لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1738دن ہوگئے

جمعہ 26 ستمبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1738دن ہوگئے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین کے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں نیشنل پارٹی کے سینئر اور مرکزی عہدیدار میر عبدالغفار قمبرانی اپنے وقت کے ساتھ لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مالک نے پہلے بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوشش کرتا رہا ہے اور ابھی لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوشش میں لگا ہوا ہے یہ مسئلہ بہت جلد حل ہوجائیگا اور ہر ماں کی گودہر یالی ہوگی ہم پرامید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوگا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور بلوچ فرزند کے اغواء میں بھی تیزی لائی گئی ہے جس میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ بلوچستان م یں ان کے پیداکردہ گماشتے بھی قبضہ گیر سے خوب اپنی وفاداریاں نبھا رہے ہیں ایک طرف پاکستانی گماشتے اور زرخرید قاتل بلوچ کا قتل عام کرنے میں اپنے قدم تیز کرچکے ہیں تو دوسری طرف نام نہاد قوم پرست کے دعویدار بلوچ عوام اور عالمی ادنیا میں ابہام پیدا کرنے اور بلوچ عوام میں اپنی ختم ہوچکی ساخت کے بدلے میں پاکستان سے مراعات حاصل کرنے کیلئے پاکستنای اداروں کے ہمقدم بن چکے ہیں جبکہ پاکستان کے حمایت یافتہ سمگلر اور قاتل گروہ خضدار وڈھ مشکے آواران تربت مکران قلات مستونگ ڈیرہ بگٹی کوہلو سمیت بلوچستان بھر میں قومی تحریک پسندوں کو اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر ان کا قتل عام کررہے ہیں جبکہ چوری ڈاکہ زنی اغواء برائے تاوان جیسے جرائم پیشہ کارروائیاں کرکے عوام میں خوف وہراس پھیلانے اور انہیں قومی تحریک سے دور رکھنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ قومی تحریک کے رہنماؤں اور نوجوانوں کی شہادتوں اور ہزاروں فرزندوں کی عقوبت خانوں میں سہنے والی اذیتوں اور محاذ پر سرمچاروں کی قربانیوں نے بلوچ قوم کو اپنے مقصد کیلئے عزم اور قربانی کا مضبوط جذبہ فراہم کیا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0