قومی تحر یکوں میں موجود سروگیٹ اور کرایہ کا سپاہی،تحریر:میران بلوچ


پراکسی ،سروگیٹ اوربھاڑے کا سپاہی کسی دوسری ریاست اور گروپ کے لیے کام کرتا ہے اسکا مقصد
دوسرے کی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے سروگیٹ کے معنی ہے کہ وہ عورت جو کسی دوسرے عورت ومرد کی
خاطر اپنے رحم میں بچہ پالتی ہے ،جسے متبادل ماں کہا جاتا ہے ،اب سروگیٹ بھی کسی دوسری ریاست اور
مافیا کی خاطر استعمال ہوتا ہے ،اپنے قومی مفادات کے بجائے دوسروں کی مفادات کی خاطر کام کرتا ہے Making Sense of Proxy Wars: States, Surrogates & the
Use of Forceکتاب میں لکھا ہے کہ خود مختار مسلح جنگجو کسی ریاست کا ایجنٹ ہواسے پراکسی ،سروگیٹ اور بھاڑے کا سپاہی کہا جاتا ہے ۔غیر ریاستی کنٹرول گروپ سادہ زبان میں ایجنٹ ہوتے ہیں جو دوسروں کی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ خود مختار گروپ ہوتے ہیں جو اپنے نظریہ ،فکر ،سوچ،خیال اور قومی مفادات کے لیے کام کرتے ہیں جنکو آزادی پسند ،مجاہد،اور قومی ہیرو کہا جاتا ہے جبکہ کچھ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نظریہ ،سوچ،فکر کی آڑ لیکر دوسری طاقتوں کی مفادات کے لیے کام کرتے ہیں انہیں پراکسی ،سروگیٹ اور بھاڑے کا سپاہی کہا جاتا ہے ،بھاڑے کا سپاہی ہر حکم مانتا ہے اورپیسے کی خاطر ہر کام کرتا ہے جبکہ آزادی پسند بھی اپنی قومی جدوجہد کی خاطر سپورٹ مانگتا ہے مگر وہ دوسری ریاستوں کا ہر کام نہیں کرتا ہے یہ دوسرے ریاستوں کو اپنے مفادات کی خاطر استعمال کرتا ہے مگر دوسرے ریاستوں کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے یہ اپنی قومی ،جدوجہد،اور پروگرام کوکسی اور ریاست کی خاطر قربان نہیں کرتا ہے ۔یہ دوسرے ریاست کے مفادات کی خاطر کام کرنے میں ہچکچاتا ہے ۔نقلی جعلی اور مصنوعی آزادی پسند دوسروں کی مفادات کے لیے کام کرنے میں کوئی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں انکا مقصد دوسروں کی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے لیکن یہ اپنے لوگوں کو
دھوکہ اور فریب میں رکھنے کے لیے حربہ استعمال کرتے ہیں اپنی پراکسی بھاڑے کے سپاہی کا کوئی نہ کوئی
بہانہ تلاش کرکے اپنے ممبران اور قوم کو دھوکہ دیتے ہیں اس لیے انھیں pseudo independence organization
کہا جاتا ہے انہیں دوسری ریاستیں کنٹرول کرکے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں یہ وہ ماں
ہوتے ہیں جو دوسری ریاستوں کے بچے کواپنی رحم میں پالتے ہیں ،یہ دوسرے ریاستوں کے مستند اور حقیقی کارگزار اور ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں ۔جبکہ حقیقی آزادی پسند جب اپنی قومی آزادی کی خاطر
