قومی لیڈرشپ کا معیارسن یات سین ،جارج واشنگٹن ،جوموکنیاتا سے حیربیار مری تک: تحریر میران بلوچ

جمعرات 14 دسمبر, 2017

دنیا میں ہر تحریک ،ملک،بحران اور مصیبت زدہ لوگوں میں ایک نارکنے والے بحث نے سر اٹھایا ہے کہ لیڈرشپ کیسا ہونا چاہئے کس کو قیادت کرکے قوم ،ملک اور لوگوں کو بحران سے نکالنا چاہئے ۔لیکن تحریکوں،بحران اور مصیبت کے وقت کچھ ایسے نام نہاد اور ناجائز فائدہ اٹھانے والے لیڈر بھی ابھرتے ہیں جو تحریک ،بحران،اور مصیبت کو اپنے ذاتی فائدے کے لیےکیش کروانے کی کوشش کرتے ہیں ۔لوگوں کی عداوت ،بغض،عنادکے ساتھ کھیلتے ہوئے انھیں خطرناک راستے پر لے جاتے ہیں ،ان تمام چیزوں کو جانتے ہوئے بھی لوگ ایسے لوگوں کو لیڈر بنالیں تووہ کمزور ،ذاتی طور پر ملائم ہیں اور چاہتے ہیں کہ لیڈر انھیں دھوکہ دیں ۔لیڈرشپ کے پاس پاور ہوتا ہے اور وہ اس پاور کو صحیح طریقہ سے استعمال کرتا ہے پاور کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی آتا ہے وہ اس پاور کو ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتا ہے ۔جبکہ بہت سے لوگوں کے پاس پاور ہوتا ہے لیکن لیڈرشپ کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے مافیا ،ڈکٹیٹر،پیسہ والوں،اور منشیات والوں ،اور گینگ والے لوگوں کے پاس پاور ہوتا ہے لیکن یہ پاور لیڈرشپ کی پاور سے الگ ہوتا ہے لیڈرشپ پاور کوذمہ داری سے ادا کرتا ہے جبکہ مافیا،ڈرگ ڈیلر، ڈکٹیٹر ،اور گینگ اور چور چکار پاور کو ذمہ داری سے ادا نہیں کرتے ہیں ۔بہت سی تنظیموں میں لیڈرشپ اور سرکاری اتھارٹی کے ابہام اور افراتفری نے خطرناک اثرات ڈالے ہیں ،لیڈرشپ کے لیے لفظ eliteکا استعمال ہوا ہے یہی لفظ شروع میں خاندان کے عالی مقام اور سربلندی کے لیے استعمال ہوا ہے پھر سوشولوجسٹ نے اسے گروپ کے بلند مقام کے عامل لوگوں کے لیے استعمال کیا ،بعد میں لیڈرشپ کے لیے لفظ استعمال ہواکہ تمام لوگوں میں ایک نکلتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے اور اسے سارے لوگوں میں لیڈر چنا جاتا ہے یہ سوال بھی عام ہے کہ کیا لیڈر تاریخ بناتے ہیں یا کہ تاریخی واقعات لیڈربناتے ہیں،تاریخ میں تمام تبدیلی لانے والے لیڈر معمولی رہے ہیں تاریخی طاقتوں نے حالات بنائے جہاں سے لیڈر ابھرے اور اس لیڈر کی خصوصیات و وصف نے پھر تاریخ پر اثر ڈالا ۔مقصدیت کا تعین اورتحریک انگیزش لیڈرشپ کے دو ٹاسک ہوتے ہیں George Washington’s War: The Forging of a Revolutionary Leader and the …
کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ ایک لیڈر میں جو کوالٹی ہم دیکھتے ہیں وہ ہیں وژن،سا لمیت،درست حالت،جرات،سمجھ،طرزو گفتار کی طاقت ،کردار کی گہرائی شامل ہیں‘‘ ،قومی جنگ میں امیر غریب سردار نواب اور غریب کا تصور نہیں ہوتا ہے بلکہ اس میں ہر مکاتب فکر کے لوگ شامل ہوکر اپنی ذمہ داریاں ادا
کرتے ہیں جارج واشنگٹن امریکہ کی جنگ آزادی کا بانی اور ہیرو رہا ہے یہ خود بڑا زمین دار تھا امیر گھرانہ سے اسکا تعلق تھا انکے غلام بھی تھے لیکن اس نے قومی آزادی کی جنگ میں حصہ لیکر اپنی جنگ کو کامیاب کیا اور اسکا کردار ، سمجھ ،وژن،اور لیڈرشپ کی کوالٹی کی وجہ سے اسے قومی رہبر کا اعزاز ملا وہاں امریکہ کی جنگ آزادی میں اور غریب ہزاروں کی تعداد میں اپنی خاندانوں کی قربانی دیکر جنگ آزادی کی خاطر قربان ہوئے لیکن انھوں نے احسان نہیں جتایا کہ واشنگٹن زمین دار ہے اور وہ غریب ہیں اس لیے
