لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1766دن ہوگئے

جمعہ 24 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1766دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بارکھان سے وڈیرہ مقبول بلوچ اپنے وفد کے ساتھ لاپتہ اسیران شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کہتے ہیں کہ ستارے ہمیشہ اندھیری رات میں چمکتے ہیں بالکل اسی طرح بلوچ لیڈر بابا خیر بخش کی قربانیوں اور وفات پانے سے پہلے پیغام اور حیر بیارمری کے علیحدہ علیحدہ پیغام نے بارکھان کے عوام کیلئے اندھیری رات میں ستاروں کاکام کیا اور شاید آج اس کا نتیجہ ہے کہ بارکھان میں کافی تبدیلی کا رجحان پایا جاتا ہے اور یہاں کے عوام مستقبل میں استعمار سے پنجہ آزمائی کرنے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں نوجوانوں کے ذہنوں میں مختلف سوال گردش کررہے ہیں اور وہ ان کے جوابات ڈھونڈ نے میں نکل چکے ہیں اب وہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کہاں سے شروع کریں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گذشتہ روز حب چوکی میں ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے آپریشن کے دوران چادر وچاردیواری کی پامالی کی خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آپریشن کے د وران عبدالستار مری کو شہید کردیا گیا ۔اور متعدد بلوچوں کو اغواءکرکے ساتھ لے گئے جس میں بلاول بلوچ سید حسن بلوچ ،سلطان بلوچ ،میاں خان بلوچ ،گل خان زمان خان ،ارباب مولا بخش سمیت کئی لوگوں کو اغواءکرکے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسی طرح پنجگور سے وسیم الرحمن ساجد کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی بلوچ کواتین پاکستانی اداروں کے ظلم وستم بربریت کی وجہ سے اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھانے میں مصروف ہیں دنیا بلوچ کواتین پر پاکستان کی جانب سے کئے گئے ظلم وزیادتی پر کیوں خامو ش ہیںجس طرح ہم دنیا کو یہ پیغام ہے کہ آپ چاہیے کچھ کریں یا نہ کریں میری ماں بہنوں کی اور بھائی بیٹوں کی شہادت اور پابند سلاسل سے ہماری حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور ہماری قومی تحریک جاری ہے اگر ہماری بلوچ خواتین کو حوصلہ افزائی نہیں ہوتی تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ جب تک ہم غلامی کی بندھنوں میں جھکڑے رہے ہیں گے اس وقت اقوام متحدہ سمیت کوئی انسان دوست تنظیموں سے حقوق کی توقع رکھنا بیکار ہے کیونکہ غلام کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مگر بلوچ نے ہمیشہ موت کو غلامی کی زندگی پر ترجیح دی ہے اس کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہزاروں نوجوان بوڑھے بچے خواتین پاکستان کی اذیت گاہوں میں غیر انسانی اذیت برداشت کررہے ہیں اور جب سے پاکستان نے بلوچستان کو اپنا مقبوضہ علاقہ بنایا ہے تو اب تک لاکھوں بلوچ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0