قومی مڈی کا تصور اور یو بی اے۔ تحریر نود بندگ بلوچ

جمعرات 9 اکتوبر, 2014

بلوچ قومی تحریک میں آج موجود تضادات اور اختلافات اچانک نمودار نہیں ہوئے ہیں بلکہ انکا بنیاد تحریک کے بنیاد پڑتے ہی پڑچکی تھی ، ابتداء میں افرادی قوت اور تحریک کے وسعت کی خاطر ایسے بہت سے عوامل یا شخصیات کی طرف چشم پوشی اختیار کی گئی جن کا کردار یا کچھ عوامل کے اثرات قومی مفادات سے میل نہیں کھاتے تھے ، لیکن عمل کو سب سے سخت پرکھ اور وقت کو سب سے بڑا منصف گردان کر یہ سوچا گیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ قومی عمل آگے بڑھتا جائے گا تو خود ہی بہتری آتی جائے گی ، ایک دوست نے اس چشم پوشی پر سوال کے جواب میں کہا کہ \” قومی تحریک کے تسلسل کو آگے بڑھانے کیلئے کوئی باہر سے تو نہیں آسکتا تھا ، خوش بختی کہیں یا بد بختی اس تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے راضی دستیاب قوت یہی تھے ، اس لیئے بہت سے کمزوریوں کے باوجود صرف یہ سوچ کر کے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آئے گی سب کو قبول کیا گیا ، اس کے علاوہ اتنا سوچیں کے آج جب تحریک کو ایک دہائی سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے ہم ایسے شخصیات یا عوامل پر سوال اٹھاتے ہیں تو جارحانہ ردعمل سامنے آتا ہے ، لوگ مایوس ہوتے ہیں اگر ابتدائی ادوار میں یہی سوال اٹھاتے تو پھر لوگوں کے تاثرات کیا ہوتے \” ، گوکہ یہ تضادات تحریک کے ساتھ ابتداء سے ہی آکاس بیل کی طرح چمٹی ہوئی تھی لیکن ان کی نوعیت اس حد تک مخاصمانہ نہیں تھا ، لیکن زعمران پر بد عنوانی کے الزامات پھر اسکا احتساب کیلئے پیش ہونے سے انکار ، پھر ایک انقلابی تنظیم کو بلا جواز توڑ کر یو بی اے کا قیام پھر بلوچ قومی تحریک کے باقی اسٹیک ہولڈرز ڈاکٹر اللہ نظر اور براہمداغ بگٹی کا اس گھناونے عمل کی مخالفت کے بجائے یو بی اے کی مکمل حمایت نے حالات اس نہج تک پہنچا دیئے تھے کہ حالات خانہ جنگی کی طرف جاسکتے تھے لیکن اس دوران قابض اپنے مکمل قوت کے ساتھ قوم پر حملہ آور تھا ، حالات ہر گز اس طرح نہیں تھے کہ ان مسائل کو طاقت کے زور پر سلجھایا جائے تو بی ایل اے کے دوستوں نے کسی بھی ممکنہ ٹکراو کو ٹالتے ہوئے گفت و شنید کا آغاز کیا ، اس دوران مرحوم بابا مری ، ڈاکٹر اللہ نظر ، واحد قمبر ، بجار ، براہمداغ بگٹی اور قادر مری سے مختلف اوقات میں مختلف دوست انفرادی طور پر یا وفود کی صورت میں بارہا ملتے رہے اور ان مسائل کو حل کرنے پر زور دیا گیا ، لیکن مذکورہ تمام شخصیات کا ردعمل مکمل طور پر روایتی رہا ، حتیٰ کے بابا مری اور ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کو مختلف اوقات میں یہ تک کہا گیا کہ ان مسائل کے بارے میں آپ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے سزا و جزا کا فیصلہ کریں لیکن اسکے باوجود یہ تمام افراد قومی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان مسائل کو اپنے مخصوص نظر سے ہی دیکھتے رہے اور بجائے اس مسئلہ کو حل کرنے کے سب نے ان مسائل سے اپنے ذاتی و گروہی مفادات کی تکمیل کرتے ہوئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو بیٹھے ، اس غیر سنجیدگی اور مفاد پرستی کی وجہ وہی نا مناسب شخصیات اور غیر موزوں اعمال تھے جن کو تحریک کے ابتدائی ایام میں نظر انداز کرکے پنپنے کا موقع دیا گیا تھا ، یہ منفی کردار و اعمال وقت کے ساتھ بدلنے کے بجائے مزید پختہ ہوچکے تھے ، ایسے صورتحال میں جب قومی تحریک کو گھر کی لونڈی بنانے کی مکمل تیاری ہوچکی تھی اور قوم کا نام صرف نام ، پیسہ اور شہرت کمانے کا ذریعہ بن چکا تھا دوستوں کے سامنے دو ہی راستے بچے تھے یا تو سب کے رنگ میں رنگ جاتے اور حسبِ توفیق ذاتی و گروہی مفادات بٹورنے میں لگ جاتے اور قومی ناکامی کے پروانے پر دستخط کرتے یا پھر ان قوتوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے اور انکی سرکوبی کرتے ، لیکن نام نہاد رازداری کے نام پر قوم کو جس اندھیرے میں رکھا گیا تھا اس کیلئے ناگمانی میں ایسی مخاصمانہ صورتحال شاید المیے سے کم نا ہوتا ،شاید عوام کے حق میں یہ دونوں عوامل مثبت نتائج برآمد کرنے میں ناکام رہتے ، ان نام نہاد قومی رہنماووں کے کردار اور نیتوں سے مایوسی کے بعد دوستوں نے فیصلہ کیا کہ اب قوم کو مزید اندھیرے میں رکھنا شاید ایک تاریخی جرم ثابت ہوگا ، اصل قوت اور طاقت اور اس تحریک کا وارث صرف بلوچ عوام ہیں اس لیئے ان تمام حقائق اور ان لیڈران کی اصلیت اور انکے منفی اعمال و رویوں کی تفصیلات قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ ہوا تاکہ قوم خود دیکھ کر صحیح اور غلط کو پرکھ کر فیصلہ کرے ، پھر آغاز اخباروں میں چیدہ چیدہ مضامین سے ہوتے ہوئے سوشل میڈیا تک آپہنچے۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ یو بی اے کے مسئلے کو تاریخ ایک خوش بختی کے صورت میں یاد کرے گی یا پھر قومی بد بختی کے ، شاید اگر یہ یو بی اے کا مسئلہ درپیش نا آتا تو یہ اختلافات ہمیشہ یونہی غیر مخاصمانہ انداز میں صرف اندر ہی موجود رہتے ہوسکتا ہے یہ ہمیں اندر سے ہی دیمک کی طرح چاٹ جاتے لیکن یو بی اے کی وجہ سے مصلحت کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اور یہ سب تضادات اور اختلافات کھل کرسامنے آگئے شاید تاریخ ثابت کردے کہ اس ٹھوٹ پھوٹ نے ہی تعمیر نو کو ممکن بنایا ، مجھ سے ایک بار دوست نے پوچھا کہ یہ یو بی اے کیا ہے میرا جواب صرف یہ تھا کہ\” جب 70 کے لڑائی کے بعد ہم افغانستان سے لوٹے تو ہمارے جھولی میں بہت سے مثبت اور منفی تجربات تھے ، ہمارے مثبت تجربات کا نتیجہ موجودہ تحریک کی صورت میں سامنے ہے اور یو بی اے ہمارے منفی تجربات کا حاصل ہے \” ان دوسالوں میں قلم کے ذریعہ جو شعور و آگہی بذریعہ تنقید پھلائی جاری رہی ہے اس کا فیصلہ شاید وقت کرے گی کہ یہ کتنا موثر اور کتنا منفی رہا ہے لیکن بلوچ قومی تحریک آج جس نہج پر کھڑا ہے اسے سمجھنے کیلئے یو بی اے اس کے قیام کے جواز اور قومی مڈی پر قبضے کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس وقت یو بی اے صرف پانچ شخصیات زعمران مری ، قادر مری ، ناڑی مراد ، سرفراز بنگلزئی اور قلاتی کے گرد گھومتی ہے ، یہ تمام شخصیات مختلف اوقات میں اپنے منفی کردار کی وجہ سے بی ایل اے کے احتساب سے گذر چکے ہیں اور ان چاروں کو سزا یافتہ کہا جائے تو غلط نا ہوگا۔ اس لیئے ان چاروں کے کردار پر غور کرنا اشد ضروری ہے۔
افغانستان میں قیام کے دوران میر ہزار خان کے سرکار کے ساتھ ملنے اور بجارانی و گزینی مسئلہ کھڑا کرنے کے بعد قومی لشکر اور قومی تحریک مکمل طور پر منتشر ہوچکی تھی ایسے حالت میں سنگت حیربیار نے تحریک کی باگ ڈور سنبھالی اور تحریک کو منظم کرنے لگا ، افغانستان سے لشکر کو بحفاظت واپس لانا ہو یا قومی مڈی کو منتقل کرنا یہ کام سنگت نے احسن طریقے سے سر انجام دیئے ، دوست آج تک گواہی دیتے ہیں کہ وہ خود آدھی رات کو بھی نکل کر کام کے غرض سے گھڑے کھودا کرتے تھے ، اس دوران بابا مری کے مشورے ضرور ساتھ ہونگے لیکن بابا زیادہ تر حق توار کے سرکل ہی سنبھالتے عملی طور پر سارا کام سنگت نے سنبھالا ہوا تھا ، تحریک کو منظم کرنے اور کام کے آغاز کے بعد یہ کمی محسوس کی گئی کہ عالمی سطح پر قومی تحریک کے بابت ایک خلیج موجود ہے دنیا ہماری حمایت کیا کرتے ہمارے بارے میں جانتے تک نہیں تھے اس لیئے سنگت باہر چلے گئے اور وہیں سے ہی پورے تحریک کو سنبھالنے لگے ، ابتداء میں شہید بالاچ کا قومی تحریک سے دور کی بھی وابستگی نہیں تھی ، ایک دوست کہتا ہے کہ جب حق توار کے سرکل لگتے تھے تو بالاچ تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اٹھ جاتا تھا اور کہتا تھا کہ \”پتہ نہیں کیوں لوگ اتنے دور سے بابا کو سننے آتے ہیں مجھے تو ایک لفظ تک سمجھ نہیں آتا \” لیکن 2004 کے دور میں شہید بالاچ میں اچانک تبدیلی آگئی جس پر حیرت کا اظہار بابا اپنے ایک انٹرویو میں بھی کرتے ہیں اور وہ کوہ نشین ہوگئے ، ان کے شہادت کے بعد جب سنگت حیربیار لندن میں گرفتار ہوئے تو بی ایل اے کی باگ ڈور بابا کے مشاورت سے زعمران کے ہاتھوں میں دی گئی ، شاید ہماری یہ قومی بد قسمتی ہے کہ اس وقت بالاچ شہید ہوچکے تھے ورنہ شاید باگ ڈور سنگت کے بعد اس کے ہاتھوں میں دی جاتی لیکن زعمران نے بد ترین بد انتظامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے تنظیم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ، مالی بے ضابطگیوں کی حد یہاں تک پہنچی کے عارضی طور پر جنگ بندی کرنا پڑا ، جب سنگت جیل سے رہا ہوئے تو انہوں نے دوبارہ سے انتظام سنبھالا لیکن تنظیم کی حالت انتہائی بد تر ہوچکی تھی اور اور حساب کتاب میں بے ضابطگیاں سامنے تھی ، اس پر سنگت نے زعمران سے جواب طلبی کی لیکن وہ سامنے آنے اور جواب دینے پر ہرگز راضی نا ہوا ، پھر بات بابا مری تک پہنچی بابا مری کا بھی اصرار یہی تھا کہ جو ہوا اسے جانے دو وہ چھوٹا بھائی ہے چھوڑ دو ، اس پر سنگت حیربیار نے یہی موقف اختیار کیا کہ تحریک میں خونی رشتے ہرگز نظریاتی رشتوں پر برتری نہیں رکھتے ، اگر اس تحریک میں ایک بزگر شوان کا احتساب ہوسکتا ہے تو پھر ایک نوابزادہ بھی اس سے مبرہ نہیں ہوسکتا ، لیکن اس مسئلے پر ایک طرف سے زعمران مری ایک روایتی قبائلی سوچ کے ساتھ شاہ خرچیوں کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے اور ایک نوابزادے کی حیثیت سے احتساب کو اپنی توہین اور دوسری طرف بابا مری بضد تھے کہ اسے قومی مسئلہ نا بنایا جائے بلکہ چھوٹا بھائی ہے اسے درگزر کیا جائے ، یہ مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا گیا بالآخر سنگت حیربیار اس بات پر راضی ہوگئے کہ کوئی تیسرا بندہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کرے اور جو بھی قصور وار ہو اسے سزا دیا جائے ، اسی سلسلے میں سنگت نے اخباروں میں ایک بیان بھی دیا تھا اور قوم کے سامنے یہ تک کہا تھا کہ قومی تحریک میں مسائل موجود ہیں لیکن اس دوران شاید سنگت کے جیل بندی کے دوران ہی زعمران نے اپنے لیئے ایک نئے تنظیم بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا ، اس نے بی ایل اے کے سزا یافتہ سابقہ کمانڈروں قادر مری ، مراد ناڑی اور قلاتی سے رابطہ استوار کرکے اور انکے ذریعے قبائلی سوچ کے مالک مریوں سے تعلق بناکر یو بی اے قائم کردی ، یو بی اے کی بنیاد ہی اس وجہ سے ڈالی گئی کہ ایک نوابزادہ کو کیوں احتساب کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے ، زعمران پہلے دن سے ہی اپنے قبائلی حیثیت اور پوزیشن کو روایتی انداز میں مضبوط کرنا چاہتے تھے ، اسکی یہی قبائلی سوچ اسے ایک ڈسپلن کے پابند رکھنے اور ایک عام سپاہی کے حیثیت سے رہنے سے روکے رکھی اور ، یو بی اے بھی اسی قبائلی سوچ کی پیداوار ہے اور اب زعمران کے خودساختہ نوابی کے دعوے بھی اسی قبائلی سوچ کا حاصل ہے۔
حقیقت پسندی سے اگر دیکھا جائے تو زعمران مری میں اتنی بھی صلاحیت نہیں کہ وہ ایک تنظیم کو توڑ کر خود سے ہی ایک نئی تنظیم بنائے ، اس کام میں اسے چند احتساب زدہ سابقہ روایتی کمانڈروں کی پشت پناہی حاصل تھی جن میں قابل ذکر قادر مری ، مراد ناڑی ، سبزل ( جو کہ اب کنارہ کش ہوچکے ہیں)، سرفراز بنگلزئی اور قلاتی تھے۔ قادر مری 73 کے دور کے ایک کمانڈر تھے اور گوریلہ جنگ میں نئے تقاضوں کو ہرگز ہضم نہیں کرپارہے تھے اور نا ہی نئے نسل کے قیادت کو برداشت کرتے تھے اسی وجہ سے انکا رویہ ہمیشہ مسئلہ بنا رہتا تھا ، بہت سے ایسے مواقع آئے کہ ایمرجنسی کے موقعوں پر بھی انہوں نے نا دوستوں کو اپنے کیمپ میں جگہ دی اور نا ہی اسلحہ فراہم کیا ، اس دوران ان کے کام پر بھی بہت سے سوالیہ نشان لگ چکے تھے دس سالوں کے دوران انہوں نے خالی ریلوے ٹریک پر دو تین دھماکوں کے سوا کچھ نہیں کیا ، بقول دوست جب انہیں کام کا کہا جاتا تو سردیوں میں کہتے کہ بہت سردی ہے نہیں ہوسکتا گرمیوں میں گرمی کا بہانہ اور بیچ میں دوستوں کے چھٹیوں کا بہانہ ، کام میں اس نااہلی کے باوجود وہ بضد رہے کہ انہیں اعلیٰ حیثیت حاصل رہے دلیل صرف یہ کے وہ پرانے ہیں۔ اسی دوران اپنے نام سے کتاب چھاپنا وہ بھی تنظیم کو اعتماد میں لیئے بغیر بھی ایک مسئلہ بنا رہا ، عسکری اور جغرافیائی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مڈی کی ایک کثیر تعداد ان کے پاس رکھی گئی تھی انکا کام صرف حفاظت تھا لیکن یوبی اے کے قیام سے پہلے ہی اس نے اس مڈی کو دوستوں کو دینے سے انکار کردیا تھا اور زعمران سے رابطے استوار کیئے تھے ، دوست کئی بار ان کے پاس گئے لیکن انہوں نے سامان لوٹانے سے انکار کردیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ جب تک مجھے زعمران اور بابا مری نہیں کہتے میں یہ سامان نہیں لوٹاوں گا ، اسی وجہ سے انکے خلاف تنظیمی ڈسپلن کے تحت تادیبی کارروائی کی گئی تھی اسی طرح یو بی اے کے دوسرے کمانڈر خاص قلاتی 2006 میں ہی تنظیم سے فارغ ہوچکے تھے ، انکا قصہ کچھ یوں ہے کہ 2006 میں جب نواب اکبر خان بگٹی دشمن سے برسر پیکار تھے تب اس کمانڈر قلاتی کے بھائی شاہ گل کو کچھ دوستوں سمیت اکبر بگٹی کے مدد کیلئے تنظیم کی طرف سے بھیجا گیا تھا لیکن شاہ گل نے بیچ راستے میں ہی اپنا بندوق واپس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اکبر خان کیلئے اپنا جان کیوں خطرے میں ڈالوں اس وقت شہید بالاچ حیات تھے انہوں نے دوستوں سے سفارش کی تھی کہ جس بندے کے سنگتی معیار یہ ہو وہ تنظیم میں رہنے کا لائق نہیں ہے اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا یہ کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتا ہے اسی لیئے اس وقت تنظیمی کارروائی کرتے ہوئے انہیں فارغ کردیا گیا تھا لیکن ان کے بھائی قلاتی نے اپنے بھائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میرے بھائی کو تنظیم سے نکالا گیا تو پھر میں بھی تنظیم میں نہیں رہوں گا اس لیئے وہ بھی 2006 میں ہی تنظیم سے کنارہ کش ہوگئے لیکن اب جبکہ زعمران کو اپنے لکڑی کے گھوڑے کو کھڑا کرنے کیلئے لوگوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے ایسے بھگوڑوں اور سزا یافتہ گان کو جمع کرنا شروع کیا ، حال ہی میں قلاتی کا ایک واقعہ علاقے میں اس وقت کشیدگی کا باعث بنا جب موصوف زبردستی ایک غریب کے گدان میں بندوق کے زور پر گھس کر خواتین پر ہاتھ ڈالنے کا مرتکب ہوئے ، اسی طرح مراد ناڑی بھی ایک سابق کمانڈر رہے ہیں قادر مری کی طرح وہ بھی ایک ایسے علاقے کے کمانڈر تھے جہاں مڈی پڑا ہوا تھا اور انہوں نے وقت ضرورت وہ مڈی دوستوں کو فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس پر اپنے ملکیت کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے مرضی کے بغیر یہ مڈی کسی کو بھی فراہم نہیں کی جائے گی اسی وجہ سے ان کے خلاف تنظیمی ڈسپلن کے خلاف ورزی کے تحت کارروائی چل رہی تھی کے زعمران نے یو بی اے کیلئے ایسے سزا یافتگان روایتی کمانڈروں کو اکھٹا کرنا شروع کردیا ، احتساب کے خوف سے مراد ناڑی بھی یو بی اے میں چلے گئے اور مجرم سے لیڈر بن گئے ، سرفراز بنگلزئی فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں ایک پاکستانی افسر تھے ، ہمیشہ سے وہ دو نمبر کاموں میں ملوث تھے ، وہاں انہوں نے کروڑوں کی کرپشن کی جب نیب میں انکے خلاف کیس چلا تو اسے بھاگنے کیلئے کوئی جگہ نا ملی تو وہ پہلے بی ایل اے کے دوستوں کے پاس آئے لیکن دوستوں نے اسکے مجموعی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مسترد کردیا ، لیکن موصوف بعد میں یو بی اے چلے گئے اور کرپشن کے پیسوں کے زور پر یو بی اے میں ڈائرکٹ کمانڈر بن گئے ، ان کے علاوہ کچھ اور چھوٹے چھوٹے سزا یافتہ کردار بھی ہیں قلات کیمپ میں کمانڈر بننے کا خواہش مند ڈاڈا نامی ایک شخص تھا ، جب وہ کمانڈر نا بن سکا پھر اچانک وہ رات کے اندھیرے میں کیمپ سے ایک علاقائی شخص کو اپنے ساتھ ملا کر کثیر تعداد میں اسلحہ چوری کرکے فرار ہوگئے ، اسی سلسلے میں دوستوں نے انکی تلاش شروع کی تو کچھ دن بعد پتہ چلا کہ موصوف یو بی اے میں چلے گئے ہیں اور وہاں آجکل کمانڈر ہیں ، ایک دو بار جب سامنا ہونے پر وہ دوستوں کے سامنے مورچہ زن
