قومی مڈی کی تشریح۔ تحریر: نودبندگ بلوچ

پیر 20 اکتوبر, 2014

مشہور امریکی ڈاکیومینٹری ساز مائیکل مور کہتے ہیں کہ ” سرمایہ دارانہ نظام میں سیدھے سادھے لوٹ مار کو اتنا پیچیدہ بناکر ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ ایک عام انسان اسے سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے اور اسے معمول کا جائز کاروبار سمجھ بیٹھتا ہے ” ، خیر وہ تو سامراج ہے لیکن ذرا انقلاب ، آزادی ، عوامی قوت ، برابری کے دعویدار بلوچ قومی تحریک کا جائزہ لیں تو صورتحال زیادہ مختلف نظر نہیں آتا ، بات سیدھی سی ہے تحریک کا رخ ایک غلط جانب موڑا جارہا ہے جہاں صرف ناکامی ہے ، اب جب قبلہ درست کرنے کا کہا جارہا ہے تو اسے کبھی پاکستانی عزائم سے جوڑ کر ، کبھی عالمی سازشوں کا حصہ قرار دیکر اور کبھی پتہ نہیں کیا کیا گردان کر انتہائ پیچیدہ بناکر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

یہی صورتحال قومی مڈی کے بارے میں بھی ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے ، دانستہ طور پر اس بابت ابہام اور پیچیدگیاں پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کبھی قومی مڈی کی تشریح کو سمجھے یا سمجھائے بغیرکہا جاتا ہے کہ اگر قومی مڈی ہے تو پھر اس پر پورے قوم کا حق ہے پھر اسے زامران سے واپس لینے کا کیوں کہا جاتا ہے ؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مڈی کو بی ایل اے قومی مڈی گردانتی ہے زامران نہیں ، زامران نے تو اپنے حالیہ انٹرویو میں اس قومی مڈی کو اپنی ذاتی ملکیت قرار دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ بابا مری کے انتقال کے بعد وراثت میں اسے ملا ہے ، اب یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ بی ایل اے نے اس قومی مڈی پر بابا کی زندگی میں کیوں دعویٰ نہیں کیا ؟ میں اسے منافقت کی آخری حد کہوں یا سادہ کو پیچیدہ بنانے کا ہنر مڈل کلاس اور انقلاب کے داعی بی ایل اے کے موقف کو تو غلط کہتے ہیں جو اس مڈی کو قومی قرار دیتی ہے لیکن نواب زامران کیلئے انکی ہمدردیاں ہیں جو اس مڈی کو اپنا ذاتی میراث قرار دیتی ہے یعنی قومی جہد کے داعی قومی پر ذاتی کو ترجیح دے رہے ہیں ، اب اگر کوئ یہاں کیوں؟ کو سمجھنا چاہے تو یہ کوئ راکٹ سائنس نہیں سیدھی سی بات یہ ہے کہ اگر یہ قومی مڈی قرار دی جاتی ہے تو انہیں شاید یہاں سے کوئ ذاتی مفاد پورا ہوتے نا دکھے لیکن اگر یہ زامران کی ذاتی ملکیت قرار پاتی ہے تو انہیں جیبیں ریوڑیوں سے بھرنے کا موقع مل جائے گا ، جہاں تک بات ہے اصول و سچ کی تو شاید وہ چڑیا اڑ چکا ہے ۔ زامران اور مڈل کلاس کے دعویداروں کا یہ موقف سن کر کہ ” بابا مری کے حیات میں قومی مڈی پر دعویٰ کیوں نہیں کیا گیا ” حیرت ہوتی ہے کہ پتہ نہیں یہ خود اتنا بیوقوف ہیں یا قوم کو اتنا بیوقوف سمجھتے ہیں ، بار ہا کہا گیا ہے کہ بابا کی زندگی میں کئ وفود اسکے اور قادر مری کے پاس اس مڈی کیلئے گئے ، اس کے علاوہ بابا کے انتقال سے پہلے ہی اس مڈی پر جتنا لکھا گیا وہ بھی سامنے ہے لیکن ان سب کے باوجود اگر کوئ یہ کہے کہ پہلے اس پر دعویٰ کیوں نہیں کیا گیا تو اسکے عقل پر صرف ماتم کی جاسکتی ہے ۔

