لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1812دن ہوگئے

منگل 2 دسمبر, 2014

مگر یہ سب کو میں شکست دی وہ مجھے شکست نہ دے سکے اگر مجھے شکست دیا ہے تو اس دفعہ اپنوں نے شکست دیا ہے
کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1812دن ہوگئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر سال کی طرح کوئٹہ سے کراچی لاپتہ افراد شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو منتقل کرتا ہوں اس دفعہ بھی 15نومبر کو اپنا کیمپ کراچی منتقل کردیا 16نومبر 2014کو کراچی پریس کلب کے سامنے کیمپ لگا کر اظہار یکجہتی کرنے والوں کا سلسلہ شروع ہوا اور دوسری طرف سے دھمکیاں شروع ہوئے پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون لوگ ہیں آہستہ آہستہ پتہ چلنے لگا اور معلوم ہوا کہ کون لوگ ہیں ماما قدیر بلوچ نے مزید کہاکہ مجھے آج کسی نے شکست نہیں دے سکا میں پانچ چھ سالوں سے ہر مصیبت اور دھمکیوں کا مقابلہ کرتا رہا ہوں اس میں خفیہ اداروں کے اہلکار آئی ایس آئی ،ایم ایف سی اور آئی بی نے میرے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا لیکن میں نے سب کا مقابلہ کرتا رہا حتیٰ کہ میرے جوان بیٹے جلیل ریکی کو شہید کیا گیا مگر میں پیچھے نہیں ہٹا 3000کلو میٹر پیدل لانگ مارچ میں میرے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا مگر یہ سب کو میں شکست دی وہ مجھے شکست نہ دے سکے اگر مجھے شکست دیا ہے تو اس دفعہ اپنوں نے شکست دیا ہے ماما نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ تین سال سے میں 10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کراچی پریس کلب میں ایک سیمینار کی صورت میں مناتا ہوں اس دفعہ بھی میں نے پریس کلب کراچی میں 10دسمبر کا بکنگ بھی کروایا ہے جو پریس کلب کراچی کے ریکارڈ میں موجود ہے اور دعوت نامہ کارڈ بھی چھپوائے گئے ہیں اور ہنڈ بلز بھی چھاپے گئے جس دن سے یہ کام شروع ہوا ہے اسی دن سے دھمکیوں میں تیزی آگئی تیزی آگئی ہے وہ اپنے آپ کو قوم پرست کہتے ہیں اور داعش کیلئے بھی کام کرنے کو کہتے ہیں اب پتہ نہیں حقیقت کیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پوری دنیا کو ہلاسکتے ہیں آپ کیا چیز ہے آپ یہاں سے چلے جائیں قمیض اوپر کرکے کہا کہ دیکھتے یہ پسٹل فوراً چلے جاؤ ورنہ تمہارا حشر دوسروں کی طرح ہوگا اور کسی کو بتائے بغیر فوراً چلے جاؤ اور اپنے موبائل بھی بند کرو میں اسی وقت ان کی رہنمائی میں اپنا سامان سمیٹ کر ٹرانسپورٹ پہنچ گیا وہ میری نگرانی کرتے رہے اب میرا سوال یہ ہے کہ حقیقی قوم پرست اور سرمچاروں کو کتنی غیرت ہے کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کرکے کیا کرسکتے ہیں نقاب کے علاوہ بھی میں ایک کو جانتا ہوں اب دیکھنا یہ ہے کہ 10دسمبر کا ہماکس کے سر بیٹھتا ہے میں اقوام متحدہ سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے مجھے تحفظ دے تاکہ میں انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا کام جاری رکھ سکوں کیونکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کا مسئلہ بہت بڑا سنگین مسئلہ ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0