ہوگئے تو لڑنے کے بجائے دوستوں نے بی آر اے کے ایک سینئر کمانڈر مزار کے ذریعے قادر مری کیلئے پیغام بھیجا کہ وہ ڈاڈا کو کہے کہ یہ مڈی وہ واپس لوٹا دے ، اس بات کا گواہ مزار ہیں کہ انہیں قادر مری نے کہا کہ \”اگر یہ اسلحہ بی آر اے کے ہیں تو پھر میں انہیں کہتا ہو وہ واپس لوٹا دے گا لیکن اگر یہ بی ایل اے کے ہیں پھر ان کو نا صرف جواب ہے بلکہ میں کہوں گا کہ ڈاڈا اگر اور بھی چرا سکتا ہے چرائے\” ، اسی طرح تین اور کردار جو اب یو بی اے بھی چھوڑ چکے ہیں حسنین جمالدینی جس پر ایک یونٹ کو اپنے نالائقی سے بکھیرنے کا الزام تھا ، محمود لانگو جس پر ایک شہید کے لواحقین کے پیسے کھانے کا الزام تھا ، سبزل جس پر ڈسپلن کے خلاف ورزی پر کارروائی ہوئی تھی سب یو بی اے میں پہلے چلے گئے لیکن یہ تینوں بعد میں وہاں بھی نا ٹک سکے اور ادھر سے بھی کنارہ کش ہوگئے۔ان سب کے علاوہ بابا مری کا ایک خاموش کردار بتایا جاتا ہے لیکن انہوں نے کھل کر نا کبھی یو بی اے کی حمایت کی اور نا ہی مخالفت لیکن بابا مری تحریک میں احتساب کے قائل نہیں تھے انکا موقف یہ تھا کہ یہ مذکورہ کمانڈران پرانے ساتھی ہیں اس لیئے ان سے جو غلطی ہو انہیں معاف کیا جائے اور احتساب نا کی جائے ، بابا مری تنظیمی معاملات کو قبائلی طرز پر چلانے کے قائل تھے یعنی اگر کسی کے پاس قبائلی اثر سے بھی چار بندے ہوں تو اسے ناراض نا کی جائے کیونکہ انکے پاس بندے ہیں ، یقیناً بابا مری بلوچ تاریخ میں ایک لازوال کردار رہے ہیں لیکن انکا دامن بھی کمزوریوں سے پاک نہیں تھا اور بابا مری کی یہی کمزوریاں زعمران اور ان بھگوڑے کمانڈران کے حوصلے کا سبب بنا۔
یو بی اے کے ان سرکرداوں کا ذکر صرف اسلئے کر رہا ہوں تاکہ اتنا سمجھا جائے کہ یو بی اے ہے کون ، یہ تمام سزا یافتگان کچھ قبائلی حیثیت رکھتے تھے ان کے پاس قبائلیت کے زیر اثر کچھ لوگ تھے لیکن ان میں کبھی یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ تنظیم کو توڑنے کا سوچتے لیکن جب انہیں ایک نوابزادے کا سہاررا ملا تو وہ کھل کر سامنے آگئے ، اب ذرا سوچیں کہ یو بی اے بننے کا جواز آخر کیا ہے ؟ کیا کوئی نظریاتی بنیاد ہے ؟ کیا یہ کوئی انتظامی مسئلہ ہے ؟ یا بی ایل اے نظریے سے منحرف ہوگیا تھا ؟ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے صرف سزا یافتگان ہیں ، لیکن تنظیم کے سزا یافتگان اور نکالے ہوئے لوگ کوئی تنظیم بنائیں تو کوئی مسئلہ نہیں یہ انکا مسئلہ اور مرضی ہے پھر یہ قوم پر منحصر ہے کہ وہ انہیں قبول کرتی ہے یا نہیں لیکن یہاں نا انکی محدود افرادی قوت مسئلہ بنا اور نا ہی یہ بھگوڑا کمانڈران بلکہ یہاں دو ایسے مسئلے اٹھ گئے ہیں جو پورے تحریک کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کو بھی سزا ہوجائے اور وہ سزا یافتگان نکل کر دوسری تنظیم بنا لیتے ہیں تو کیا باقی تنظیموں یا عوام کو اسے تسلیم کرنا چاہئے ؟ اگر ایسا ہوا تو پھر اس تحریک میں ضروری ڈسپلن کون لائے گا ، سب کے دلوں سے سزا کا خوف ختم ہوگا جو دل میں آئے وہ کریں گے ، کسی بھی انقلابی تحریک میں جہدکاروں کے اندر ڈسپلن لانا بہت ضروری ہوتا اور جب جہد کار کے ہاتھ میں بندوق ہو تو پھر ڈسپلن اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ وہی بندوق اگر قوم کیلئے استعمال ہوا تو آزادی لاتی ہے اور قوم پر ہوا تو پھر بربادی لیکن یہاں کیا ہوا یو بی اے کے بننے کے فوراً بعد پورے معاملے سے آگاہی رکھنے کے باوجود بی ایل ایف کے قیادت ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے انکی معاونت اور حمایت شروع کردی ، وہ حمایت کسی اخلاقی جواز کے تحت نہیں تھی بلکہ اسکی وجہ صرف یہ تھی کہ بی ایل اے کے جس مڈی پر انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اس سے کچھ حصہ انہیں مل سکے ، انہوں نے اپنے کیمپ تک کچھ جگہوں پر ایک کردیئے ، اسی طرح براہمداغ اپنے رشتہ داری میں پہلے دن سے لیکر ابتک
زعمران کو سپورٹ کرتا آیا ہے ، ان سب کا جینیوا میں ہاتھوں کی زنجیر بنانا بھی ہمارے سامنے ہے اور ان سب کا زعمران کو نواب بناکر مبارکبادیں دینا بھی پرانی بات نہیں ، اب بات یہاں تک نہیں رکتی بلکہ ڈاکٹر اللہ نظر صاحب مکمل طور پر کمر بستہ ہیں کہ کسی طرح انہیں بی این ایف میں کوئی سیاسی شکل دیکر بھی شامل کیا جائے ، اسی سلسلے میں زاہد کی ان سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج تک یو بی اے نے اپنے قیام کا کوئی بھی واجب سا جواز قوم کے سامنے رکھا ہے ؟ کیا ابتک یو بی اے یا کسی بھی تنظیم نے اس مسئلے پر بی ایل اے کے موقف کو رد کیا ہے یا اسے غلط ثابت کیا ہے؟ پھر کس اخلاقی جواز کے تحت یو بی اے کو تسلیم کیا گیا ، اگر اسی طرح قوموں میں چوروں کو تسلیم کرکے ہیرو بنایا جائے پھر قوم کا انجام کیا ہوسکتا ہے ؟ اگر یہی طریقہ چل نکلا پھر تحریک میں ضروری کنٹرول کیسے پیدا کی جاسکے گی ، کل یہی بندوق اٹھا کر جہدکار کچھ بھی کریں گے اور جب جواب طلبی ہوگی تو وہ یہی عمل دہرائیں گے یعنی احتساب سے بھاگ کر جو اسلحہ ان کے پاس ہے اس پر قبضہ کرکے ایک نئی تنظیم بنالیں گے ، پھر کیا یہاں کوئی بھی انقلابی تنطیم بچ سکتی ہے ؟ کل کو ہر کمانڈر جس کے پاس تھوڑا اسلحہ ذخیرہ ہوجائے تو وہ الگ تنظیم کا اعلان کردے پھر کیا ہم بلوچستان میں وار لارڈز کے ایک اور افغانستان کو جنم نہیں دے رہے ؟
دوسرا مسئلہ جو انتہائی سنگین ہے وہ قومی مڈی کا مسئلہ ہے ، میرے خیال میں اس قومی مڈی کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں قومی مڈی کا تصور کیا ہے ، قومی مڈی سے مراد جنگی سازو سامان ہے ، پہلے دن سے لیکر آج تک موجودہ قومی تحریک میں یہ قومی مڈی کہاں سے آتا ہے اور اسکا ذریعہ کیا ہے کسی کو پتہ نہیں صرف اتنا پتہ ہے کہ سنگت حیربیار اس قومی مڈی کو لانے اور پہنچانے کے بنفس نفیس ذمہ دار ہیں ، وہ یہ مڈی اپنے ذاتی پیسوں سے لیتے ہیں یا اور ذریعوں سے اسکا پتہ نہیں لیکن اتنا پتہ ہے کہ اس وقت بلوچستان میں جو بھی آزادی کا نام لیکر لڑ رہا ہے ان سب کی بنیاد اسی مڈی سے پڑی جس کا بندوبست سنگت کرتے ہیں، اس مڈی کو جائز استعمال کرنے کی خاطر سنگت نے کبھی اس پر اپنے ذاتی ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ اسے قومی ملکیت قرار دیتا ہے حالانکہ باقی جتنی تنظیمیں ہیں وہ اگر کہیں سے اپنے طور ایک موبائل کارڈ بھی لاتے ہیں اسے قومی کے بجائے اپنا تنظیمی ملکیت قرار دیتے ہیں اور اس میں کسی بھی اور تنظیم کو حصہ دار نہیں سمجھتے لیکن بی ایل اے کا پالیسی اس سے برعکس ہے وہ اس مڈی کو قومی قرار دیکر کچھ اصولوں کے تحت تمام جہد کاروں کو بلا تفریقِ تنظیم دیتے ہیں اور اس تقسیم کا ذمہ دار حیربیار بطور شخص نہیں بلکہ بی ایل اے بطورِ تنظیم ہے ، بی ایل ایف کے پاس آج تک جتنا بھی ہتھیار ہے اس کا ذریعہ یہی قومی مڈی رہا ہے ، اسے قومی مڈی کا نام اسلئے دیا گیا تاکہ وہ سنگت کا ذاتی ملکیت ظاہر نا ہو بلکہ ایک تنظیم اور ڈسپلن کے تحت تقسیم ہو اور اسکا حساب کتاب رکھا جائے ، یعنی کل کو اگر سنگت حیربیار خدانخواستہ تحریک سے منحرف بھی ہوجاتے ہیں تو یہ مڈی اسکا ذاتی نا کھلائے بلکہ وہ تحریک کیلئے استعمال ہوتا رہے ، اس کا فیصلہ وہ ذاتی طور پر بھی نہیں کرتے بلکہ بی ایل اے بطورِ ایک تنظیم کرتے ہیں اور اسکے جو پوشیدہ ادارے ہیں وہی کرتے ہیں ، ابتداء میں بی ایل اے کی یہ پالیسی رہی تھی کہ جو بھی آزادی کا نام لیکر میدان میں آئے گااسکی مدد کی جائیگی ، لیکن بعد میں جب یہی مڈی خاص طور پر مکران میں بلوچوں کے خلاف استعمال ہونے لگی تو پھر انہوں نے اس کمک کو مشروط کردیا جس قابلِ ذکر شرط یہ ہے کہ یہ مڈی صرف دشمن کے خلاف استعمال ہوگی ، یعنی بی ایل اے یہ مڈی دوسرے تنظیموں کو رضاکارانہ قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر دیتی تھی وہ قانوناً اس سپلائی کا پابند نہیں تھا اور نا ہی اس میں کسی اور تنظیم کا کوئی حصہ تھا ، علاقائی ساخت اور تحفظ کو مدنظر رکھ کر اس