دوسری ریاست سے مدد وکمک لیتا ہے تو وہ اس ریاست کے بچے کو اپنی رحم میں پالنے سے انکار کرتا ہے اور وہ ریاستوں کی طرح اپنی اقتدار اعلی اور قومی خود مختاری کا تحفظ کرتا ہے ۔جب سرد جنگ میں روس کے KGBنے تمام دنیا میں اپنے پراکسی بناکر انکے زریعے اپنی ملکی مفادات کا تحفظ کرتا رہا ۔وہ مشرقی یورپ،مڈل ایسٹ ،لاطینی امریکہ میں اپنے کلائنٹ حکومتوں کے توسط سے اپنے مخالفین کو مارتا تھا 1980میں KGBنے ایران ،بلغاریہ اور ترکی کے مافیا کے ذریعے پوپ جان پال دوئم کو مارنے کی کوشش کی یہاں اس نے مافیا کا استعمال کیا پھر امریکہ نے بھی کیوبا ،افغانستان سمیت دنیا بھر میں کمیونسٹ مخالفین کو مدد دی اور انکواپنے مفادات کی خاطر استعمال بھی کیا یہ سب ایجنٹ تھے یہ استعمال ہوئے لیکن دوسری طرف آزادی کی خاطر جو جدوجہد کررہا ہوتا ہے وہ بھی بیرونی مدد وکمک سے جدوجہد چلا رہے ہوتے ہیں ان میں سے ایک جعلی اور مصنوعی جبکہ دوسراحقیقی ہوتا ہے ، دونوں میں فرق ہے حقیقی اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے جبکہ جعلی دوسرے ریاستوں کی مفادات کے لیے استعمال ہوتا ہے PLOجیسے 1964میں بنایا گیا تھا جوایک چھتری تنظیم ہے ،جس میں اسلامک ،سیکولر اور کمیونسٹ سب فلسطینی آزادی پسند شامل تھے اور انکو روس مدددے رہا تھا اور یہ روس کی حمایت سے جدوجہد کررہے تھے جب روس نے مکمل انہیں پراکسی بنانے کی کوشش کی تو یاسر عرفات نے اس عمل کی کھل کرمخالفت کی اور مکمل روس کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ کوشش کی کہ تمام باقی دنیا سے بھی اپنے تعلقات استوار کریں ۔روس کو یاسر عرفات کی فتح گروپ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوا جبکہ باقیوں کو قابو میں کرنا انکے لیے آسان ہوا ،یاسر عرفات پراکسی کے بجائے اپنی قومی خود مختاری کا تحفظ کرتا رہا جبکہ اسکے سخت اسٹینڈ کی وجہ سے اسکی پارٹی کوتوڑا گیا اسکو دباؤ میں لانے کی کوشش ہوئی لیکن اس نے کہا کہ وہ روس پر صرف انحصار کرنے کی بجائے باقی دنیا سے اپنی خودمختاری کے تحت مدد وکمک لیتا رہے گا وہ روس کی پراکسی نہیں بنے گا ۔پھر روس فلسطین میں دو ٹریک حکمت عملی پر گامزن ہوا ایک طرف سخت گیر گروپ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اور پراکسی گروپ سے کرایہ کی سپاہی کی طرح کام لیتا رہا PFLPکھل کر روس کی مخالفت کرتا رہا تو ردعمل میں روس کے KGBنے اس گروپ کے ملٹری کمانڈر ودی عداد کو پارٹی کے اندر خفیہ طور پراپنا ایجنٹ بنایا اور اسی کے ذریعے وہ اپنا ایجنڈہ آگے لے جاتے رہے ،رودی عداد کے ذریعے اپنے مخالفین کو نقصان بھی دیتے رہے ۔ایران بھی شیعہ اور حزب اللہ کو مالی کمک دیکر اپنا پراکسی بناچکا ہے اسی طرح یمن کے حوثی باغی بھی ایران کے پراکسی کے طور پر کام کررہے ہیں ۔اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ پراکسی ایران نے بنائے ہیں یہ اپنے ریاستی ایجنڈے کو اپنے پراکسی کے ذریعے پورا کررہا ہے ۔