قومی مسائل اور گروہی سوچ۔ تحریر۔ حسن جانان

منگل 21 اکتوبر, 2014

قومی مساہل کا حل اجتماعی قومی سوچ کے تحت ممکن ہو پاتاہے.اگر قومی مسائل و معاملات پر گروہی و علاقائی و تنظیمی مفادات کو مدنظر رکھا گیا اور اجتماعی سوچ کو پرے دھکیل دیا گیا اور اپنے تنظیمی و علاقائی مفاد کو قومی معاملوں پر فوقیت دی گئی تو وہ مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بنیں گے. کیونکہ بعض اوقات بہت سے مسائل مکمل قومی و اجتماعی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پورے قوم پر اس کے اثرات پڑیں گے اگر ان کے حل میں کوئی بھی تنظیم یا رہبر اس سوچ کو مدنظر رکھتاہے کہ اس مسلئے کے حل میں اسکے تنظیم پر منفی اثرات پڑینگے یا اس تنظیم کے ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو اور عوامی سطح پر اس تنظیم کی وہ حیثیت برقرار نہ رہے گی تو ایسے حالات میں وہ مفاد پرست ٹولہ قومی مفاد کی بجائے اپنے تنظیمی مفاد کو اہمیت دے گا اور وہ قومی مسائل و معاملات مزید پیچیدہ و گھمبیر رخ اختیار کرینگے. جس طرح آج کل قومی مڈی کے حوالے سے یوبی اے کا موقف ہے. یو بی اے اب تک قومی جہد کے حوالے کچھ ایسے کارروائیاں کی ہے جس سے قومی جہد کو فاہدہ دینے کی بجائے نقصان کا سبب بنے ہیں. دشت میں علاقائی مزدوروں کا قتل و شالکوٹ میں دھماکے جن میں مقامی آبادی کی ہلاکتیں ہیں ایسے واردات جو کہ قومی حوالے سے نقصان کا سبب بنے ہیں ویسے بھی حادثاتی واقعات ہر جگہ ممکن ہے لیکن اگر ایسے واقعات میں تسلسل رہا تو اس کا مطلب کہ وہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں.اور کسی مخصوص مقصد کے تحت کیے جارہے ہیں. اس حوالے سے یو بی اے کی بی ایل اے سے بلاجواز علیحدہ ہونا اور بی ایل اے کے پیداکردہ قومی وسائل پر قبضہ کرکے انھیں بی ایل اے سمیت بلوچ عوام کے خلاف استعمال کرنا ہے. اور بی ایل اے نے یوبی اے کو کوئی قومی تنظیم قبول نہیں کی بلکہ شروع سے ہی اس تنظیم کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے اسکی وجہ بی ایل اے کے نالائق و احتساب زدہ وہ کمانڈران ہیں جو بی ایل اے کے احتساب کے بعد تنظیم سے علیحدہ ہوئے ہیں.اور یو بی اے کے وہ بلوچ کش پالیسیاں ہیں اب باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ واضع ہوگا. کہ یو بی اے نے اب تک بی ایل اے سے اپنی علیحدگی کا جواز پیش نہیں کیا ہے اور اس دوران مڈی کوبلوچ عوام کے خلاف بے دریغ استعمال میں لایا . ان تمام مسلوں کے حوالے سے بی ایل ایف اور بی آر اے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے اور وہ اس کوشش میں رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس مسلئے کو طول دی جائے اسی بنا پر وہ خاموشی کے ساتھ یو بی اے کے ہم رکاب بنیں. یہاں تک کہ مہران مری کی خود ساختہ نوابی پر بھی یہ لوگ اسکی حمایت کرتے رہے.تاریخ میں یہ مثال صرف بلوچ سیاست میں ملے گا.