لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1755دن ہوگئے

منگل 14 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1755دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں جئے سندھ متحدہ محاذ کا ایک وفد لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ سیاسی رہنماﺅں کارکنوں طلباءکی ریاستی اداروں کے ہاتھوں قتل بلوچوں کے خلاف کھلی جارحیت اور جنگ ہے بلوچ قوم کی سرزمین وسائل اور سمندر پر قبضہ کرنے کیلئے پنجابی استعمال کی جانب سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف فاشٹ طریقہ استعمال کرکے بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ہم بلوچ سیاسی رہنماﺅں کی جانب سے بلوچ سرزمین کے بیٹیوں کی شہادت اغواءکے رد عمل میں کئے گئے ہر قسم کے احتجاج میں سندھیوں کو شامل سمجھے انہوںنے کہاکہ سندھ کی قومی تحریک کی ایک ذمہ دار پارٹی کی حیثیت سے جسقم پہلے ہی بلوچ قوم کو سندھی قوم کی برادر قوم کا رتبہ دے چکی ہیں اس لئے سندھ کے قومی کارکنان پر یہ اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر ان احتجاج میں شامل ہوں وفد نے کہاکہ ہم اپنی پوری سندھی قوم کے ساتھ بلوچ بھائیوں کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں سندھی اور بلوچ اس ریاست میں مکمل غلام ہیں سندھی اور بلوچ قوم کو سائیں جی ایم سید اور مرحوم نواب خیر بخش مری کے نظریات اور راستے پر چل کر غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے جدوجہد کرنا چاہیے بلوچ سیاسی رہنماﺅں کارکنوں کا یہ تازہ لہو شہید اکبر شہید بالاچ خان اور شہید نواب نوروز خان کی قربانیوں کا تسلسل ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اب جو تحریک ابھری ہے اسے نہ منتشر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مفلوج اور نہ ہی پاکستانی قومیت کے دھارے کی جماعتیں اسے کیمو فلاج کرسکتی ہے عمومی حالات جدوجہد براہ راست عوامی شمولیت اور شربانوں میں بہتے ہوئے بلوچ لہو نے ریاست کو آج جس چیلنج سے دوچار کیا ہے اور عوام جس راستہ پر چل پڑے ہیں وہ اس کا صحیح اور شعوری انتخاب ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0