لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1769دن ہوگئے

اتوار 26 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1769دن ہوگئے لاپتہ افراد شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے مرکز ی کو آرڈینیٹر احقر عبدالحمید بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئین تمام اداروں پر حاوی ہوجائیگا اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حقیقی سزا ملے گی ب ہی بلوچوں کی ناراضی ختم ہوسکتی ہے انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے بارے میں ہومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی اس رپورٹ میں بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کو قرار دیا ہے لہذا بلوچوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا پہلا قدم لاپتہ افراد کی بازیابی ہے اگر یہ قدم نہ اٹھایا گیا تو کسی بھی صورت حالات ٹھیک نہیں ہونگے انہوںنے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ کو بھی لوٹ کھسوٹ کے بجائے عوام کی خدمت کرنا ہوگی ورنہ وہ دن دور نہیں جب عوام کا ہاتھ ان لٹیروں کے گریبان میں ہوگا بدقسمتی سے بولچوں کو ابتدائی سے نظر انداز کیا گیا ان کو طاقت ظلم وزیادتی سے دبانے کی کوشش کی گئی جنرل مشرف جیسا شخص نوسال تک ملک کا سیاہ سفید کا مالک بنا رہا جبکہ بلوچوں پر فوج کشی کے ضمن میں اپنے تمام پیش رووں پر بازی لے گیا ایٹمی اسلحہ سے لیس سپہ سالار 2005سے بلوچوں کا قتل عام کرتا رہا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ قومی تحریک بلوچستان اپنے عروج پر ہے اکیس ہزار بلوچ لاپتہ ہوچکے ہیں اور چار ہزار سے زائد بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ہمیں آجوئی کے سفر میں مل چکی ہیں اور ہم یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہرگز رے دن کے ساتھ ہماری آواز بلوچستان کے پہاڑوں میدانوں اور شہروں سے نکل کر عالمی دنیا کے ایوانوں تک پہنچ چکی ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0