کردش مذہبی گروپ انصاالاسلام کو صدام مدد دیتا رہا اور انکو اپنا پراکسی بناتا رہا تاکہ یہ سیکولر کردوں کو کاؤنٹر کرسکیں۔پاکستان نے تو بہت سے پراکسی بنائے ہوئے ہیں جنکو پاکستان اپنی قومی مفادات کی خاطر استعمال کرتا آرہا ہے جس میں گلبدین حکمت یار،عبدالرسول سیاف،جلال الدین حقانی،فضل الرحمان خلیل ،مولانا مسعود اظہر ،ان کو افغانستان اور انڈیا کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اور وہ سب پاکستانی پراکسی ہیں ،پراکسی کے بارے میں Andrew Mumfordاپنی کتابProxy Warfare میں لکھتا ہے کہ کسی تیسری پارٹی کا تصادم میں بالواسطہ مصروفیت اور اپنے مفادات کا ان کے ذریعے حاصل کرنا پراکسی کہا جاتا ہے ،تصادم زدہ لوگ اپنے مفادات کی بجائے تیسری پارٹی کی مفادات کے لیے استعمال ہوں اسے پراکسی کہا جاتا ہے ۔جس طرح تیس سال کی جنگ جو 1618سے لیکر 1648 تک جاری رہا جس میں پروٹیسٹنٹ فرانس اور کیتولک اسپین نے اپنے شریک مذہب کو پراکسی کے طور پرجنگ میں شامل کیا ۔کیونکہ پراکسی کا مطلب ہی تیسری پارٹی کے مقاصد ومفادات کا پورا کرنا ہے ۔جو لوگ پہلے سے اپنے مقاصد اور قومی مفادات کے لیے جنگ میں ہوں اور تیسری پارٹی آکر انہیں اس مقصد اور مفادات سے ہٹا کر اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر استعمال کریں انہیں پراکسی کہا جاتا ہے ،یہاں پر برابری اور قومی مفادات کے تحت معاہدے نہیں ہوتے ہیں بلکہ محسن اور انکے پراکسی کا رشتہ ہوتا ہے محسن کا حکم ہوتا ہے اور پراکسی پیسہ کی خاطر حکم کو مان کر کام کرتا ہے ۔جب بھی کوئی موومنٹ چلا رہا ہوتا ہے اسکا مقصد اپنے موومنٹ کو کامیاب کروانا ہوتا ہے ،مشن کی تکمیل ہی کسی جہدکار کا مقصد اور ہدف ہوتا ہے اس مقصد کی خاطر خطے میں اسے دوست ڈھونڈنے ہوتے ہیں تاکہ جن کی مدد سے وہ اپنے مقاصد اور اہداف کی تکمیل کرسکیں جہاں جس قابض سے وہ جنگ لڑرہا ہے اسکے مخالفین سے اسکا تعاون برابری اور خودمختار حثییت سے ہوتا ہے اگر وہ اپنا سارا لگام تیسری پارٹی کے ہاتھ میں دیکر کرایہ کا سپاہی بن جائے تو تیسری پارٹی کے مفادات پورا ہونے کے ساتھ وہ انکو مزاکراتی چیف کے طور پر استعمال کرکے چھوڑ دیتاہے مشرقی ایشیاء نے دس بڑی طاقتوں کی آپسی جنگ دیکھی اور کس طرح جنگ لڑتے ہوئے انھوں نے پراکسی بناکر انھیں استعمال کیا اور باقی حقیقی آزادی پسندوں نے ان کے جنگ سے کس طرح اپنی خود مختاری کا سمجھوتہ کئے بغیر ااپنی آزادی حاصل کر لی ۔روس اور جاپان نے چار جنگیں آپس میں لڑی اور پراکسی کا سلسلہ بھی چلتا رہا ،1929میں روس اور چین آپس میں لڑے ،1950سے 1953چین اوراامریکہ کوریاکے مسئلہ پر جنگ کرتے رہے 1941سے لیکر 1945تک جاپان اور اامریکہ ایک دوسرے سے جنگ کرتے رہے اسکے بعد سرد جنگ ہوا ،اسی دوران خطے کی خودمختار آزادی پسندموومنٹ اپنی خودمختاری کو جاری رکھتے ہوئے مدد اور کمک لینے کے بعد آزاد ہوئے جس میں ویتنام سرفہرست ہے جبکہ باقی سارے ممالک کی مفادات کی خاطر استعمال ہوتے گئے ۔