لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی کراچی میں 1857ویں دن بھی ہڑتال جاری

جمعہ 9 جنوری, 2015

کراچی(ہمگام نیوز) کراچی میں لاپتہ بلوچ اسیران ، شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1857دن ہو گئے ۔اظہار یکجہتی کرنے والوں میں جسقم کے سنیئر ممبر ایڈووکیٹ شجاعت کورائی اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ افراد ، شہیداءکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی اور جسقم کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایااور اُنہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1973 کا اقوام کش آئین بناکر مظلوم قوموں کو یرغمال بنالیا اس لئے سندھ کے عظیم رہنما ورہبر سندھ سائیں جی ایم سید نے کہا تھا کہ اب پاکستانی پارلیمنٹ پنجاب کی اُنگلیوں پرناچنے والی کٹھ بن گئی ہے، جوآج تک فوج کے سامنے ناچتی ہے جہاں پرقوموں کے جمہوری حقوق لینا سائے کو پیٹنے کے برابر ہے ۔ اس لئے آج ہم دنیا کو ایک مرتبہ پھر یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آپ کسی قسم کی غلط فہمی اور خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت آگئی ہے اور مظلوم قوموں کا قید خانہ کثیر القومی پاکستانی ریاست اب سدھر کر مہذب بن گئی ہے ۔ بلکہ یہ کہ ریاست عالمی دہشت گردی کاسلطان اور طالبانائزیشن کی نگہبان بن کراُبھر کرآئی ہے ۔اس ریاست میں پاکستان نام کے قومی قید خانے کی سرحدوں کے اندر یہ نہ صرف مظلوم اقوام کو جکڑ کر قید کیاہوا ہے بلکہ ایک طرف پاکستانی سامراجی ذہنیت نے سندھی اور بلوچ مظلوم اقوام کا بے رحمانہ استحصال کرنے کے لئے مظلوم اقوام کو سیاسی اقتصادی اور جغرافیائی طور پر غلام بنارکھا ہے ۔وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ سمی بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسری طرف پوری دنیا میں مذہبی جنونیت قتل وغارت گری فسادات اور بیگناہ بلوچوں ،سندھیوں کامذہب کے نام پر خون بہانے کے لئے دنیا کے کئی ملکوں میں مذہبی نیٹ ورک بچھانے کی سنگین حرکتوں اور سازشوں میں مصروف عمل ہے۔ بلوچ نوجوان طلباء،ڈاکٹرز ،انجینئرز ،سیاسی کارکن، ریاستی زندانوں میں لاپتہ افراد شہد اءکی غم و الم میں گذر گئی۔ پورا بلوچستان ماتمی ہے ، ریاستی جبر کارونا اپنی جگہ ،قدرتی جبر کے سائے بھی بلوچ قوم کا پیچھا چھوڑنے سے رہے ۔ لیکن سدآفرین بلوچ قوم کی جذبہ وایمان کو جو شعوری پختگی کے منازل طے کررہے ہیں اور ہردو معاذوں کا مقابلہ کرنے کی سکت وہمت رکھتاہے ،بلوچ کٹ رہا ہے ۔مررہاہے، لیکن اپنی شناخت وتشخص کے بیرک کو سدا بلند رکھے ہوئے ہیں۔ جوشہداءکی قربانیوں کے ثمرات ہیں ،ریاست نے مشکے آواران سمیت دیگر علاقوں میں بھی اپنی آپریشن وبربریت کے سلسلے پھیلادیئے ہیں ۔ ہزاروں لوگ ریاستی جبر، گولہ باری سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ بلوچ قوم غلامی کی وجہ سے ان سارے مصائب ومشکلات کا شکار ہے۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ 3جنوری کوکراچی میں تین تلوار کلفٹن سے ایک بلوچ طالب علم دیدگ خالق بلوچ کو چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا جو کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلا م آباد میں زیر تعلیم ہیں خفیہ ایجنسیوں نے چھاپے کے دوران تمام اہل خانہ کے موبائل فونز بھی ضبط کرلئے اور اُنہیں زدوکوب بھی کیاجس کی وجہ سے دیدگ خالق بلوچ کی والدہ کی طبیعت شدید خراب ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ روز بالیچہ کے اپنے بہن کی شادی میں شرکت کےلئے دُبئی سے آنے والے نوشیر بلوچ ولد عطاءمحمد کو بھی ایف سی چیک پوسٹ گھنہ سے گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں تاحال پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0