قومی مڈی کی اکثریت ان محفوظ علاقوں میں رکھی گئی جہاں قادر مری اور مراد ناڑی کمانڈر تھے ، انکا کام انکی حفاظت تھی ، یعنی وہ اس مڈی کے مالک نہیں تھے بلکہ باڈی گارڈ تھے ، جب مذکورہ دونوں اشخاص کو تنظیم کے ڈسپلن کے خلاف ورزی کے پاداش میں نکالا گیا تو پھر از خود انکی یہ ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے اور انکی جگہ یہ ذمہ داری اسی تنظیم کے کسی دوسرے شخص کو دی جاتی ہے لیکن ان مذکورہ اشخاص نے پہلے اس قومی مڈی پر ذاتی حق جتایا پھر اس پر قبضہ کرکے واپس دینے سے انکار کردیا ، اور بعد ازاں وہ یو بی اے بناکر اس میں چلے گئے ، بی ایل اے نے ان سے بطورِ تنظیم مطالبہ کیا کہ یہ مڈی واپس کی جائے لیکن از خود وفود کی شکل میں جانے ، باقی لیڈران کے ذریعے پیغامات بھیجوانے کے بجائے انہوں نے یہ واپس لوٹانے سے انکار کردیا ، تحریک اور تنظیم کا آکسیجن یہی مڈی ہوتی ہے اسی وجہ سے کام میں تعطل بھی پیدا ہوگیا لیکن انہوں نے پھر بھی صاف جواب دے دیا کہ وہ یہ مڈی واپس نہیں لوٹائیں گے ، حتیٰ کے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ بی ایل اے اگر مزید اصرار کرتی تو نوبت جنگ تک آپہنچتی ، آپ ذرا سوچیں دنیا کی کوئی بھی مسلح تنظیم اپنے اسلحہ کے ذخیرے پر قبضے کے خلاف کیا کرتی ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے ؟ حالانکہ طاقت کے زور پر یہ مڈی واپس لیا جاسکتا تھا لیکن خانہ جنگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ابتک بی ایل اے نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، لیڈران کے موقع پرستانہ فطرت سے مایوس ہونے کے بعد یہ تمام باتیں قوم کے سامنے رکھی گئی تاکہ عوام ان حقائق کو جان کر دباو ڈالیں اور یہ لیڈران اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لیں لیکن سنجیدگی سے لینے کے بجائے ادھر سے ردعمل کیا آیا وہ بھی ہمارے سامنے ہے ، ڈاکٹر اللہ نظر تو بغلیں بجانے لگا کہ بی ایل اے تو اب ختم ہوگیا ہے اب تو قوم کا والی و وارث میں ہوں ، براہمداغ جسے من مانی سے کسی حد تک سنگت حیربیار نے روکے رکھا تھا وہ بھی خوشی سے جھوم اٹھا کہ اب روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ، جاوید و نورالدین کے جس منافقانہ پالیسیز کی وجہ سے انہیں کنارہ کش کیا گیا تھا وہ بھی موقع پاکر ان موقع پرستوں سے مل گئے تبھی جنیوا میں ان کا اتحاد بھی سامنے آگیا۔ اس مڈی کیلئے گذشتہ 4 سال سے بی ایل اے کوشش کررہا ہے اور کسی بھی محاذ آرائی کو ٹالتا رہا ہے لیکن اب تک مڈی تنظیم کو نہیں لوٹائی گئی ہے ، اگر دیکھا جائے کہ ڈاکٹر اللہ نظر نے ثناء اور اسکے ساتھیوں سے انکے حفاظت تک کے کندھے کے بندوق چھین لیا اور سب کچھ واپس لے لیا ، کیوں ؟ کیونکہ انکا دعویٰ تھا کہ یہ انکے تنظیم کی ملکیت ہے حالانکہ وہی بندوق بھی بی ایل اے نے ہی فراہم کیئے تھے تاکہ تمام جہد کار اسلحہ سے لیس ہوسکیں لیکن یہاں بی ایل اے کی کل تنظیمی مڈی پڑا ہوا ہے ، پورے تنظیم کا دارومدار اس پر ہے لیکن ادھر کوئی بی ایل اے کا یہ حق تسلیم نہیں کررہا بلکہ مال بٹورنے کیلئے خاموش ہیں ، اگر بی ایل ایف ذاتی حفاظت والے بندوق تک کو ثناء سے چھین سکتا ہے تو پھر کیا بی ایل اے کے پاس حق نہیں کہ وہ اپنے پورے تنظیم کے مڈی کو ان بھگوڑوں سے چھینے ؟
اسی مڈی کو لیکر اب حالات ایک سنگیں رخ کی جانب جارہے ہیں ، پہلے تو یہی گمان تھا کہ یہ مڈی کہیں نا کہیں سے دشمن کے خلاف استعمال ہوگا لیکن جیسا کے میں نے یو بی اے کے ذمہ داروں کی حیثیت اور کردار آپ کے سامنے رکھدیا ہے کہ وہ کس سطح کے بندے ہیں، ان پر شک پہلے دن سے تھا ، اب وہی مڈی دشمن کے بجائے بی ایل اے کے دوستوں کے خلاف استعمال ہورہی ہے ، گذشتہ سال بی ایل اے کے دو ذمہ دار دوست ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں دشمن کا پَر مارنا بھی ناممکن ہے ، وہاں صرف بی ایل اے اور یہ یو بی اے موجود ہیں ، رات کو یہ ذمہ دار کسی گھر میں رکتے ہیں لیکن صبح پتہ چلتا ہے کہ جس راستے سے صبح انہیں واپس جانا تھا اسی راستے پر کسی نے مائن بچھایا ہوا ہے ،
