لاپتہ اسیران وشہداء کے لواحقین عید الاضحی پر پریس کلب کوئٹہ سے ریلی نکالے گی ۔ماما قدیر

جمعرات 2 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1743دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں سول سوسائٹی اور وکلاء برادری نے لاپتہ بلوچ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ سال وومن یونیورسٹی کی بس پر حملہ جس سے بلوچ طالبات کی شہادت تمپ میں شہناز بلوچ پرحملہ کاہان میں گلناز مری کی شہادت بانک زرینہ مری کی ریاستی عقوبت خانوں میں موجودگی بلوچ طلباء وطالبات کی چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کے گھر پر راکٹ حملے یہ واقعات ہیں جن کی کڑیاں آپس میں ملانے سے باولے درندوں کا پتہ دیتی ہیں وہ درندے جو ہمارے بھائیوں کی لاشوں کو مسخ کرکے میدانوں جنگلوں اور پہاڑوں پر سر اور دل پر گولی ماردینے کے بعد پھینک رہے ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عید عالم اسلام کیلئے خوشی کا ایک تہوار ہے جس میں لوگ اپنی زندگی بھر کی بھول بھلیوں اور نفرت وکدورت اور ایکد وسرے کے درمیان پیدا ہوانے والی ن اراضگی اور غلط فہمیوں کو ختم کرکے زندگی کو نہ صرف پہلے سے شروع کیا جاتا ہے بلکہ غم کو ہمیشہ کیلئے بھلا کر ایک دوسرے کے آنسو پونچھ کر خوشی مسرت کااظہار کیا جاتا ہے عید پر ہر طرف رنگینیاں ہی رنگینیاں کی ہوتی ہیں ہسنتے چہرے چمکتی آنکھیں مسکراتے ہونٹ اور زرق برق کپڑوں میں ملبوس بچوں کے چہروں پر خوشی کے رنگ دیدنی ہوتی ہے جو ایک زندگی کی دلیل ہوتی ہے عید پر عالم اسلام خوشی مناتے ہیں لیکن افسوس اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے بلوچ قوم آج اسلامی ریاست پاکستان کے مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے فرزندوں کی شہادتوں اور گمشدگیوں پر عید منانے سے یکسر محروم ہے گذشتہ پانچ سالوں پاکستان خفیہ اداروں اور فوج کی دہشتگردانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے بلوچ قوم نے عید منانے کا رواج مکمل طور پر ختم کردیا عید پر جہاں عالم اسلام عید مناتا ہے اور خوشیاں بانٹتا ہے وہاں بلوچ قوم اسی روز ماتم اور سوگ مناتے ہیں ریاستی اداروں کا عید پر لاشیں دینے کا سلسلہ گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے لاپتہ اسیران وشہداء کے لواحقین اپنے پیاروں گمشدگی وشہداء کے غم ہر سال کی عید کی طرح اس عید الاضحی پر پریس کلب کوئٹہ سے ریلی نکالی جائے گی ہر گمشدہ افراد شہداء کے ماں باپ بہن بھائی اور بچے اپنے پیاروں کی کمی کا در د آئیں اور سسکیاں دل میں لئے اور آنسوں آنکھوں میں لئے کس طرح عید منائیں جنہیں اس ریاست کے کرتا دھرتا ؤں نے ان سے چھین کر شہید ولاپتہ کردیا ہے پوری دنیا عید کی خوشیاں منانے میں مصروف ہے لیکن بلوچستان کے لاپتہ وشہداء کے لواحقین عید کے پرمسرت دن موقع پر بھی سوگ مناتے ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے تمام وطن دوست تمام پارٹیز اور طلباء تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر عید کی طرح 6اکتوبر بروز پیر دوپہر دو بجے پریس کلب کوئٹہ سے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین ایک ریلی نکالیں گے جس میں تمام مرد خواتین سے گذارش ہے کہ انسانی حقوق کی بنیاد پرشرکت کریں اور لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین کے غم میں شریک ہوں اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی بلوچ قوم امیدیں لگا بیٹھی ہیں کہ آج بلوچستان میں ہر گھر میں اپنے پیاروں کی عدم بازیابی پر صف ماتم بچھ چکی ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0