انھیں لیڈربنایا جائے کہ وہ قربانیاں دے رہے ہیں George Washington: A Biographical Companion
نے کتاب میں لکھا ہے کہ جارج واشنگٹن اور جان ادم اور جعفرسن کے درمیان بھی اختلافات ہوئے لیکن ان لوگوں نے گٹھیا پن کا مظاہرہ کھبی بھی نہیں کیا کسی نے جارج واشنگٹن کی کردار پر اسکی پوزیشن کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ اسکو امریکہ کی جنگ آزادی میں لیڈرچنا گیا کسی نے نہیں کہا کہ یہ جاگیردار ہے اسکے پاس غلام ہیں اور ہم مڈل کلاس ہیں بلکہ وہ جدوجہد قومی جدوجہد تھا جو قوم کے تمام افراد نے ملکر کیا اور اپنی جدوجہد کو کامیاب کیا ،زیادہ تر قابض کسی بھی قومی جدوجہد کو مکس ، کنفیوژن اور ابہام کا شکار کرنے کے لیے نیشنلزم کو کلاس میں تبدیل کرکے مڈل کلاس کا ایک کلاس پیدا کرتا ہے پھر قابض اپنی قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے کے لیے ان مڈل کلاس لوگوں کو مڈل مین بناتا ہے جس طرح رازق بگٹی، خیرجان، حئی، ڈاکٹر مالک،یسین،وغیرہ کو نیشنلزم سے آہستہ آہستہ نکالتے ہوئے مڈل کلاس بنایاگیا اور انھیں قابض نے خیربخش مری ،نواب اکبر خان بگٹی،کے خلاف لاکھڑا کیا اور ان کے توسط سے نواب مری اور بگٹی کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کروایا کہ یہ نواب و سردار ہیں بعد میں ان لوگوں نے نوابوں کو اپنی پارٹیوں میں شامل کیا اور مالک کی حکومت میں مالک ٹولہ مڈل کلاس سے مڈل مین بن گیا اور جام کے دور میں رازق بگٹی مڈل کلاس سے کس طرح مڈل مین بن گیا اور انہی لوگوں نے وقتی طور پر قومی نیشنلزم کے جدوجہد کو ابہام اور کنفیوژن کاشکار بنایا اور سادہ لوح جہدکار انکی فریب اور دھوکہ کا شکار ہوگئے حالانکہ کسی بھی نیشلزم کی جدوجہد میں اس طرح کے قوم کو جدوجہد اور قابض کی زوراکی کے دوران تقسیم کرکے کلاس کے نعرہ کو تحریک کے لیے ناسور سمجھا جاتا ہے جومو کینیا تا جو کنیا میں قابض کے خلاف آزادی کا سمبل ہے یہ خود Kikuyu قبائل کا چیف تھا اور قبائلی سربراہ تھا اور اس قبائل نے مری قبائل کی طرح ماؤماؤ تحریک کی بنیاد اپنی قبائلی طاقت سے رکھتے ہوئے قابض کے خلاف جنگ لڑی بعد میں باقی قبائل اور لوگوں کو قومی جدوجہد میں شامل کرواتے گئے اور انکی قومی جنگ آزادی اسی قبائلی چیف کے لیڈرشپ کی وجہ سے کامیاب ہوا وہاں بھی قابض نے جدوجہد میں مڈل کلاس کا تڑکا ڈالا لیکن وہ ناکام ہوئے کیونکہ وہاں قومی پختگی اور شعور کا لیول بڑھ چکا تھا ،سن یات سین جیسے جدید چین کا بانی کہا جاتا ہے جس نے چین کی قوم کو غلامی غربت بھوک سے نکالا وہ ایک دانشور،فلاسفراور انقلابی تھا Qing dynasty چنگ خاندان کے خلاف سن یات سین نے برطانیہ میں رہتے ہوئے اپنی قوم کی رہنمائی کی اسے اب بھی انکی لیڈرشپ کوالٹی اورایمانداری ،خلوص،اور قابلیت کی وجہ سے تائیوان اور چین دونوں جگہ بابائے قوم سے پکاراجاتا ہے ،دنیا جہاں میں قومی تحریکوں میں لیڈرشپ کا چناؤ قابلیت،صلاحیت،ایمانداری،خلوص،کمٹمنٹ،سیاسی پختگی ،پالیسی کی تسلسل کو جاری رکھنے کے عزم،قومی مفادات کا تحفظ دینے جیسے چیزوں کو دیکر کیا گیا ہے کسی بھی موومنٹ میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ فلاں جنگ لڑ رہا ہے قربانی