لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1758دن ہوگئے

جمعہ 17 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1758دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے سینئر عہدیدار میر خورشید احمد جمالدینی اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ افراد شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے لفظہ ہونٹوں پر آتے ہی جذبات احساسات تصورات وخیالات ایک جنگی میدان کا منظر لیکر آتی ہے جہاں ہر طرف آگ کے شعلوں میں انسان جلتے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں بندوق بارود توپ اور گولوں کی گرجدار اآواز میں انسانوں کی آئیں اور سسکیاں سنائی دیتی ہے ان آہوں سسکیوں میں درد کے ساتھ ساتھ عزم اور پختہ جدوجہد کی جھلک بھی دکھائی دیتی انسانوں کی بھکرتی ہوئی لاشوں میں ماں کی ممتا بہن کی آنچل بلوچ کے جذبات وخواہشات ارمان اور خواب بھی ریزہ ریزہدکھائی دیتے ہیں جہاں امن کی علامت ناختہ بھی بلوچوں کے دکھ اور درد میں بارود کی برسات کو دیکھ کر خون کی آنسو بہاتی ہوئی نظر آتی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں اییک جنگ چل رہی ہے اور جنگ ہی کی وجہ سے شہداءبلوچ کے بقاءکی جنگ ہے جنگ زدہ بلوچستان میں میڈیا کو حالات کے بارے میں صحیح رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے اور لوگوں کے خیالات کو اجاگر کرنے پر پابندی ہے مگر مخصوص مراعات یافتہ میڈیا وصھافیوں کو ریاست کے مرتکب کردہ پالیسی کے مطابق گمراہ کن رپورٹیں شائع کرکے مراعات سے نوازنا روز کا معمول ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0