جہاں تک بات ہے کہ قومی مڈی کیا ہے اور اس پر کنٹرول کا حق کس کا ہے یہ زیادہ پیچیدہ بات نہیں اور آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ جسے قومی مڈی کہا جارہا ہے وہ زیادہ تر اسلحہ کا وہ ذخیرہ ہے جسے بی ایل اے نے اپنے پیدا کردہ وسائل سے حاصل کیا اور ذخیرہ کرتا رہا ، بی ایل اے کا ہمیشہ سے موقف یہ رہا ہے کہ پارٹی ، تنظیم ، گروہ وغیرہ سب ثانوی چیزیں ہیں اصل مقصد قومی آزادی ہے ، اسی لیئے اپنے پیدا کردہ اس مڈی کو بھی قومی قرار دیتا رہا ہے اور جو بھی تنظیم یا شخص قومی آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے میدانِ عمل میں آیاہے اسے پارٹی وابسطگیوں سے بالا تر ہوکر ہر طرح سے کمک کیا جاتا رہا ہے ، اسکی واضح مثال خود بی ایل ایف ہے بعد ازاں جب یہ مڈی غلط استعمال ہونے لگا بی ایل اے نے اپنی پالیسی تھوڑی سی بدل دی ، انہوں نے اس کمک کو مشروط کردیا ، یعنی کمک کو اس شرط کے ساتھ باندھا گیا کہ کمک کی جائے گی لیکن پہلے اس بات کی گارنٹی دی جائے کہ یہ کمک صرف دشمن کے خلاف استعمال ہوگی اپنے لوگوں کے خلاف نہیں ۔ اب یہاں سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ بی ایل اے نے قومی سوچ کو پھیلانے کی خاطر اپنا پیدا کردہ مڈی قومی قرار دے دیا تاکہ سب کی مدد ہو لیکن اس پر کنٹرول کا حق صرف بی ایل اے کے پاس بطورِ ادارہ ہے کیونکہ اسکا پیدا کردہ بی ایل اے ہے ، جیسے بی ایل اے ایک تنظیم ہے لیکن اسے ایک قومی تنظیم کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے فیصلے قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیئے جاتے ہیں ، یہ فیصلے قومی مفاد میں ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلے بی ایل اے خود بطورِ ادارہ کرتا ہے کوئ میر و سردار جو اس ادارے کا پابند نہیں وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ بی ایل اے تو ایک قومی ادارہ ہے میرا بھی اس پر حق ہے میں اسکے فیصلے کروں گا ، یا اسی طرح بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے والا ایک جہدکار قومی سپاہی کہلاتا ہے ، بی ایل اے کا سپاہی نہیں کیونکہ وہ قومی مفادات کیلئے لڑرہا ہے ، اب وہ قومی سپاہی ضرور ہے لیکن وہ بی ایل اے کے ڈسپلن کے اندر رہتے ہوئے جہد کرتا ہے، بی ایل اے بطورِ تنظیم اسے بتاتا ہے کہ کہاں اور کس طرح جدوجہد کی جائے ، اس قومی سپاہی کو کوئ اور تنظیم حکم نہیں دے سکتا کہ کہاں کیا کرنا ہے ، یہ اختیار صرف بی ایل اے کے پاس بطورِ ادارہ ہے ، یہی صورتحال مڈی کا بھی ہے ، وہ مڈی صرف قومی مفادات کیلئے استعمال ہو اسی لیئے اسے قومی مڈی کہا جاتا ہے لیکن اس پر کنٹرول کا اختیار کہ اسے کہاں استعمال ہونا چاہئے اور کہاں تقسیم صرف بی ایل اے کے پاس ہے ۔ جس طرح بی ایل اے ایک قومی تنظیم ہے لیکن اسکے فیصلے صرف بی ایل اے کرسکتی ہے ، بی ایل اے کا ایک سپاہی قومی سپاہی ہے لیکن وہ پابند صرف بی ایل اے کے ڈسپلن کا ہے اسی طرح بی ایل اے کا پیدا کردہ مڈی قومی مڈی ہے لیکن اس پر اختیار صرف بی ایل اے کا بطور ادارہ ہے ۔ اس ” قومی ” کے تصور کے پیچھے صرف یہ فلسفہ ہے کہ کل کو اگر کوئ جہد کار ، لیڈر شپ حتیٰ کے خود سنگت حیربیار بھی قومی مقصد کو چھوڑ دے تو اس ” قومی تنظیم ” ، ” قومی سپاہی ” اور ” قومی مڈی ” پر انکا کوئ حق نا ہو اور یہ ہمیشہ ” قومی مفادات” کیلئے استعمال ہوتے رہیں۔ اب بی ایل اے اس سارے بے ہنگم موقفوں کو صرف یہ کہہ کر ہوا کرسکتا ہے کہ بی ایل اے نے بطور ادارہ اس مڈی کو اپنے وسائل سے حاصل کیا اس لیئے یہ بی ایل اے کا پارٹی مڈی ہے جیسا وہ چاہے استعمال کرے لیکن بی ایل اے قومی مفادات کو عظیم تر جان کر ایسا نہیں کررہا اور یار لوگ بی ایل اے کے اسی نیک نیتی پر مبنی موقف کو سادہ سے پیچیدہ بناکر لوگوں کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں ۔ ذرا سوچیں کہ اگر بی ایل اے کے ایک سپاہی کو کوئ اغواء کرکے لیجائے اور کہے کہ یہ میرے مرضی کے مطابق کام کرے کیونکہ وہ ایک قومی سپاہی ہے اور میں قوم کا باشندہ ہوں تو پھر کیا وہ اپنے اس موقف میں حق پر ہے ؟ کیا ” قومی ” کا یہ تشریح جائز ہے ؟ یقیناً ہرگز نہیں ، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ زامران مری سمیت مڈل کلاس کے داعی بضد ہیں کہ ہم یہ یقین کریں کہ قومی سپاہی کا وہ اغواء جائز تھا کیونکہ وہ قومی ہے اور اگر وہ اس قومی سپاہی سے قومی جنگ کے بجائے چوری چکاری کا کام لےبھی تو جائز ہے ۔

