لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1752دن ہوگئے

جمعہ 10 اکتوبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1752دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بی این ایم شال ہنکین کا ایک وفد بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں بلوچ مزاحمتی آگ کو مزید بھڑکانے میں دھونکنی کا کردار ادا کررہی ہے اور ایک چابک ثابت ہورہی ہے جو بلوچ قومی تحریک کی رفتار کے گھوڑے کو مزید تیز کررہا ہے کیونکہ ہر سیاسی رہنماءوکارکن اور کسی بھی بلوچ شہادت گرفتاری گمشدگی اور دیگر کار روائیوں کے خلاف بلوچ کا شدید رد عمل دیدنی ہورہا ہے اور یہ سلسلہ فورسز کی کارروائیوں میں آنے والی شدت کیساتھ ساتھ تیزی اور وسعتت وگہرائی اختیار کررہا ہے جس کااظہار بلوچستان کے طول وعرض میں سیکورٹی اداروں کی کارروائیوں کے رد عمل میں ہونے والے مظاہروں ریلیوں کی صورت میں نمایاں ہورہی ہیں جبکہ موجودہ صورتحال میں مکران کے تیور سب سے زیادہ بگڑے ہوئے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں فورسز کی جانب سے سیاسی رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت بلوچوں کو بلا تخلیق قتل وتشدد کا نشانہ بنانے گرفتاریوں وگمشدگیوں اور چادر وچاردیواری کی پامالی اور آپریشنز کی اطلاعات وشکایات کافی بڑھ گئی ہیں اور مختلف سانحات رونما ہورہے ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کا اصل مسئلہ امن وامان نہیں ہے جیسا کہ حکمران بنا کر پیش کررہے ہیں بلکہ بنیادی تنازعہ بلوچ قومی سوال ہے جو تاریخی حقائق اور حکمرانوں کی طرز حکمرانی کے تناظر میں ایک نوآبادیاتی مقام کا حامل ہے جس کا وہی حل درست ہوسکتا ہے جو اس نوآبادیاتی سوال کی بنیادوں کے خاتمے اور بلوچ قوم کی خواہشات کے مطابق ہو بصورت دیگر بلوچستان میں امن اور حکومتی رٹ کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0