لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1762دن ہوگئے

منگل 21 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1762دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بی این ایم قلات ہنکین کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کے اعمال کیلئے سزا اور جوابدہ نہیں ہے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کی قتل کے مترادف قرار دیدی ہے ڈیتھ اسکواڈ جو اسلام وشریعت کی بات کرتا ہے یہ سفاک شخص اور اس کے آقا پاکستانی خفیہ ادارے وایف سی اہلکار جس طرح قومی تحریک پسند بلوچ سیاسی کارکنوں معصوم طلباء اساتذہ ڈاکٹروں اور دانشوروں صحافیوں اور ان کے بے گناہ رشتہ داروں کو ہدف بنا کر قتل کرتے ہیں اغواء کرکے دوران حراست عذاب قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیتے ہیں یا جنگلوں میدانوں پہاڑوں میں پھینک دیتے ہیں یا پھر اپنے لوگوں سے چوریاں کرواتے ہیں ڈاکے ڈلواتے ہیں مالدار افراد تاجروں خصوصاً ہندوؤں وڈاکٹروں کو اغواء کرکے ان سے بھاری تاوان لیتے ہیں اس کے پیش نظر مسلمان ومومن تو کیا یہ درند ے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں یہ لوگ شریعت وانسانیت کے باغی اور بلوچ قوم کے مجرم ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچ عوام کے ساتھ قابض پاکستانی خفیہ اداروں کی اس وحشیانہ سلوک وبلوچ نسل کشی کا ذمہ دار صرف فوج ایف سی اور خفیہ ادارے ہی ہیں میرے خیال میں مرکزی حکومت صوبائی حکومت پاکستان کا بے حس سول سوسائٹی ذرائع ابلاغ اعلیٰ عدلیہ اور مذہبی حلقے بھی بلوچ نسل کشی کے ج رم میں فوج ایف سی اور خفیہ ایجنسز کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0