قومی مفادات اور قومی مقصد کے آگے نواب خیربخش مری ہو یا نواب زامران یا پھر سنگت حیربیار انکی کوئ حیثیت نہیں ، یہ قومی مڈی ان میں سے کسی کی بھی ذاتی ملکیت نہیں ہے ، یہ قومی مڈی ہے اور اس پر قوم کے ہر اس شخص کا حق ہے جو قومی آزادی کیلئے لڑنا چاہتا ہے لیکن اس کو بی ایل اے نے اپنے پیدا کردہ وسائل سے حاصل کیا ہے، اسلیئے اس پر کنٹرول کا اختیار بی ایل اے کے پاس بطورِ ادارہ ہے ، اسی طرح اگر یہ بی ایل ایف یا بی آر اے کے وسائل سے حاصل ہوتا تو پھر اس پر کنٹرول کا اختیار انکے پاس ہوتا، لیکن دوسری طرف انکی حالت زار دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے وسائل اور ان سے حاصل کردہ مڈی کو قومی ماننے سے ہی انکاری ہیں وہ انہیں اپنا پارٹی مڈی کہتے ہیں ۔ جہاں تک بات ہے یو بی اے کا تو یو بی اے ان لوگوں کی جماعت ہے جو ڈسپلن کے خلاف ورزی پر احتساب کے عمل سے گذر کر سزا پاچکے ہیں اب وہ بی ایل اے کا حصہ نہیں ہیں ۔ وہ نکل کر کسی بھی نام سے کوئ تنظیم بنائیں یا کسی اور تنظیم میں جائیں یا خاموش ہوکر بیٹھ جائیں اب نا بی ایل اے کے فیصلوں پر انکو اختیار حاصل ہے نا وہ بی ایل اے کے ایک سپاہی کو کوئ حکم دے سکتے ہیں اور نا ہی بی ایل اے کے پیداکردہ مڈی پر انکا کوئ حق ہے ۔ اب ٰیہاں بات کو سادہ کرکے صرف ایک چیز سمجھی جائے کہ اگر یہ سزا یافتگان ، قومی کا نعرہ لگا کر بی ایل اے کے فیصلے کرنے لگیں ، قومی کا نعرہ لگاکر بی ایل اے کے ایک سپاہی کو اغواء کرکے اس سے کام لینے کی کوشش کریں یا قومی کا نعرہ لگا کر مڈی پر قبضہ کریں تو کیا انکا موقف جائز ہے ؟ اور پھر بی ایل اے کے پاس دفاع کا کس حد تک حق ہے ؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0