لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1727دن ہوگئے

پیر 15 ستمبر, 2014

کوئٹہ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1727دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں آواران سے سیاسی کارکن میر الٰہی بخش درا خان جاڑک اور ان کے ساتھیوں نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ پاکستان کے سابقہ آرمی چیف نے کہا تھا کہ بلوچستان میں آئندہ کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا فوج کو واپس بلالیا ہے یہ باتیں انہوں نے میڈیا پر آکر بتائی بلوچستان میں فوج کی خونی ہولی اور آپریشن گذشتہ 67سالوں سے جاری ہے تاہم اس میں شدت اس وقت آئی جب پاکستان میں بدیسیوں گواد،میں آباد کرنے کا کہا تو بلوچوں کے انکار پر پاکستان اور اس کے فوج کیلئے زخم پر نمک پاشی ہوئی اور ان کے ہوش اڑ گئے پھر انہوں نے ہوش کا دامن چھوڑ کر بلوچ کے خلاف ادھم مچانا شروع کیا بچھرے اونٹ کی طرح ہر بلوچ کو دبوچنے لگا بلوچ چیختے چلاتے رہے بے حس عالمی دنیا تماشا دیکھتی رہی ہر طرف بلوچوں کی خون سے لت پت لاشیں انسانیت کے ضمیر کو جھجنجھوڑ تے رہے مگر تہذیب یافتہ دنیا ٹس سے مس نہ ہوئی اور ان کے لواحقین پاکستان اور اس کے فوج کے بارے آگاہی مہم شروع کردیں انہوں نے چیخ چیخ ککر اپنے پیاروں کے مسخ ڈرل شدہ غرض پاکستان کی ظلم بربریت کی ہر وہ تصویر ثبوت سیسی پی فوٹوز عدالت سمیت انہیں پیش کرتے رہے اور ب تایا کہ نہ صرف پاکستان کے آرمی ایف سی ایجنسیز جبکہ ان کے قائم کردہ مقامی ڈیتھ اسکواڈ ز جن کا تعلق  رہزن ڈاکو ڈرگ مافیا لینڈ لینڈ مافیا کے گروہ پر مشتمل ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بات یہاں نہیں رکھتی ان مقامی ڈیتھ اسکواڈ کو ایف سی اور ریاست نے اس حد تک بھی آزاد چھوڑ رکھا ہے کہ تم لوگ اپنے اخراجات بھی بلوچستان کے غیور باسیوں سے پورا کرلو اس کی واضح مثال خضدار ڈیرہ بگٹی کو ہلو کاہان کی ہے جہاں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے د و وقت کی روٹی کمانے والی شہری تو اپنی جگہ عوام کے ان مسیحاوں کو بھی نہ ب خشا گیا جوکہ لوگوں کو ایک نئی زندگی دینے کی خاطر ان کے علاج میں مصروف تھے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0