لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1751دن ہوگئے

جمعرات 9 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں مستونگ سے سیاسی وسماجی کارکنوں میں میر پسند خان بلوچ کی سربراہی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ قبر میں ٹانگ لٹکائے ریٹائرڈ فورسز کے اعلیٰ آفیسران ان گندے سیاست دانوں کے مکروہ روپ میں عوام کے سامنے لارہے ہیں یہ اور بات کہ اس کوشش میں وہ خود مکمل ننگے ہوکر عوام کے سامنے آچکے ہیں پاکستان کا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا چند 90-80سالہ فوجی آفیسران کے ذریعے عوام کو انکشافات کے نام پر وقت کے پروگرام دکھا رہے ہیں مگر اس میڈیا کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ عید کے دن لاپتہ افراد شہداء کی ریلی میں وقت نکال کر آجائیں یا بلوچستان کے معاملات پر بلوچ نوجوانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم اور بلوچ خواتین پر اٹھائے جانے والے ہاتھوں کو بے نقاب کرسکیں کہ یہ سب کون اور کس کی ایماء پر ہورہا ہے میڈیا اپنا کردار ادا نہیں کررہا ہے ناظم آباد لالو کھیت لاہور انارکلی ،بازار میں کسی خاتون یا بچے کے ساتھ زیادتی ہوجائے کندے سے کندھا ٹکرا جائے یا لاہوں میں بکری بچہ تو یہ میڈیا آسمان پر سرا اٹھالیتا ہے مگر بلوچستان کے معاملے پر چپ سادہ کا روزہ رکھے ہوئے ہہیں یا پھر محض چند ٹی وی شو میں بے مقصد اور بوگس موضوعات پر بات کی جاتی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نام نہاد قوم پرست بلوچستان میں حالات اور ہوا کے رخ کو پہچان لین اور اپنوں میں لوٹ آئیں ایک مذمتی بیان جاری کرنے سے کام نہیں چلے گا وہ بات خود ہم سے بہتر جانتے ہیں ماما نے مزید کہاکہ ہمیں شکوہ تو چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ سے بھی ہے کہ وہ بلوچستان میں روزانہ اغواء نما گرفتاریوں ماورائے عدالت قتل فورسز کی قانون کو بوٹوں تلے روند کر بلوچچ عوام کو سبق سکھانے کی روش پر کوئی نوٹس نہیں لے رہا خدا راہ اس طرف توجہ دیجیئے چیف جسٹس انصاف سستا ہے ہر ایک کی اس تک رسائی ہے مگر یہ تو صرف کتابی باتیں ہیں آج بلوچستان کے عوام سوالیہ نشان ہیں کہ کیا روز روز ریاست کے ہاتھوں ان کے جوانوں کو اغواء ان کے قتل ماؤں بہنوں بیٹیوں،کے سر سے چھینی جانے والی روا انہین تشدد کرکے لہو لہان کردینے والے اسلحہ سے لیس قانون کے محافظ کیا یہ سب کچھ پیٹرول چینی کے معاملات سے بھی غیر اہم ہے کہ اعلیٰ عدالت بلوچستان کے معاملے پر کیوں خاموش ہے آخر کیوں ؟جو کچھ ہو چکا ہے جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے جارہا ہے اس کی ذمہ داری جہاں وفاقی وصوبائی حکومت پر ہے وہاں اس کی ذمہ داری اعلیٰ عدلیہ پر بھی عائد ہوگی ۔۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0