طرح سے بدتر، اورتباہ کن ہونگے ۔اخلاقیات ،ڈسپلن ،اصول،اور مورال اتھارٹی کے بجائے تعداد کی برتری ،انتشار،ڈسپلن ،اصول اور مورال اتھارٹی اور اخلاقی اقدار کی عدم موجودگی تحریک کی مقبولیت کے بجائے ناپسندی کا منظر پیش کرے گا جبکہ سرمچاروں کی کنٹرول سے باہری اور پارلیمانی جوڑتوڑی سیاست کے فارمولے کی عمل داری سے بہتر اور صحیح نتائج کا توقع اور امیدکرنا حماقت ہوگی ، مسلح تنظیموں کی ڈسپلن کی عدم موجودگی کی وجہ سے سرمچار بے لگام ہوکر انفرادی حوالے سے اپنی طاقت اپنے ہی قوم پر استعمال کرکے تحریک کو ناقابل برداشت نقصان پہنچا رہے ہیں ،جب کوئی بلوچ انکی غلطیوں پر سوال اٹھاتا ہے تو وہ قابل گردن زدنی ٹھہرتا ہے بقول شاعر
ورودشعر پہ حد ادب کے پہرے ہیں
جو سچ کہوگے تو ٹھروگے ایک دن غدار
کیا آج ہم سب کو ملکر اس گھمبیر اور نازک حالات میں قومی تحریک کو بچانا ہے یا کہ میکاولی اور کوتلیہ چانکیہ کی گٹھ جوڑی سیاست سے ایک دوسرے کو کمزور کرکے تحریک کو نقصان
دینا ہے ،کیا آج ہمیں پارٹیوں میں تعداد کی برتری کی خاطر دوسری تنظیموں کو توڑ کر قومی تحریک کو نقصان دینا ہے یا کہ قومی تحریک کو گھمبیر اور غیریقینی صورتحال سے نکالنا ہے
آج بلوچ قوم کو قدرت نے وہ سنہرا موقع دیا ہے جہاں بلوچ سیاسی بصیرت ،پیش بینی ،اور صحیح پالیسی اور حکمت عملی سے اپنی ریاست کی تشکیل کو ممکن بناسکتا ہے کیونکہ آج کے یہ
حالات بلوچ قومی تحریک ، قوم اور جہدکاروں کے لیے ابھی یا کھبی نہیں والی صورت حال جیسی ہے اگر اس موقع پر تحریک کی بجائے پارٹی بازی ،جوڑتوڑی سیاست ،قوم اور لوگوں
کو خود سے الگ کرنے اور فیس بک میں پہلے کی طرح تعمیری اور اصلاحی بحث سے ہٹ کر پوتاری بحث سے ناجائز اور غلط الزام تراشی ،گالی گلوچ، کرکے قوم اور لوگوں کی آس اور ا
مید کو توڑ ا گیا پھر ہمیں اپنی ناکامی نااہلی ،کمزوری ،اور کم فہمی کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو ٹھرانا چاہئے اگر ہم سنجیدہ ہوتے اور غلامی میں جھکڑے اور ریاستی مظالم کے شکار بلوچ قوم کے ساتھ میکاولی اور کوتلیہ چانکیہ کی دھوکہ دہی ،جوڑ توڑی سیاست نہ کرتے تو ایک اتحادی پراسس ایک بہترین جگہ تھا کہ جہاں ہم ایک دوسرے کو اپنی رائے ،سوچ،خیال طریقہ کار ،اختلافی نقطہ سے قائل کرتے یا قائل ہوتے لیکن وہ اتحادی پراسس بندش کا شکار ہوا اب ،جبکہ دوسرا راستہ جو بچا ہے وہ یہ کہ ہمیں صحیح اور مہذہب طریقہ سے اپنی رائے ،نقطہ نظر ،سوچ خیال اور خاکہ کو قوم اور اپنے سیاسی مخالفین کے سامنے رکھتے ہوئے ایک نتیجہ تک پہنچنا ہے ۔تنقید کا پہلا اور آخری اصول دلائل،ثبوت،اور تخریب کے بجائے تعمیر کی سوچ سے پیچیدہ کو واضح کرنا ہے ،اورغلطیوں کی دلیل اور ثبوتوں کی بنیاد پر نشاندھی کرتے ہوئے جدوجہد کی صحیح سمت کا تعین کرنا ہے تاکہ جدوجہد اپنی اصل ٹارگٹ اور مقاصد سے ہٹ نہ جائے ۔کیونکہ پارٹیاں اور تنظیمیں جو غلطی اوربلینڈرکریں وہ پارٹیوں کے اندر کی ہوں تو اسکا نقصان اس پارٹیوں اور تنظیموں کو ہوتا ہے اور اگر یہ پارٹیاں قومی تحریک کا حصہ ہیں اور تحریک کے اسٹیک ہولڈرہیں اور تحریک کے نام پر غلطیاں اور بلینڈر کریں تو نقصان مجموعی طور پر تحریک اور قوم کے ساتھ سب کا ہوتا ہے پھر یہ نقصان انفرادی یا گروہی نہیں بلکہ قومی ہوتا ہے اور اسکا تدارک بھی پھر سب کو یکساں طریقہ سے کرنا ہوگا ۔قومی تحریک میں سب ایک کشتی پر سوار ہیں اور اگرکشتی کو کوئی پیاس کی شدت یا کوئی اپنی نادانی سے سوراخ کرنے کی کوشش کریں تو کیا باقی لوگ خاموش ہوکر کشتی کو ڈبونے دیں گے ۔اگر ایک کشی جہاں چند لوگوں کی زندگی کا سوال ہے اسے باقی ماندہ لوگ کسی نادان اور پیاسے آدمی کو ڈبونے نہیں دیں گے تو قومی تحریک جس سے بلوچ قومی نسل ،بقا،وجود ،تاریخ،ثقافت،ہیروز،سرزمین بندھی ہوئی ہے اسکو کس طرح کسی لالچی،پاگل،لیڈری کے شوقین ناتجربہ کار ،نابالغ،جنگی منافع خور،بے ترتیب تنظیم وپارٹی،اور افراد کے رحم وکرم پر چھوڑکر تحریکی کشتی کو ڈبونے دیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0