کیونکہ ویت نام کو دو عظیم لیڈر ملے جو اپنے قومی مفادات کا تحفظ جانتے تھے ہوچی منہ اور جنرل جیاپ ،ہوچی منہ جنھوں نے کمیونسٹوں سے مدد لیکر بھی کہا کہ یہ کمیونزم نہیں بلکہ وطن دوستی تھا کہ جس نے مجھے متاثر کیا ۔اسکی سنجیدگی اور پختگی کا اندازہ اسکے بیانات اور الفاظ کے چناؤ سے لگایا جاسکتا ہے اس کی قوم پر جب ظلم جبر زیادہ ہوا تو اس نے قابض کو کہا کہ ہماری دس آدمی کے بدلے ہم آپ کا ایک بھی مارے لیکن آخر میں شکست تمھاری ہوگی ۔یہ کسی اور
ملک کے کرایہ کے سپاہی اور پراکسی کے بغیر بھی تیسرے فریق سے برابری کی بنیاد پر مدد لیکر بھی انکے
مفادات پر کام کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کی خاطر کام کرتے رہے اس لیے اس نے تاریخ
بناکر اپنے قوم کو اغیار کی غلامی سے نجات دلایا ایسے لیڈر ریاست اور قوم کے درمیان تعلقات کے دوران اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں کسی اور کے بچے کو اپنے رحم میں نہیں پالتے ہیں جس طرح کمیونسٹ
ممالک سے مدداور کمک لیکر بھی ہوچی منہ نے کمیونسٹ بچے کو اپنی رحم میں نہیں پالا بلکہ ویتنامی نیشنلزم کے
بچے کو اپنی رحم میں پال کر انھیں آزاد دنیا میں آزاد پیدا کیا اور اپنی قوم کو آزاد اقوام کی صف میں شامل کیا
بلوچ موومنٹ چونکہ حیربیار مری نے شروع کیا اس نے خطے میں دوست ڈھونڈتے ہوئے 17سالوں
تک اپنی خودمختار حیثیت سے ایک آزاد ملک اور خودمختار قوم کی طرح تعلقات بنائے ۔وہ آج تک کسی کا
پراکسی نہیں بنا ،یہ ہوچی منہ ،اور باقی خود مختار لیڈران کی طرح اپنے قومی مفادات کو کسی تیسری پارٹی کی
خاطر قربان کرنے پر تیار نہیں ہوا ،حیربیار مری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان کے جنگل کا وہ
آزاد شیر ہے جسکو کوئی بھی تیسری پارٹی یا قابض پاکستان آسانی سے قابو میں کرکے سرکس کا شیر نہیں
بناسکتا ہے ۔یہ خود بولڈاور دلیر ہے اس لیے دلیری سے قومی فیصلہ کرتا ہے ۔اس نے قومی مفادات کے
تحت جس طرح باقی لوگوں کو سپورٹ کرکے لیڈر بنایا اسی طرح سب کو دنیا سے بھی متعارف کروایا تاکہ وہ
بلوچ قومی تحریک کی خاطر کام کرسکیں ۔اس کے دوستوں کے مطابق آج تک اس نے دنیا کے لیڈران
اور ممالک کے ساتھ رابطے اور ملاقات کی اس نے کھبی بھی بلوچ اقتدار اعلی اور خودمختاری کا سمجھوتہ نہیں
کیا ۔اس نے اپنی سخت اسٹینڈ کی وجہ سے بلوچ قوم کا سر فخر سے بلند کیا ۔حیربیار مری اور خیر بخش مری
سفارتکاری کے میدان میں کھبی بھی کسی تیسری پارٹی کے سامنے کم تر پیش ہی نہیں ہوئے ،خیر بخش مری
نے افغانستان میں افغانوں روسیوں کے سامنے بلوچ کی سالمیت اور فخر پر آنچ آنے نہیں دیا لیکن اسی
