لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1746دن ہوگئے

اتوار 5 اکتوبر, 2014

 لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1746دن ہوگئے
شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بی این ایم منگچر کے وفد کی لاپتہ افراد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1746دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بی این ایم منگچر ہنکین کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ باقی اداروں کی طرح سپریم کورٹ بھی پاکستان کا ایک ادارہ ہے اور سپریم کورٹ کو بلوچستان پاکستان سے عزیز تر نہیں ہے وہ جو کچھ بھی کررہا ہے پاکستان بچانے کیلئے کررہا ہے جو ایک گیم ہے دنیا کو یہ دکھانے کیلئے کہ پاکستانی ادارے بلوچوں کے ساتھ مخلص ہیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر دنیا پاکستان پر جو دباﺅ ڈال رہی ہے پاکستانی سپریم کورٹ اس دباﺅ کو کم کرنے کی تگ ودو میں ہے اگر پاکستانی عدلیہ جو بھی کرتی ہے خفیہ اداروں کی ایماءپر ہی کرتی ہے انہوںنے مزید کہاکہ آج بھی ذاکر مجید بلوچ زاہد بلوچ ڈاکٹر دین محمد بلوچ غفور بلوچ صادق جمالدینی سمیت ہزاروں بلوچ فرزند اغواءکئے گئے ہیں وہ پتہ نہیں کس حال میں ہونگے اور کیسی کیسی اذیتیں سہہ رہے ہیں ان کی مائیں کس حال میں ہیں ان کی حالت کو وہی ماں جانتی ہے جس کا بیٹا زنددان میں ہو انہوںنے کسی کی چوری نہیں کیا اور نہ ہی انہوںنے کسی کا گھراجھاڑا دیا ہے وہ تو اپنے حق کیلئے زندانوں میں بند ہیں لیکن پانچ سال سے کیسز چل رہے ہیں مگر اعلیٰ عدالتیں خاموش ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سابقہ چیف جسٹس چوہدری نے صرف آرڈر کرتے تھے مگر بااختیار لوگ اپنی وردی پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے مگر سپریم کورٹ نے توآرڈر پاس کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اور یہ کہہ کر اپنا اصل روپ ظاہر کردیا کہ ایف سی کے خلاف فیصلہ دینا چاہتے اور اپنے عبوری حکم نامے میں سابق بلوچستان حکومت کو نااہل قرار دے دیا کہا گیا چیف جسٹس کا وہ واویلا کہ آسمان گرے یا پہاڑ ٹوٹے لاپتہ افراد کو بازیاب کراکے رہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0