دے رہا ہے اسے اسکی معاوضہ کے طور پر لیڈر منتخب کیا جائے لیکن بلوچ قومی تحریک میں پاکستانی بیانیہ کو دانستہ طور پر پروموٹ کیا جارہا ہے کہ جو قابل ہے جس میں قومی تحریک کو اس بھنور سے نکالنے کی جرات اور ہنرمندی ہے ،جس نے قوم کو غلامی کی سیاہ دور سے دور رہنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ عملی طور پر آزادی کے راستہ پر لگایا ،جسکی ایمانداری ،مخلصی،کمٹمنٹ،اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کا عزم،جسکی پالیسیاں دوررس نتائج کے عامل ہیں،جس میں سیاسی پختگی ہے اسکو کاؤنٹر کرنے اور اسکا راستہ روکنے کے لیے قابض اور اسکے پارٹنر اورنادانستہ طور پر استعمال ہونے والے سیاسی جہدکاروں کے درمیان مختلف پروپیگنڈہ کرواتے ہیں اور یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ جو بلوچستان میں موجود ہے وہ قیادت کرے ،(افغانستان ،خلیج اور ایران میں مولا کے مہمان خانہ میں موجودگی زیر بحث نہیں) اور دوسرا یہ کہ جی ہم مڈل کلاس ہیں اور حیربیار مری سردار ہے سردار کے گھر میں پیدا ہوا ہے حالانکہ وہ اپنی نوابی سے دستبرداری کا اعلان کرچکا ہے اور ایک قومی جہدکار کی طرح خلوص ،ایمانداری،کمٹمنٹ اور دوراندیشی کے عامل پالیسیاں بنا کر جدوجہد کو کنفیوژن ،ابہام،اور کلاسی بندربانٹ سے روکنے کی کوشش کررہا ہے ۔ لیکن کچھ لوگ دانستہ کچھ شوق لیڈری اور کچھ لوگ نادانستہ طور پر کلاس کی پرانی شراب کو نئی بوتل میں ڈال کر قوم کو رازق بگٹی،کہور خان،ڈاکٹر مالک،حئی،کی طرح گمراہ کروانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ ایک ثابت شدہ اور حقیقت پر مبنی تجربہ ہے کہ اگر قابض جہدکاروں کے رخ کو قومی جدوجہد سے موڑ کر کلاس کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوا تو انہی مڈل کلاسیوں کو پھر رازق بگٹی ،مالک ٹولہ کی طرح مڈل مین بنانا بھی قابض کے لیے مشکل نہیں ہوگا ۔امریکہ کی جنگ آزادی میں جارج واشنگٹن کی قابلیت صلاحیت ،جرات مندی،ایمانداری اور قیادت کرنے کی اہلیت کو دیکھ کر انھیں لیڈر بنایا گیا ہمارے مڈل کلاسیوں کی طرح ریاستی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اسکی زمینداری اور غلام رکنے کی پوزیشن کی وجہ سے اسے رد نہیں کیا گیا اگر وہ ہمارے مڈل کلاس طبقہ کی طرح سوچتے تو کیا آج امریکہ برطانیہ جیسے سپرپاور کی غلامی سے آزاد ہوکر خود دنیا کا سپرپاور بن سکتا تھا؟کنیا کے لوگ ہمارے مڈل کلاس طبقہ کی طرح قابض کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر جوموکنیتا جیسے قبائلی چیف کو لیڈر منتخب کرنے کے بجائے محمد بخش جگو جیسے قربانی دینے والے کو لیڈر منتخب کرتے کہ وہ قربانی دے رہا ہے اور کنیتا قبائلی چیف ہے تو کیا کنیا کے لوگ برطانیہ جیسے سپرپاور سے آج آزادی حاصل کرسکتے تھے ؟ چین بھی سن یات سین کی قابلیت ،سیاسی صلاحیت کو چھوڑ کر امان جان بوس کو لیڈر منتخب کرتے کہ انکے بھائیوں نے قربانیاں دی ہیں اور یہ سرمچار ہیں اور فیلڈ میں قربانیاں دے رہے ہیں اور سن یات سین باہر موجود ہے تو کیا آج چین آزاد ہوکر دنیا کا سپرپاور بن سکتا تھا؟ قابض نے وہاں بھی اسی طرح کے پروپیگنڈے کروائے لیکن اس طرح کے گھٹیایا پروپیگنڈے لیڈرشپ کے عزم،قومی جذبہ ،مقصدیت،کے سامنے ریت کے دیوار کی طرح زمین بوس ہوجاتے ہیں اور لیڈرشپ اپنی کمال ،جوہر،صلاحیت ، پالیسیوں، موقف، دوراندیشی ،پختگی ،سنجیدگی،مشن کو حاصل کرنے کی لگن سے ابھرتے ہیں اور انکا راستہ نہ قابض روک سکتا ہے اور نہ ہی انکے بے وقوف اور نادان مخالفین کیونکہ ڈیوڈ بن گورین جو اسرائیل کا بانی اور قومی لیڈر ہے اس پر اتنے حملے ہوئے اور اتنی اسکی کردار کشی کی کوشش ہوئی تاریخ میں کسی کی نہیں ہوئی ہے لیکن اس نے تمام رکاوٹوں ،مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے موقف ایجنڈے اور مشن کی تکمیل سے پیچھے نہیں ہٹے ہر وقت اصول پر ست ،موقف پر قائم رہنے والے اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے والے لیڈر ہی لعن تعن کا شکار ہوتے ہیں بقول حاصل خان بزنجو پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا دُشمن اور اسکو نقصان دینے والا حیر بیار مری ہے اسکے بقول وہ باقی سب کو کنٹرول کرسکتے ہیں ملک میں لاسکتے ہیں اور انھیں منیج کرسکتے ہیں ایک لیڈر ہے جو ان کے قابو سے باہر ہے وہ ہے حیربیار مری ۔ڈاکٹر مالک بھی بہت سے جگہ حیربیارمری کو پاکستان کی سا لمیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ حیربیار مری نے جس فکر کو عام کیا وہ اب پھیل چکا ہے اور حیربیار مری کی پاکستان اور ایران کے حوالے پالیسیاں دونوں قابضین کو برداشت نہیں ہورے ہیں ۔حیربیار مری کی پانچ سال کی پالیسیوں کو دیکھا جائے اور باقی لیڈرشپ کی پالیسیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے تو لیڈرشپ کی صلاحیت خود ظاہر ہوگا ۔مودی نے کیا بلوچستان کانام لیا کہ سب اس کی پوجا کرنے لگے لیکن حیربیار مری کا اسٹینڈ اور طریقہ بہتریں تھا آج وہ باقی سب لیڈران اپنی اس عمل سے خود شرم سار ہیں ۔ حیربیار مری واحد لیڈر ہے کہ وہ پاور اور طاقت کے ساتھ انصاف کرتا ہے وہ پاور کو برداشت کرسکتا ہے ،یہ واحد لیڈر ہے جس نے ہمیشہ پاور کو تقسیم کیا ہے پہلے اپنے ہی اختیار ،پاور کو تقسیم کرکے استاد قمبر ماسٹر سلیم ڈاکٹر اللہ نظر جیسے لوگوں کو الگ سے شناخت دیکر اپنے ہی اختیارات کو تقسیم کیا ،پھر اپنی تنظیم میں محمد اسلم بلوچ کو بھی بہت زیادہ اختیارات دیکر ثابت کیا کہ وہ باقیوں کی طرح پاور کا بھوکا نہیں ہے بلکہ وہ قومی سوچ اور عام لوگوں کو اختیارات دیکر سیاسی افق پر لاناچاہتا ہے لیکن پھر قومی بدقسمتی کہیں کہ عام لوگوں سے اختیارات اور پاور برداشت ہی نہیں ہوا اور ان سب نے اپنے اعمال سے ظاہر بھی کیا یہ بھی ایک تجربہ ہے کہ کس سے کتنا پاور برداشت ہوتا ہے ابھی باقی تحریکوں کی طرح ہمارے پاس ٹینک ،ہیلی کاپٹر ،میزائل جیسے جدید چیزیں نہیں ہیں اور چھوٹی سی پاور ہم جیسے مڈل کلاسیوں کو برداشت نہیں ہورہا ہے باقی جب کوئی گرفتار ہوتا ہے کسی کے ساتھ کوئی واقع ہوتا ہے تمام لیڈران کے ٹویٹ پاکستانی پارلیمانی لوگوں کی طرح شروع ہوتے ہیں لیکن آج تک حیربیارمری کا ایک بھی ایسا ہلکاپن ٹویٹ اور بیان ہم نے نہیں دیکھا ہے ۔اس نے افغانستان ،ملاؤں ،ایران ،امریکہ،کے حوالے جو موقف اپنایا ہوا ہے اس کے دوررس نتائج قوم کو ملنا عنقریب شروع ہونگے اور انکی پالیسیوں کی بدولت بلوچ کا مسئلہ دنیا کا مسئلہ بن جائے گا اور جس دن بلوچ قوم کا مسئلہ دنیا کا مسئلہ بن گیا اس دن یہ قومی آزادی کا نوید ہوگا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0