لالا صدیق سے وابسطہ کچھ یادیں،تحریر:وارث بلوچ

جمعرات 8 فروری, 2018

کسی محفل میں بیٹھے دوستوں سے سن رہا تھا کہ جب مری قبیلہ نواب مری کے ہمراہ افغانستان سے واپس آئے تو بی ایس او اور دیگر بلوچ سیاسی پارٹیوں کے کامریڈز ہفتے میں ایک بار ضرور مری کیمپ کا رخ کرتے تاکہ واپسی پر دوستوں کے ساتھ فخریہ انداز سے حال احوال میں مری کیمپ دورے کا ذکر کرے۔ کیونکہ وہاں جانا ہر بلوچ نوجوان اپنے لئے شرف سمجھتا تھا۔ نوجوان اکثر یہ کہتے ہوئے دیکھے جاسکتے تھے کہ آج میں نے مری کیمپ کا دورہ کیا، گویا وہ ڈاکٹر چی گویرا، فیڈل کاسترو، لینن ، ماوزے تنگ سے مل کر آئے۔ لیکن میں ان نوجوانوں کی باتیں سن کر حیران رہتا کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے نوجوان ان ، ان پڑھ ، مالی حالت میں بے حال، سخت ترین سردی میں ایک قمیض پر گزارا کرنے والے اور چھت سے محروم ان مریوں سے کیا سیکھنے جاتے ہیں؟ وقت گزرتا گیا، دشمن ریاست نے نیوکاہان میں اپنی بربریت اور وحشت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردی۔ آئے روز چھاپے، گرفتاریاں، اور تشدد روز کا معمول بن گیا۔ جنرل مشرف نے مری قبیلے کو نیوکاہان سے بے دخل کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، اپنے لے پالک مقامی لینڈ مافیا سے لیکر ہر طریقہ کار اپنایا لیکن اہلیان نیوکاہان کے مصمم ارادوں کے سامنے ناکام رہا پھر سمجھ میں آنے لگا کہ کوئٹہ کے گرم ہیٹروں کے پاس بیٹھنے والوں سے ریاست کو سردی ، بھوک افلاس اور تعلیم سے محروم مریوں سے کیوں اتنا زیادہ چڑ ہیں ؟

یہ بلوچ تحریک کے چنگاری تھے جو آج شعلوں میں بدل کر پورے بلوچستان میں پھیل گئےہیں۔ ریاست کو معلوم تھا ان لوگوں نے اپنی مستقبل، اپنا مال و دولت اور اپنی پوری زندگی بلوچ تحریک آزادی کے لئے داو پر لگادی ہے اور ان کا خاتمہ یا انہیں کمزور کرکے ہی اس چنگاری کو دبا سکتا ہے لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی۔
جنرل مشرف کے دور حکومت میں ایک مری دوست نے اردو زبان میں تحریر ایک اشتہار چھاپنے کےلئے کہا ، جو ریاستی اداروں کے اس اشتہار کا جواب تھا جس میں اہلیان نیوکاہان کو علاقہ چھوڑنے کے لئے دھمکایاتھا۔
کوئٹہ کی یخ بستہ صبح سردی سے ٹھٹھرتا ایک مری لڑکا ہاتھوں میں کچھ پمفلٹ لئے کوئٹہ کچہری میں، وکلا، اوردیگر لوگوں میں بانٹ رہا تھا، کوہ چلتن کے دامن میں آباد نیوکاہان المعروف مری کیمپ شہدا بلوچستان کی قبرستان اور بابا مری کی مزار کی وجہ سے بلوچوں کے لئے ایک اہم علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔
“آپ کی عدالت میں” کے عنوان سے لکھا گیا یہ اشتہار کافی دلخراش اور رونگھٹے کھڑا کردینے والا تھا۔ ہم نے سوچھا اسے کوئٹہ کے تمام مقامی اخبارات میں چھاپنے کےلئے دیں گے۔ روزنامہ آساپ، روزنامہ آزادی، روزنامہ توار کے علاوہ روزنامہ جنگ، مشرق وغیرہ تمام نے اسے چھاپنے سے انکار کردیا۔

ہم نے آساپ انتظامیہ سے بات کی انہوں نے فوراً اسے چھاپنے کی حامی بھرلی ، اور اس کے بعد ہم روزنامہ آزادی کے آفس گئے ، جہاں دفتر کے بالائی حصے میں لالا صدیق بلوچ کا رہائش بھی تھا۔ صبح کے وقت لالا کے صاحبزادہ آصف بلوچ ہم سے ملنے آئے، ہم نے اشتہار کی ایک کاپی ان کے سپرد کردی، اور اسے اگلے روز کے ایڈیشن میں چھاپنے کی درخواست کی۔ اس کے عیوض انہوں نے ہم سے سات ہزار روپے ادا کرنے کا کہا۔ ہم نے وہ رقم ان کے حوالے کردیا۔
اگلے روز صبح اشتہار روزنامہ آزادی، روزنامہ توار اور روزنامہ آساپ میں چھپی، ہم چائے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آصف بلوچ کا کال آیا اور ہمیں دفتر میں ملنے کو کہا۔ ہم وہاں پہنچے تو آصف صاحب آئے اور پیسے واپس کرتے ہوئے کہا کہ لالا صدیق نے مجھ سے کہا کہ ہم مری دوستوں سے کیسے پیسے لے سکتے ہیں، آج وہ مشکل میں ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بعد سے ہم سے جو کچھ ہوسکا ہم حاضر ہیں۔ اس دن کے بعد سے ہمارا متواتر لالا صدیق، آصف بلوچ اور دیگر دوستوں سے ملنے کا سلسلہ جاری رہا۔

