لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1767دن ہوگئے

ہفتہ 25 اکتوبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1767دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ نیشنل وائس کا ایک وفد لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی وفاداروں کی موجودگی بلوچ قومی تحریک میں خلل یدا کررہا ہے اور ان کو راستے سے ہٹانا بلوچ مزاحمت کاروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ آستین کا سانپ دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے پاکستانی خفیہ ادارے قومی غداروں سے ملکر لوگوں کو اپنے جان میں پھنسانے کی کوششیں کررہے ہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ حق اور باطل کے درمیان جنگی فتح صرف ایک کی اور باطل کے نصیب میں صرف اور صرف شکست لکھا ہے اسی لئے ایسے نازک موڑ پر تمام بلوچ کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے اپنے قومی فرض ادا کرنا ہوگا اگر اب بھی بلوچ عوام پاکستان کی منافقی کو سمجھ نہ پائے تو آنے والی نسلیں ہماری قبروں پر فاتحہ پڑھنے کے بجائے لعنت بھیجے گی بلوچ عوام کو سرزمین کا وہ قرض ادا کرنا ہوگا جو ہمارے کندوں پر ہے ہمیں بلوچ شہداءکی قربانیوں کا مان رکھنا ہوگا اور ان کی طرح مادر وطن کے ننگ وناموس کیلئے قربانی دینی ہوگی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ نوجوان کو اغواکرنا عام ہے لیکن بلوچ قومی تحریک کی عالمی پذیرائی پاچکی ہے تو یہ بھی بلوچ قوم کی اپنی جدوجہد اپنی قابلیت اور علمی صلاحیتوں سے بھرپور قومی تحریک پسند اسیران شہداءکے ہی وجہ سے اور جہد کا بلوچوں کی وجہ سے اب بھی چند دروخوف کے مارے گھروں سے باہر ہی ن ہیں نکلتے جہاں کہیں بھی بلوچ آبادیوں کو جاکر دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ غلام قوم کی سب سے بڑی علامت ڈر اب بھی موجود اور صرف اور صرف بلوچ آبادیوں میں ڈر خوف اور غربت کی نفرت نے صرف غلام بلوچ عوام کے دلوں میں جنم لیا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0