تیسری پارٹی کے مفادات کے لیے ہزار خان کرایہ کے سپاہی کے ساتھ ساتھ انکے سامنے ماتھا رگڑنے
پر بھی تیار ہوا ۔ آج بھی تیسری پارٹیوں کے سامنے حیربیار مری برابری سے پیش آکر بلوچ سالمیت اور فخر کو
برقرار رکھ چکے ہیں تو دوسری طرف ہزار خان کے بقایاجات او ر اسی بلوچ قوم کے دوسرے جعلی ،مصنوعی
اور pseudo آزادی پسند لیڈران اور تنظیموں نے بلوچ کا کیس دنیا کے سامنے بہت کمزور کیا ہوا ہے
انکے بیانات اور چاپلوسانہ انداز سے ظاہر ہے کہ وہ کس حد تک اپنی قومی خودمختاری کا سمجوتہ کرچکے ہیں
۔انکی چاپلوسی ،سجدہ ریزی ، کمتری اور احساس کمتری کی جھلک لوگ مودی کے بیان کے وقت دیکھ چکے
ہیں کس طرح ان لوگوں نے خود کے ساتھ ساتھ پوری بلوچ قوم کو سبک کیا ہوا تھا ،کچھ لوگ ہندوستانی
میڈیا میں اس حد تک چاپلوسی کرتے گئے کہ انھوں نے بلوچستان کو ہندوستان کا حصہ ہی قرار دیا لیکن قوم
نے دیکھا کہ حیربیار مری نے کس طرح اپنے موقف کوپیش کیا اور قوم کی سربلندی ،عزت،اور فخر کو اُونچا کیااگر باقی لوگ میڈیا میں تیسری پارٹی کے سامنے اس طرح خود کے ساتھ ساتھ قوم کی تذلیل کرسکتے ہیں تو تصور کریں کہ وہ ایک دوسرے کی ملاقات میں کس طرح کی چاپلوسانہ کردار ادا کررہے ہونگے ان جعلی اور مصنوعی کرداروں میں سے کچھ ان کتوں کی طرح ہیں جو تیسری پارٹی کومحسن سمجھ کر انکے سامنے دم ہلاتے ہیں اور اپنے ہی بلوچوں پر بھونکتے ہیں اور یہ لوگ آزادی پسند کا تمغہ لگاکر تیسری پارٹی اور اپنے محسن کی خاطر اپنے ہی لوگوں کو مارتے ہیں ۔اور یہ جعلی اور مصنوعی آزادی پسند ایران ،اور باقی ممالک کے بچے کو اپنے رحم میں پال کر انکے بھاڑے کا سپاہی اورسروگیٹ بن چکے ہیں ۔ان میں سے سبوتاژی گروپ تو مکمل ٹھیکدار بن چکا ہے جو بھاڑے پر ملاؤں سمیت کسی کے لیے بھی کام کرنے پر تیار ہیں تمام آزادی پسند جہدکاروں کو یہ لوگ بھاڑے کا سپاہی بنا کر انکی خلوص ،ایمانداری اور مخلصی کا
استحصال کررہے ہیں وہ جہدکار جو اپنی خلوص ،نیک نیتی اور قومی جذبہ سے سرشار ہوکر قوم اور
تحریک کامقصد لیکر جدوجہد میں شامل ہوئے تاکہ قومی جدوجہد کو منزل تک لے جاسکیں لیکن یہ لوگ
انھیں بھاڑے کا سپاہی بناکر تیسری پارٹی اور اپنے محسن کی مفادات کی خاطر استعمال کررہے ہیں
۔ان لوگوں نے قومی جدوجہد کو بچوں کا کھیل سمجھا ہے جس طرح بچے کھیل کود میں کھلونوں کو توڑ کر پھر سے
جوڑ لیتے ہیں یہ لوگ قومی جدوجہد کے ساتھ بھی اسی طرح کی بچگانہ حرکتیں کررہے ہیں لیکن انھیں معلوم
ہونا چاہیے کہ قومی تحریک اور بچوں کے کھیل کود میں فرق ہے یہاں ایک غلط عمل اور پالیسی سے قومی
جدوجہد اپنی ساکھ کھوسکتا ہے اور جو جدوجہد ایک بار اندرون ملک اور بیرون ملک اپنی ساکھ کھو دے پھر