کہ قومی رہبری کا دعویدار اپنے لیے قبائلی نوابی کو ترجیح دی ہے اور مہران سے پہلے یہ عمل براہمدغ بگٹی دورا چکے ہیں قومی آزادی کے نام پر اپنی قبائلی حیثیت کو منوانا انھی دونوں خودساختہ نوابوں میں مشترک ہے. یہی وجہ رہی کہ سوئزرلینڈ میں ایک ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظر آئے. اور روایتی طرز پر حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے قوم کے سامنے ہاتھ پکڑے اتحاد کا شوشہ کرتے نظر آئے. اور اس سارے عمل میں بی این ایم و بی ایل ایف جو کہ مسلسل یو بی اے کے بی ایل اے سے بلا جواز علیحدگی کو مثبت و منفی عمل مانتے رہے منفی اس وجہ سے کہ جب ان سے کوئی بی ایل اے کا ہمدرد اس مسلئے حوالے بات کی وہ مہران کے اس عمل کو غلط قرار دیتے رہے جب ان سے مہران کے ہمدرد بات کرتے تو اس عمل کو مثبت قرار دیتے رہے کہ یہ اچھاا عمل ہے کہ آپ اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ سامنے آئے.اور براہمدغ بگٹی تو مکمل اس عمل کو سپورٹ کرتا رہا. اس علیحدگی کے مسلئے کو بی ایل ایف و بی آر نے کبھی قومی مسلہ ہی نہیں سمجھا. کیونکہ وہ اس مسئلے سے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے چکر میں رہے. کیونکہ جہد آزادی کی پہلی اور منظم و نظم و ضبط کے پابند تنظیم بی ایل اے ہی تھی بی ایل اے کے ہوتے ہوئے بی ایل ایف و بی آر اے کی ان ساتھ آٹھ سالوں میں بلوچ عوام میں اپنی وہ پوزیشن نہ بنا سکے جو بی ایل اے کی تھی اور ہے.کیونکہ ان کی پالیسیاں اور کارروائیاں بلوچ عوام کے خلاف رہے خصوصا مکران میں بی ایل ایف و بی آر اے کی مخبری کے نام بعض معصوم بلوچوں کی قتل و غارت تھی اور مکران میں مالی وسائل پیدا کرنے کے نام پر منشیات کی لوٹ مار اور پھر ان کو فروخت تھا. اس بنا پر وہ بلوچ عوام میں وہ حیثیت حاصل نہ کر پائے.اور اس وجہ سے وہ اپنے گروہی سوچ کے تحت اس تاڑ میں رہے کہ کسی نہ کسی طرح بی ایل اے کی اس حیثیت کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جائیں. تاریکی کی پہچان روشنی سے ہوتی ہے اور دونوں کو دیکھنے سے آپ کو اچھے اور برے کا تمیز کر سکیں گے جب ہر طرف تاریکی ہوگی ہر طرف برائی ہوگی تو سب اچھائی کی پہچان ہی نہ کر پائیں گے بلکہ وہ اچھائی کو ہی برائی سمجھیں گے کیونکہ انکی تربیت اس ماحول میں ہوئی جہاں صرف اور صرف برائی ہے تو ایسے ماحول میں اچھائی کو ثابت کرنا اور لوگوں میں اچھائی اور برائی میں تمیز کروانا بہت ہی مشکل عمل ہو آج ہمارے سیاسی ماحول کی صورتحال ایسا ہی ہے. اسی سوچ کے تحت براہمدغ بگٹی و ڈاکٹر نظر یو بی اے کے بننے پر خوش رہے کیونکہ بی ایل اے کی کمزوری ان کے لیے فاہدے کا سبب بنی. کیونکہ وہ قومی اجتماعی مفاد کے بدلے پارٹی مفادات کو اہمیت دیتے رہے اسی سوچ کی بدولت یہ مسلہ حل نہ ہو سکا. اور یہی وہ سوچ تھی کہ بی ایل اے کے ہوتے ہوئے بی آر اے بنا. اور یہی وجہ تھی کہ بی این ایم کے ہوتے ہوئے بی آر پی بنایا گیا اور اسی طرح بی آر ایس او.. اور بی ایل ایف نے سیاسی ادارے بی این ایم و بی ایس او کو اجتماعی قومی سوچ سے گروہیت کی جانب لے گیا. اور اسی بنا پر قومی ادارے قومی نہ بن پائے. اور یو بی اے کی بلاجواز علیحدگی اور اسلحہ پر قبضہ پر بی ایل ایف و بی آر اے کی مکمل مہران کی درپردہ حمایت و کمک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان مسلوں میں برابر کے شریک ہیں اور آج یو بی اے کے تمام غلطیوں و سوچے سمجھے قومی نقصان دہ اعمال پر یہ خاموش ہیں اور بی ایل اے کے خلاف صف آرا ہیں. کیا اس سوچ کے تحت یہ آگے آزادی کی جنگ کو برقرار رکھ سکیں گے؟؟؟؟؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0