لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1754دن ہوگئے

اتوار 12 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1754دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ نیشنل وائس کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرنے اور بھر پور تعاون کرنے کی یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریاست نے اب ایک انوکھا کھیل شروع کردیا ہے ہمیں خدشہ ہے کہ لاپتہ بلوچ رہنماؤں کو ایک ایک کرکے پولیس یا ایف سی مقابلے میں شہید کیا جارہا ہے جیسے بعد میں دہشتگرد ظاہر کیا جارہا ہے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اب شکست کے بعد منفی ہتھکنڈوں پر آتر آئی ہے لیکن ہم یہ بات ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم لاوارث نہیں اور نہ ہی اپنے شہیدوں کی لاشوں کو چھوڑ سکتی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم نہ کبھی پہلے ہٹا ہے نہ ہٹے گا ایف سی نے ناکامی کے بعد اب شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا ہے بلوچ کارکنوں طلباء کے رہنماؤں سمیت معصوم بچوں کو چن چن کرشہید کیا جارہا ہے قومی تحریک پسند قوتوں کو راستے سے ہٹانے کیلئے اغواء کے بعد شہید کیا جاتا ہے بلوچ قوم ہر ظلم زیادتیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی بلوچ قومی تحریک کی جدوجہد میں شہداء کی قربانی لازوال تاریخ کا حصہ ہے بلوچ شہیدوں کا خوان رائیگاں نہیں جائے گا ریاست گھبراہٹ کا شکار ہے بلوچ قوم حقوق کی خاطر جدوجہد کررہی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ وہ تقریباً ہر دور کی ہر حکومت کے زیر عتاب رہے ہیں چاہے وہ ایران کا نوشیروان ہو یا اموی یزید ابن بویہ ہوں یا محمود غزنوی حکمران ہوں یا ارغون انگریز جنرل میر پور ید ر مزاحمت کرتے نظر آتے ہیں لیکن بلوچستان کی عمومی فضاء سیاسی مخالفت اور مسلح مزاحمت ہی کی رہی اس چپقلش کے دوران ہتھیار اور بارود کے ساتھ ساتھ خورد جنوں اور شعور ولاشعور کی آزمائش بھی ہوتی رہی مادی اخلاقی اور نفسیاتی حملوں اورمزاحمت کے سلسلے بھی جاری رہے اس دوران ملک میں کئی حکومتی برسر اقتدار آئی لیکن بلوچستان کے بارے میں سب کی پالیسی ایک ہی رہی یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0