اسکو بحال کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔آج کے دور میں ہمارے خطے میں ابھی کھلاڑی تین ہیں اور ان میں
سے ہر ایک کا مفادات دوسرے سے الگ ہے اور وہ کوشش کررہے ہیں کہ کچھ ناسمجھ اور لالچی لوگوں کو
بھاڑے کا سپاہی بنائیں انکے ہاتھ کچھ نومولود سیلفی سرمچار آگئے جبکہ ان نومولود اور نوزائیدہ بھڑک باز
سیلفی سرمچاروں میں سے سبوتاژی گروپ ملاؤں کے بچے کو اپنی رحم میں پال کر انکے سیلفی کمانڈر پھر
پراکسی کے مسئلے پر پاکستانی سیاست دانوں کی طرح کس طرح کا خوبصورت جواز دیتا ہے کہ جی ہمسایہ
ممالک کو بدنام کرنے کی کوشش ہے جس طرح پاکستان میں انکے سیاست دانوں کی غلط کرتوتوں پر جب
سوال اٹھایا جاتا ہے تو وہ اسکو ہندوستان سے جوڑ کرالزامات سے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں ،کیا
بلوچ قومی تحریک میں اس سبوتاژی گروپ کو کس نے یہ اجازت دی کہ بلوچ تحریک کو بدنام کرنے کے
لیے جاکر ملاؤں کا مڈل مین بن جائیں اور قومی تحریک کو دنیا اور ملک میں بدنام کریں اور وہ ملا پنجاب
میں لوگوں کو مروانے کے بجائے بلوچ وکیلوں ،تعلیم یافتہ لوگوں کو ماریں اور ان مذہبی لوگوں کی مڈل مینی
پھر سبوتاژی گروپ کریں ۔ جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ آزادی کا مقدس بیرک لیکر ایرانی بچے کو اپنی
رحم میں پال کر بلوچوں کے خلاف استعمال ہوں ۔ درحقیقت اپنے وقتی مفادات کی خاطر شیعہ سنی تضاد میں بھاڑے کا سپاہی بن کر یہ لوگ اپنے بھائیوں اور عام لوگوں کو انکے مفادات کے لیے مار کر قومی جدوجہد کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں اور یہ لوگ دنیا کے باقی پراکسی ، بھاڑے کے سپاہی اور سروگیٹ سے بھی بدترین عمل کررہے ہیں کہ تیسری پارٹی کے مفادات کے لیے اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں انھیں گرفتار کرکے تیسری پارٹی کے حوالے کررہے ہیں یا اپنے ہی تعلیم یافتہ لوگوں کو ماررہے ہیں ایک طرف پانچ سال سے ایک آزادی پسند تنظیم مکران میں مسجدوں میں بے گناہ لوگوں کو مار کر انھیں داعش اور ،مذہبی انتہا پسندی کا لیبل لگارہا تھا کتنے لوگوں کو اسی طرح مار کر زگری نمازی مسئلہ بھی پیدا کرنے کی کوشش کی پھر اچانک وہی مذہبی گروپ راتوں رات انکا دوستانہ اتحادی کیسے بنا ۔کچھ دوستوں نے پہلے بھی انھیں کہا کہ یہاں پر کوئی داعش وغیرہ نہیں ہے لیکن یہ لوگ دنیا کو بے وقوف بنانے کی خاطر بے چارے بلوچ ملاؤں کو پاکستانی گھٹیا طرز سیاست کی طرح مار کر داعش کا رٹا لگارہے تھے مکران میں داعش کے چاکنگ کروائے کہ وہ دنیا کو پاکستان کی طرح بے وقوف بنا لیں کہ داعش یہاں موجود ہے اس سارے ڈرامہ میں بس وہ ملا جو نیشنلزم کے حوالے جھکاؤ رکھتے تھے انھیں مارکے داعش کا لیبل لگاتے رہے کیا کوئی بھی قومی تحریک اس طرح کی بچگانہ حرکتوں کا متمل ہوسکتا ہے لیکن اب انھیں پتہ چل گیا کہ علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر کام کرنے کے لیے ایسے کردار بناتے ہیں لیکن ان کرداروں کو بلوچ نیشلزم کی زرخیز زمین میں جگہ دینا خود نیشلزم کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنے کی کوشش ہے ،وہ بلوچ ملا جو نیشنلزم کی طرف مائل تھے یا ہیں انھیں مار کر یا جدوجہد سے دور کرکے قومی جدوجہد سے بیزار کرنالیکن دوسری طرف شدت پسند اور مذہبی رجحانات کے حامل کے ملاؤں کے مڈل مین بن کر بلوچ سرڈگار میں انھیں جگہ دینا کہ وہ نیشنلزم کی جگہ لیں ۔کیا یہ عمل قوم ،لوگوں اور تحریک کے ساتھ سنگین مذاق سے کم ترہے لیکن کل کو ہی ان علاقائی طاقتوں کے مفادات کا تبدیل ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ،باقی جو بڑی طاقتیں ہیں وہ اس مذہبی ناسور سوچ کو پروان چڑھانے کی کسی بھی طرح حمایت نہیں کرسکتے ہیں اگر نیشنلزم کو اس تباہ کن سوچ سے مکس کیا گیا تو یہ تحریک کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا ۔دوست شروع سے کہتے آرہے ہیں کہ بلوچ قومی تحریک میں صرف حیربیار مری کی پالیسیاں مستقل بنیادوں پر ہیں جو کھبی بھی تبدیل نہیں ہوتے ہیں اس نے شروع سے مذہبی لوگوں کے حوالے غیرجانبدارانہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے لیکن باقی پارٹیوں کی باقی پالیسوں کی طرح مذہبی پالیسی بھی اب انکے گلے کی ہڈھی بن چکی ہے کیا یہ مذہبی پالیسی انکی لیڈرشپ ،تنظیمی ساخت،پالیسی،حکمت عملی،منصوبہ بندی ،پر سوالیہ نشان نہیں ہے ۔یا پاکستانی سیاست دانوں کی طرح ذاتی مفادات اور تیسری پارٹی کی مفادات کی خاطر ملاؤں کو کھلانا بڑا کرنا اور پھر انہی ملاؤں کو تیسری پارٹی کے حکم پر انکے حوالے کرنا جیسا نہیں رہا جہاں اپنی کوئی قومی پالیسی نہیں، پالیسیاں تیسری پارٹی کے مفادات کے تحت بنائے جاتے ہیں ۔اب کیا اس طرح کے سروگیٹ ،کرایہ کے سپاہی اور پراکسی کوئی قومی تبدیلی لاسکتا ہے یہ احساس کمتری کے لوگ شر مانے کے بجائے اپنی سروگیٹ ،پراکسی اور بھاڑے کے سپاہی پر فخر کرتے ہیں ۔کیا کوئی بھاڑے کا سپاہی ریاست کی تشکیل کرسکتا ہے ۔کیا کسی بھی کرایہ کے سپاہی نے آج تک ملک بنایا ہے ،ریاست کی تشکیل ہوچی منہ جیسے لیڈرکرسکتے ہیں جو اپنی قوم اور لوگوں کے ساتھ نرم دوستانہ ،ہمدردانہ تعلقات رکھنے کے ساتھ کمیونسٹ بلاک میں ہونے کے باوجود انکے بچے کو اپنی رحم میں پالنے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہWe have a secret weapon…it is called Nationalism دُشمن کو شکست دینے کے لیے ہمارے پاس ایک خفیہ ہتھیار ہے جسے قوم پرستی کہا جاتا ہے ،قوم پرستی کا معنی اپنی قوم کی عبادت کرنا نہ کہ ایران اور ملاؤں کے بچے کو اپنی پیٹ میں پال کر انکے مفادات کی خاطر اپنے ہی قوم کے لوگوں کو بھاڑے کا سپاہی یا مڈل مین بن کر مارنا ۔