خوش قسمتی سے ایک گدھا چلتے ہوئے اسکے زد میں آگیا تھا جس کی وجہ سے وہ مائن پھٹ گیا تھا ، اس پر یو بی اے سے استفسار ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہم نے بہت پہلے دشمن کیلئے رکھی ہوء تھی ، لیکن جب دوستوں نے کہا کہ رات کو ہم اسی راستے سے گذرے تھے لیکن تب مائن نہیں تھی تو یو بی اے کا کوئی جواب نہیں آیا ، اس کے بعد دوبارہ اسی طرز کا ایک واقعہ رونما ہوا جس میں دوبارہ دوست بال بال بچ گئے ، بات محاذ آرائی کی طرف جاسکتے تھے لیکن دوستوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اب کچھ دن پہلے بی ایل اے کے ایک انتہائی ذمہ دار شخص کے راستے پر اسی علاقے میں یو بی اے نے مائن رکھ دیا تھا جس کے زد میں انکا موٹر سائکل آگیا جس سے وہ ذمہ دار تو محفوظ رہا لیکن اسکا ہمراہ شدید زخمی ہوگیا ہے ، یعنی وہی اسلحہ جو بی ایل اے نے دشمن کے خلاف استعمال کرنے کیلئے محفوظ رکھا تھا آج وہی اسکے خلاف استعمال ہورہا ہے ، اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج یو بی اے ایک کمزور شکل میں دوستوں کے سامنے مائن بچھا رہا ہے کل اگر یہ مضبوط ہوتے ہیں تو پھر وہ اسی اسلحہ کو لیکر دوستوں کیلئے کیا کیا مصیبتیں کھڑی کرسکتیں ہیں ؟ بات یہاں تک نہیں رکتی بلکہ یو بی اے کے ایک سزا یافتہ کمانڈر ناڑی مراد سالوں سے جمع کی گئی اسی اسلحہ کو سستے دام بیچ رہا ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ اسلحہ کتنا ہے اور کتنی تعداد میں کونسا مڈی ہے اسکا علم صرف بی ایل اے کے ذمہ دار دوستوں اور ناڑی مراد کو پتہ ہے ، زعمران اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ناڑی مراد 100 کو زعمران کے سامنے 10 ظاہر کرکے باقی اسلحہ بیچ رہا ہے اور وہ بھی کسی اور کو نہیں ہزار خان بجارانی کو بیچ رہا ہے ، اب آخری اطلاعات آنے تک ناڑی مراد ہزار خان مری سے ملنے بھی گیا ہے اور اسلحہ سمیت ان سے مل جانے کی باتیں بھی چل رہی ہیں ، دوسری طرف زعمران مری بھی علاقے میں اپنے نوابی کو تسلیم کروانے کیلئے نا صرف روس میں مقیم ہزار خان کے بیٹے جمعہ مری سے تعلقات استوار کرچکا ہے بلکہ اس نے ہزار خان مری سے بھی رابطے شروع کردیئے ہیں ، اور اس شک کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ زعمران مری ، مراد ناڑی ہزار خان سے ملکر بی ایل اے کے خلاف کوئی صف بندی کررہے ہیں۔ یو بی اے کے ذمہ داران کے سابقہ ریکارڈ اور موجودہ ہٹ دھرمی کو دیکھ کر یہاں محاذ آرائی کے امکانات تقویت پاتے جارہے ہیں ، لیکن یہاں افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ صرف اس مڈی سے حصہ مانگنے کی خاطر بی ایل ایف اور بی آر اے بھی ان کی پوشیدہ حمایت کررہے ہیں۔
بلوچ قومی تحریک اب ایک نازک موڑ کی طرف جارہا ہے ، اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دو سالوں سے ان تمام رویوں اور صورتحال کے بابت لکھا گیا قوم کو بتایا گیا ، اب یہاں سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ مڈی جسے بی ایل اے نے قومی مڈی قرار دیا ہے اور جس کے تقسیم پر اختیار صرف بی ایل اے کے ذمہ دار اداروں کا ہے اس پر قبضہ کیا گیا ہے اور بد قسمتی سے وہ قبضہ گیر بلوچ ہیں اور دِکھاوے کی حد تک جہد کار ہیں ، اس طرح کے جہد کار جس طرح کسی زمانے میں ہزار خان ہوا کرتا تھا ، اب وہی مڈی نا صرف بی ایل اے کے خلاف استعمال ہورہا ہے بلکہ اسے قوم دشمنوں کو سستے دام بیچا جارہا ہے ، اس حوالے سے جو بھی قبائلی ، روایتی یا انقلابی پرامن طریقے تھے وہ سب اپنائے گئے لیکن ابھی تک مڈی پر ناجائز قبضہ برقرار ہے ، وہی قومی مڈی قوم کے خلاف استعمال ہورہا ، یہاں ایک سادہ سا سوال ابھر کر سامنے آتا ہے اب اس مڈی کو واپس قومی تحویل میں لینے کیلئے بی ایل اے کے پاس کس حد تک جانے کا جواز ہے ؟ کیا اب بھی خاموش تماشائی بن کر اس قومی مڈی کو قوم دشمنوں کے ہاتھوں میں جاتے ہوئے دیکھا جائے ، بی ایل اے کے خلاف استعمال ہوتے ہوئے برداشت کیا جائے یا پھر اسے اب ہر حال میں قومی تحویل میں لیا جائے چاہے جس حد تک جانا پڑے ؟ اگر اس مڈی کو دوبارہ قومی تحویل میں لیتے ہوئے جنگ چھڑ جاتی ہے ، تو اسکا ذمہ دار کون ہوگا ؟ بی ایل اے جو چار سال سے لیڈران سے لیکر عوام تک ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہا ؟ یو بی اے کے بھگوڑے سزا یافتہ کمانڈران جو ناجائز طور پر اس قومی مڈی پر قابض ہیں اور کسی طور واپس کرنے پر راضی نہیں ؟ یا پھر بی ایل ایف ، بی آر اے اور سرفیس سیاسی قوتیں جو اس ہٹ دھرمی میں صرف ذاتی مفادات کی خاطر یو بی اے کی حوصلہ افزاء کرتے رہے ؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0