لالا صدیق میں بلوچیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، انہوں نے ریاست کے تمام تر دباو اور اشتہارات سے محروم کردیئے جانے کے باوجود بلوچ اور بلوچستان بابت ہر وقت حق گوئی کا دامن نہیں چھوڑا۔

بلوچ قومی مسئلے پر بے باک تبصرے اور تجزیوں کی پاداش میں روزنامہ آزادی ، روزنامہ توار اور بلوچ پرست اخبارات و رسائل خصوصی طور پر ریاستی اداروں کے زیر عتاب رہے۔ بی ایل ایف کی حالیہ ناکام بائیکاٹ پر بھی بلوچ صحافیوں اور اخبارات نے ذمہ دارنہ کردار ادا کیا، انہوں نے بلوچ تنظیم کے ان بچگانہ حرکتوں پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچوں سے گلہ کیا۔ لالا صدیق بلوچ نے بی بی سی کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں بھی محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے بیلینس رپورٹنگ کی۔

روزنامہ آساپ کی ظہور کے وقت اکثر نوجوان روزنامہ آزادی کی بلوچستان سے متعلق مضامین نہ چھاپے جانے پر نالاں بھی نظر آئے، یاد رہے روزنامہ آساپ نے بلوچ نوجوانوں کو بلوچ و بلوچستان سے متعلق کھل کر لکھنے کی دعوت دی تھی، اس تنقیدی دور میں روزنامہ آساپ نے ہر وہ مضمون چھاپا جو دوسرے نہیں چھاپ سکتے تھے لیکن ان کی اس کاوش حکومت پاکستان کو پسند نہیں آئی، ان کے مدیر جان محمد دشتی کو کوئٹہ میں قاتلانہ حملے میں زخمی کردیا گیا۔ تحریک آزادی سے جڑے نوجوان ، تجزیہ نگار اور مبصرین نے لکھنے کا سلسلہ ترک نہیں کیا، روزنامہ “توار”شروع سے آج تک میدان کارزار میں ڈٹا ہوا ہے۔ تمام تر ریاستی اشتہارات سے محرومیت کے علاوہ درجنوں نظریاتی سینئر رپورٹروں اور کارکنوں کو حق گوئی کی راہ پر قربان کرنے والا توار آج بلوچ قومی آواز بن کر ابھری ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ بلوچ صحافت زیادہ تر ایک دوسرے سے تعاون کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ بلوچ میڈیا سے وابسطہ ذمہ دار طبقہ نے ہمیشہ بلوچ قومی ورثے کی حفاظت کی۔ بے شک لالا صدیق ان میں سے ایک بڑے قد آور نام ہیں۔
لالا صدیق بلوچ نواب خیربخش مری کے ساتھ حیدر آباد سازش کیس میں جیل میں بھی رہے ہیں وہ بلوچ رہنما بابا خیربخش مری سے کافی رابطے میں تھے۔ میں نے مدیر “روزنامہ آزادی” سے کئی بار نجی محفلوں میں بلوچ تحریک بابت پر امید پایا۔ وہ ہر وقت اپنے جیل کے قصے، زندگی میں پیش آنے والے سخت حالات کے روداد سنایا کرتے تھے۔ لالا جیسا مدبر اور قوم دوست صحافی صدیوں پیدا ہوں گے۔
ہمیں امید ہے کہ لالا صدیق بلوچ کے زیر اثر تربیت پانے والے نوجوان صحافی ان کی صحافتی میراث کا لاج رکھتے ہوئے بلوچ قومی مسئلے کو یوں ہی ذمہ دارانہ انداز سے آگے بڑھاتے ہوئے بلوچ قوم کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ ہم سب کو اچھی طرح سے علم ہے کہ اس وقت بلوچستان آہن و آتش سے گزر رہا ہے، ہر سوں لاشوں کا انبار، ریاستی توپوں اور بمباریوں کی گھن گرج اور شہر، شہر نگر، نگر گرفتاریوں ، مسخ شدہ لاشوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اس گھمبیر ترین صورتحال میں، قابض پاکستانی فورسز کے سایے میں رپورٹنگ کرنا کوئی آسان کام نہیں ! ہم بلوچ صحافیوں اور بلوچ میڈیا کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں ہم سب کو اس کھٹن حالات میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہیں۔ ایک آزاد، خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان سے متعلق شعور و آگاہی پیھلانے کے لئے میڈیا کا متحرک رہنا انتہائی ناگزیر ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0